ٹک ٹاک، فواد چودھری اور مبشر لقمان قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے اسے بہتر بنائیں

ٹک ٹاک، فواد چودھری اور مبشر لقمان قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے اسے بہتر ...

  



اتوار کے روز وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے صوبائی وزیر محسن لغاری کے صاحبزادے کی دعوت ولیمہ میں اینکر پرسن مبشر لقمان کو تھپڑ مار دیا۔ بعض عینی شاہدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ متعدد تھپڑ مارے اور اس کام میں وفاقی وزیر کے ساتھ موجود محافظوں نے بھی حصہ لیا۔ قومی اسمبلی میں سوال اٹھایا گیا تو فواد چودھری کا کہنا تھا کہ مبشر لقمان نے اپنے ایک پروگرام میں دعویٰ کیا کہ فواد چودھری کی ٹک ٹاک سے شہرت پانے والی لڑکی حریم شاہ کے ساتھ غیر اخلاقی ویڈیوز موجود ہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق انہوں نے شادی کی تقریب میں اینکر پرسن کو دیکھا تو ان سے دریافت کہ کیا ان کے پاس ویڈیوز موجود ہیں تو جواب ملا کسی اور کے پاس موجود ہیں اور انہیں یہ بتایا گیا ہے۔ اس جواب پر طیش میں آکر انہوں نے مبشر لقمان کو تھپڑ مارنا شروع کردئیے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ اداروں کے پاس ان کا اپنا بندوبست موجود ہے اور عدالتوں کے پاس اپنا، تاہم سیاستدانوں کا معاملہ میڈیا میں آتا ہے تو کوئی نوٹس نہیں لیتا۔ جو لوگ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بیٹھے ہیں اْن کی بھی کوئی عزت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں حکومت اور اپوزیشن کو مل کر قدم اْٹھانے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر کی تقریر کے جواب میں خواجہ آصف نے ان کو ماضی کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ جو بویا ہے وہی کاٹ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فواد چودھری بھی ٹی وی پروگرام کیا کرتے تھے، آج ان پروگرامز کا ریکارڈ نکال کر دیکھ لیا جائے کہ وہ کس کس کے بارے میں کیا کیا باتیں کرتے رہے، کس طرح کی الزام تراشی کرتے رہے۔ دوسری جانب اینکر مبشر لقمان نے وفاقی وزیر فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست تھانے میں جمع کروا دی ہے۔

وفاقی وزیر فواد چودھری کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ بعض صحافی دن رات کسی ثبوت کے بغیر لوگوں، خصوصاً سیاستدانوں پر، بہتان تراشی کرتے ہیں اور زیادہ تر الزامات کا کوئی ثبوت کبھی فراہم نہیں کیا جاتا۔ سنی سنائی باتیں خبر بنا کر پیش کی جاتی ہیں، پہلے ٹی وی چینلز پر ریٹنگز کی دوڑ تھی، اور اب سوشل میڈیا پر ویورز اور لائیکس کی دوڑ ہے۔ بہت سے ایسے اینکر بھی موجود ہیں جو خود کو سیاسی جماعتوں کے کارکن سمجھتے ہیں، جس جماعت سے ہمدردی ہو اس کے مخالفین کو زچ کرنے کے لیے بے پرکی اْڑاتے ہیں اور دور دور کی کوڑی لاتے ہیں۔ انہیں کوئی روکنے والا ہے نہ پوچھنے والا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک میں صحافت کی یہ نئی روش جو متعارف کروائی گئی تو موجودہ حکمران جماعت تحریک انصاف نے اس کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔ ان افواہوں کی ایک طویل فہرست ہے جنہیں گزشتہ دورِ حکومت میں خبریں بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مبشر لقمان سے پہلے سمیع ابراہیم بھی ایک شادی کی تقریب میں فواد چودھری کے تھپڑ کا شکار ہو چکے تھے۔ ان پر بھی فواد چودھری کا اعتراض تھا کہ ذاتی مخاصمت کی وجہ سے اْن کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔غور طلب بات ہے فواد چودھری کا نشانہ بننے والے دونوں ہی صحافی حکمران جماعت کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ فواد چودھری سے قبل مختلف جماعتوں کے سیاستدان اور وزراء ان کے نشانے پر رہ چکے ہیں لیکن آج تک کسی سیاستدان نے ہاتھ اْٹھا کر جواب دینے کی کوشش نہیں کی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حزب اختلاف کے سیاستدانوں میں قوت برداشت کہیں زیادہ نظر آتی ہے۔

