قاسم سلیمانی کا قتل اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری خون ریزی

قاسم سلیمانی کا قتل اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری خون ریزی
قاسم سلیمانی کا قتل اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری خون ریزی

  



اس وقت عالم عرب و عجم پر ایک ہیجانی کیفیت طاری ہے،اقوام مغرب بھی تھوڑی بہت پریشان نظر آ رہی ہیں، دُنیا کی سپریم طاقت امریکہ میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگجوئی کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ایران غم و غصے،بلکہ شدید کرب کی صورتِ حال کا شکار ہے،امریکہ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، ہر طرف انتقام،انتقام کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ امریکہ نے اپنے ایک پرانے حلیف ایرانی جنرل کوڈرون حملے میں ہلاک کر دیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے خطے میں جنگ کے آثار پیدا ہو گئے ہیں۔ عالمی سٹاک مارکیٹ، تیل کی عالمی منڈی اور سونے کی عالمی منڈی میں بھی ایک بھونچال آ گیا ہے۔قدس فورس کے چیف،62سالہ ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی کو ان کے میزبان پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ڈپٹی چیف ابو مہدی المہندس اور ساتھیوں سمیت بغداد کے ہوائی اڈے سے باہر نکلتے ہوئے امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ امریکہ نے اسے ایک ”فیصلہ کن دفاعی ایکشن“ قرار دیا ہے۔

امریکی صدر نے حملے کے بعد اپنے ٹویٹ میں پہلے امریکی جھنڈا لہرایا، پھر تھوڑی دیر کے بعد پیغام میں کہا کہ قاسم سلیمانی ایک عرصے سے ہزاروں امریکیوں کو ہلاک و زخمی کر چکا ہے اور مزید ایسا کرنے کی منصوبہ سازی کر رہا تھا۔ انہوں نے اس منصو بہ سازی کے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں۔ ایران نے اسے ”جنگی اقدام“قرار دیتے ہوئے انتقام لینے کا اعلان کر دیا ہے۔پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ترجمان نے اس واقعہ میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا بھی کہا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ اتنے بڑے جرم کے بعد بھی امریکہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو گا، ہم جنرل قاسم سلیمانی کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے ان کے مقاصد کو ضرور حاصل کریں گے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خا منہ ای نے جنرل اسماعیل قانی کو القدس فورس کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے، وہ جنرل سلیمانی کے نائب کے طور پر فرایض انجام دیتے رہے ہیں۔

عراق اس سے پہلے انقلاب ایران کے خلاف امریکہ و عرب ممالک کا ایک مورچہ تھا۔ بعث پارٹی کے صدام حسین کوجب عراق پر مسلط کیا گیا تھا۔ عراق بنیادی طور پر شیعہ اکثریتی ملک ہے، لیکن یہاں ایک سنی حکمران کو مسلط کرکے نہ صرف کردوں اور شیعوں پر عرصہئ حیات تنگ کر دیا گیا تھا، بلکہ سنی عوام بھی صدام حکمرانی کے باعث تکلیف میں تھے، لیکن شیعہ اورکرد بالخصوص صدام حکومت کے جبر و قہر کا شکار تھے۔انقلاب ایران کے بعد ایران،عراق جنگ دراصل انقلاب ایران کی راہ کھوٹی کرنے کی ایک امریکی سازش تھی، جس میں سنی عرب حکمران بھی شامل تھے۔آٹھ سال تک جاری رہنے والی اس جنگ نے نہ صرف ایرانی عوام کو اپنے انقلاب کی حفاظت کے لئے کمر بستہ کیا، بلکہ ان کی نوجوان نسل جنگ کی بھٹی میں صیقل ہو گئی۔ پانچ لاکھ ایرانی اس جنگ میں کام آئے تھے۔دوسری طرف اقوام مغرب اور عربوں کی معاونت سے صدام حسین خطے میں ایک طاقت کے طور پر اُبھرے، انہوں نے اپنی عسکری قوت میں اضافہ کیا اور اپنی جابرانہ گرفت کو بھی مضبوط کیا۔ ایرانی طویل جنگ کے باعث کمزور ضرور ہوئے، لیکن ان کی ہمت اورجرأت میں کمی نہیں آئی، اسی دور میں رہبر انقلاب امام خمینی نے انقلاب ایران کی حفاظت کے لئے پاسداران ِ انقلا ب اسلامی کی بنیاد رکھی۔ایران عراق جنگ کے دوران پاسداران نے فقیدالمثال کارنامے سر انجام دئیے،

