ریاستِ مدینہ؟

ریاستِ مدینہ؟
ریاستِ مدینہ؟

  



پاکستانی معاشرے میں دانائی کا معیار،دولت مند یا اقتدار و اختیار کا مالک ہونا ہے…… ”اونٹوں کی ایک طویل قطار لدی جا رہی تھی“…… ایک پرانی حکایت کا خلاصہ! سرِ راہ کسی شخص نے دیکھا کہ ہر اونٹ پر ایک طرف جنس ہے، جبکہ دوسری طرف کنکر! اس نے اونٹوں کے ساتھ چلتے ایک آدمی سے پوچھا، آپ ہی ان کے مالک ہوتے ہیں؟ ”نہیں“…… وہ بولا: ”تجارتی قافلے کا مالک سب سے آخر میں چلا آتا ہے“۔وہ اپنی جگہ رُک گیا۔ اللہ اللہ کرکے اس کی تاجر سے ملاقات ہوئی، کہا: مَیں آپ سے ایک مفید بات کرنا چاہتا ہوں۔ وہ بولا، ضرور! مجھے بہت اچھا لگے گا۔ یہ ”قافلہ آپ ہی کا ہے، ناں؟ جواب تھا۔ ”جی!“ استفسار کیا کہ شاید ایک طرف آپ نے گندم لاد رکھی ہے اور دوسری طرف کنکر، ایسا کیوں؟ بتایا دونوں طرف کا وزن برابر رکھنے کے لئے! بولا، اگر آپ دوسری طرف بھی برابر گندم ہی رکھ لیں تو یہی کام آدھے اونٹوں سے لیا جا سکتا ہے، یا اتنے ہی اونٹوں سے دُوگنا! وہ اس قابلِ عمل تجویز سے بہت خوش ہوا اور پوچھا: ”آپ کتنے اونٹوں کے مالک ہیں؟“…… اس کا خیال تھا کہ ایسے دانا کو مجھ سے دوگنا اونٹوں کا مالک ہونا چاہیے! جواب: ”ایک کا بھی نہیں“…… یہ سنتے ہی اس کے مزاج میں ”تبدیلی“ آ گئی۔ کہا، مَیں ایسے عقل مند اور عقل مندی سے باز آیا، جس کے پاس ایک اونٹ بھی نہیں۔ اگر تم کوئی شُد بُد یا سرت گیان رکھتے تو پلّے کچھ مال وزر بھی ہوتا!“

ماں بولی (پنجابی) کا ایک اہم محاورہ ہے کہ ”جنہاں دے گھر دانے، اوہ کملے وی سیانے“…… (جن کے پاس زر و متاع ہے، وہ عقل کے بغیر ہی عاقل ٹھہرے) ہمارے موجودہ دانشور، جنہیں قسمت نے سنوار دیا ہوا ہے، بھی اکثر و بیشتر یہی درس و تدریس دیتے چلے آتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ”قسمت علم سے بڑی ہے“ کے عنوان سے کالم پڑھنے کو ملا۔ قسمت سے ان کی مراد ”دولت“ ٹھہری۔ ان کے بقول: ”خلیفہ ہارون الرشید کہا کرتا تھا، مقدر ہمیشہ علم سے بڑا ہوتا ہے۔ مَیں نے بڑے بڑے عالموں کو خوش قسمت جاہلوں کے پاس ملازم دیکھا ہے“۔چونکہ یار لوگوں کو بوجوہ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں، اس لئے ہمارے مقبول کہانی باز عموماً خلاف واقعہ باتیں کر جاتے ہیں۔ آہ! انہیں کون یاد دلائے کہ ”باب العلم“ نے فرمایا تھا: ”اللہ رب العزت نے ہمیں علم عطا فرمایا اور مخالفین کو دولت! اور ہم اپنے مالک کی اس تقسیم پر بہت راضی ہیں“۔ علم کی دولت اور دولت کے علم میں بُعدالمشرقین ہے۔واقعہ یہ ہے کہ لوگ دولت، اقتدار، حکومت اور اختیار کو منجانب اللہ رحمت یا اپنے عقل مند، بلکہ عقلِ کُل ہونے کا راز سمجھتے ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ صد فیصد غلط! اس کے بالکل برعکس معاملہ ہے۔ بدقسمت ترین اور پاگل ہیں، وہ لوگ، جو اسے اللہ کی رضا اور دانائی کا ماحصل قرار دیتے ہیں۔ اسلامی و انسانی نقطہ ء نظر سے تو یہ ایک امتحان ہے۔ اس میں ناکام ہونے والا مارا گیا۔

یہ حکایت مجھے حکومت کا تازہ فیصلہ دیکھ کر یاد آئی،جس کے مطابق سی ایس ایس امتحان کے لئے عمر میں دو برس کمی کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اب سرکاری ملازمین کے امتحان کے لئے عمر کی حد میں کوئی چار سال کمی کی تجویز طے پا گئی ہے، جبکہ قبل ازیں یہ تیس سے بتیس سال قرار پائی تھی۔ نیز سی ایس ایس کا نام تبدیل کرکے سنٹرل سروس آف پاکستان رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے!اربابِ اختیار کے من میں جو آئے کریں، یہ وہی کریں گے، جو ہمیشہ سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ بیگانہ از شعور! خالی از حکمت!! ریاستِ مدینہ کی رو سے فضول، نامعقول اور سراسر اضافی! انگریز نے یہ نظام اپنی خاص ضرورت کے لئے وضع کیا تھا۔ انہوں نے تہذیب و اقدار سے قطع نظر بدیسی قوم پر حکومت کرنا تھی۔

اگر ہم ذرا بھی شعور رکھتے تو ”ریاستِ مدینہ“ میں یہ نہ ہوتا جو ہو رہا ہے، بلکہ وہ کچھ ہوتا جو نہیں ہو رہا۔ وہ کون سی خباثت یا غلاظت ہے، جو نوکر شاہی کا طرۂ امتیاز نہیں۔ ان مسائل و رذائل کی ایک اہم وجہ، چناؤ کے طریق کار کے علاوہ عمر کی متعینہ حد ہے۔ اسلامی حکمت و مصلحت اور اعلان نبوت کے پس منظر میں، ماسوائے عسکری حلقہ جات، یہ کم از کم چالیس سال ہونی چاہیے!اگر ہم صرف سرکار ملازمتوں کی عمر میں کمی کی بجائے مزید بڑھا دیں تو آدھی سے زیادہ قباحتیں از خود ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ اس کے لئے لیکن زوایہ ء فکر مختلف درکار ہے۔ایک زمانہ ہوتا ہے، ہم مکھی پر مکھی مارنے کے عادی ہیں اور اب کیا کریں کہ یہ ہماری فطرتِ ثانیہ بن چکی ہے!

مزید : رائے /کالم