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ میڈیا پر دن رات لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے اس سلسلے کو لگام دینا بے حد ضروری ہے۔ مغربی ممالک میں بناء ثبوت کسی کے بارے میں ایک لفظ بھی ادا کرنے کا تصور نہیں۔ برطانیہ کی عدالتوں سے ہمارے دو بڑے ٹی وی چینلز کو بے بنیاد الزام تراشی پر بھاری جرمانے بھی ہوچکے ہیں۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ یہی الزامات پاکستان میں بھی نشر کئے گئے، جن کو نشانہ بنایا گیا وہ بھی پاکستانی، لیکن انصاف کے حصول کے لیے متاثرین کو برطانیہ کی عدالتوں سے رجوع کرنا پڑا۔ دراصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر ملک میں ہتک عزت کے قوانین مضبوط کریں۔ عدالتوں سے بھی درخواست کی جانا چاہئے کہ ان معاملات میں کم سے کم وقت میں مقدمات کے فیصلے کیے جائیں۔

دوسری جانب جو راستہ فواد چودھری نے اپنایا ہے کسی صورت اس کی بھی تائید نہیں کی جاسکتی۔ وہ وفاقی وزیر ہیں، ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عام آدمی سے بڑھ کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ اگر ان کی منطق تسلیم کرلی جائے تو پاکستان کی عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر سماعت ہیں، اگر فریقین اپنا بدلہ خود ہی لینے کا فیصلہ کرلیں تو سوچئے ملک میں کیا منظر ہوگا۔ ہر شہری کے گریبان پر کسی دوسرے کا ہاتھ ہوگا۔ ملک میں سائبر کرائمر کا قانون موجود ہے، فواد چودھری خود پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں، انہیں چاہیے تھا کہ ایف آئی اے سے رجوع کرتے، قانون اپنا راستہ اپناتا، ممکن ہے تھوڑا وقت لگتا لیکن بالآخر الزام لگانے والے اینکر کو ثبوت فراہم کرنا پڑتے یا دوسری صورت میں سزا کا سامنا کرنا پڑتا۔ اسی طرح وفاقی وزیر نے اس معاملے میں اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھنے کی جو پیشکش کی ہے، وہ بناء تھپڑ مارے بھی کی جاسکتی تھی۔ ملک میں بہرحال قانون اور آزاد عدلیہ موجود ہے، سیاستدانوں کے پاس اختیا رموجود ہے، انہیں چاہیے قانون ہاتھ میں لینے کی بجائے اپنا اختیار استعمال کر کے سسٹم میں بہتری لانے کی کوشش کریں، غصے میں مزید بگاڑ پیدا کرنے سے گریز کریں۔

اس معاملے میں غور طلب کردار ان لڑکیوں کا بھی ہے جن کے آئے دن حکومتی وزراء کے ساتھ سکینڈلز آرہے ہیں۔ حریم شاہ اور صندل خٹک کی وزارت خارجہ میں وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے ویڈیو وائرل ہوئی تو وزارت خارجہ کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو سزا دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ تحقیقاتی رپورٹ آج تک منظر عام پر آئی اور نہ ہی کسی ذمہ دار کو سزا دی گئی۔ اگر اس معاملے پر کارروائی کرلی جاتی تو شاید یہ تماشہ تب ہی ختم ہوجاتا۔تاہم اب بھی ضرورت ہے کہ حکومتی ذمہ دار اس معاملے کی تحقیق کروائیں کہ یہ لڑکیاں کون ہیں اور حکومتی کابینہ کے اتنی قریب کیسے اور کس لیے ہیں۔ ملک اس وقت سنگین چیلنجز سے دوچار ہے اور وزراء کی توجہ ملکی معاملات سے زیادہ ٹک ٹاک پر نظر آتی ہے۔ ملک کو آگے لیجانا ہے تو ہر سطح پر اپنے کام سے غفلت برتنے والوں کی گرفت کرنا ہو گی۔

مزید : رائے /اداریہ