حتیٰ کہ 2003ء میں صدام حسین کے امریکی افواج کے ہاتھوں خاتمے،اس کے بعد عراق اور اس کے بعد شام میں ایرانی اثر و نفوذ قائم کرنے اور پھیلانے میں پاسداران نے بنیادی کردار ادا کیا۔ جنرل سلیمانی اس حوالے سے مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔

امریکی، عراقی حکومت اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثرات سے پریشان ہیں۔ سنی عراقی عوام بھی اپنے شیعہ حکمرانوں سے نالاں ہیں، وہ اپنی حکومت کو غیر ملکی مفادات کا تحفظ کرنے کی بجائے عراقی عوام کی بہتری کے لئے کام کرنے کے مطالبات کر رہے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ نے اپنے ٹویٹر پیغام میں ایک ایسی وڈیوبھی اَپ لوڈ کی ہے، جس میں عراقی عوام خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ابو مہدی المہندس ایک سابق عراقی رہنما تھے، جو عراقی پاپولر موبلائزیشن فورسزکی کا رروائیوں کو دیکھتے تھے۔یہ فورس ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا پر مشتمل ہے اور باقاعدہ طور پر عراقی مسلح افواج کا حصہ ہے۔ سلیمانی اور مہندس، دونوں ایک عرصے سے امریکی نظروں میں کھٹک رہے تھے۔ 2007ء میں ایک کویتی عدالت نے المہندس کو اس کی غیر موجودگی میں سزائے موت دی، اس پر 1983ء میں کویت میں فرانسیسی اور امریکی سفارت خانوں پر حملوں کا الزام تھا۔سلیمانی اور مہندس کی امریکی مفادات کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیاں امریکہ کو ایکشن لینے پر اُبھار رہی تھیں۔

سلیمانی نے کتیب حزب اللہ کے ذریعے بھی خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا کام لیا،کیونکہ اس ملیشاکے پاس ڈرون کو استعمال کرنے کی صلاحیت تھی۔ یہ لوگ ڈرون کے ذریعے امریکی اڈوں پر موجود فوجیوں کی لوکیشن بارے فوٹیج حاصل کرتے تھے اور پھر کیتوشا راکٹوں کے ذریعے حملہ کرکے انہیں ہلاک کرتے تھے۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں یہ تمام جدید آلات و ہتھیار سلیمانی نے فراہم کئے تھے۔ ایران نے حال ہی میں ایک ایسا ڈرون بھی تیار کیا ہے،جو ریڈ ار سسٹم کو دھوکہ بھی دے سکتا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کے ذریعے یہ ڈرون بھی کتیب حزب اللہ کے ہا تھوں میں پہنچ چکا تھا، اس طرح اس کی حملہ کرنے کی صلاحیت دوچند و گئی تھی۔

شمالی عراق کے شہر کرکوک میں واقع ایک ملٹری اڈے پر27دسمبر 2019ء کو 30راکٹ داغے گئے،جس کے نتیجے میں ایک سول امریکی کنٹریکٹر ہلاک،4امریکی اور 2عراقی سروس مین زخمی ہوئے تھے۔ امریکہ نے کتیب حزب اللہ کو ان حملوں کا ذ مہ دارقرار دیا اور دو دن بعد حزب اللہ کے ٹھکانوں پر ہوائی حملے کرکے 25جنگجوہلاک اور 55زخمی کر دئیے۔ جوابی کا رروائی میں ایران نواز جنگجو گروپوں نے بغداد میں امریکی سفارتخانے پر بلوہ کیا،جس کے نتیجے میں 2 جنوری بروز جمعرات امریکہ نے نہ صرف اضافی فوجی دستے عراق روانہ کئے،بلکہ ایران کو سبق سکھانے کا بھی اعلان کیا، پھر اس اعلان کے اگلے ہی روز امریکہ نے ڈرون حملہ کرکے قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کو ساتھیوں سمیت ہلاک کر کے علاقے میں جنگ کی صورت حال پیدا کر دی۔قاسم سلیمانی،ایران میں ایک بہت ہی انتہائی اہم شخصیت کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے تھے۔انہیں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بعد انتہائی اہم شخصیت سمجھا جاتا تھا۔وہ ایران کے دوسرے انتہائی طاقتور شخص تھے۔ کئی حلقے انہیں مستقبل کا ایرانی صدر بھی کہتے تھے۔ قاسم سلیمانی قدس فورس کے سربراہ تھے۔یہ فورس ایرانی پاسداران ِ انقلاب اسلامی کا اعلیٰ ترین بیرونی ونگ ہے،جو ایران سے باہر ریاست ایران کے حلقہ اثر کو قائم کرنے، مستحکم کرنے اور ایرانی قومی مفادات کے تحفظ کے لئے سر گرم عمل ہے۔عراق، شام اور لبنان کے ایران کے ساتھ عسکری تعلقات کو موثر بنانے میں بھی قاسم سلیمانی کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ امریکہ نے گزشتہ سال اپریل میں قدس فورس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ سلیمانی اس فورس کی 21سال تک قیادت کرتے رہے ہیں اور اسے ایک قابل بھروسہ و طاقتور قوت بنانے میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔

قاسم سلیمانی مشرقی ایران کے شہر رابور میں پیدا ہوئے، لیکن 13سال کی عمر میں انہیں اپنا آبائی شہرچھوڑنا پڑا تاکہ وہ اپنے والد کی طرف واجب الادا شاہ حکومت کے قرضے کی ادائیگی کا بندوبست کر سکیں، حتیٰ کی 1979ء میں شاہ کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور قاسم سلیمانی خمینی کی حکومت کا حمایتی بن گیا۔اس دور میں خمینی حکومت نے انقلاب ایران کی حفاظت کے لئے پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے نام سے ایک نیم فوجی تنظیم قائم کی، قاسم سلیمانی اس میں شامل ہو گیا اور پھر اپنی ساری زندگی اس کی نذر کر دی۔ دو سال کے بعد عراقی حملہ آور فوج کے خلاف محاذ ِ جنگ پر اس کی بے جگری سے لڑنے کی صلاحیتوں کا بھی اظہار ہوا۔اس کی فکری اور عملی تحریک نے اسے نمایاں کیا۔ یہاں اس کی ملاقاتیں کئی غیر ملکی نیم فوجی تنظیموں کے لوگوں کے ساتھ بھی ہو ئیں، اس طرح اس کا وژن وسیع ہوا اور اس کے ذہن میں کسی ایسی ہی فعال اور موثر عسکری تنظیم کی بنیادیں رکھنے کا خیال پیدا ہو۔قدس فورس کا قیام اسی وژن کا نتیجہ ہے۔2003ء میں جب عراقی حکومت کا خاتمہ ہوا تو قاسم سلیمانی قدس فورس کا سربراہ تھا اور اس پر الزام تھا کہ وہ ایسے شیعہ عسکری گروہوں کو سپورٹ کرتا رہا ہے،جو ہزاروں عراقیوں اور اتحادی سپاہ کو ہلاک کر چکے ہیں۔

جب عراق میں خانہ جنگی پھوٹی اورگلی محلوں میں لڑائی شروع ہو گئی تو قاسم سلیمانی اس خانہ جنگی میں شریک رہا۔ امریکیوں کے ساتھ نہ صرف لڑائی میں شریک رہا،بلکہ ان کی معاونت بھی کرتا رہا۔ اس کا مقصد نئی عراقی شیعہ حکومت کے قدم مضبوط کرنا تھا۔2009ء میں تہران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے میں بھی اس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ گزشتہ مہینو ں میں بغداد میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کو کچلنے میں بھی قدس فورس نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد بغداد میں شیعہ حکومت قائم ہوئی،اپنی موت سے 18ماہ قبل قاسم سلیمانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک کھلے عام وارننگ جاری کی تھی، جس میں کہا تھا کہ ”تم جنگ شروع کرو گے، لیکن ختم ہم کریں گے“……طبل ِ جنگ تو امریکہ نے بجا دیا ہے اب باری ایران کی ہے کہ وہ کیسے ری ا یکٹ کرتا ہے؟……یہ بات طے شدہ ہے کہ ایران کو امریکی کارروائی کا جواب دینا ہو گا،ایران ایسا کرنے پر قدرت رکھتا ہے، لیکن امریکہ بھی چپ نہیں رہے گا۔اس طرح جنگ کا دائرہ پھیلتا چلا جائے گا۔ تباہی مسلم ممالک کی ہو گی۔ اللہ خیر کرے……“

مزید : رائے /کالم


loading...