قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشن ڈویلپمنٹ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی

قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشن ڈویلپمنٹ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی
قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشن ڈویلپمنٹ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی

  



صوبائی وزیر سکول ایجوکیشن ڈاکٹر مراد راس نے کہا ہے کہ پنجاب کے سکولوں میں 7500 اساتذہ کی کمی ہے، جس کو اساتذہ کی ریشنلائزیشن کے ذریعے پورا کریں گے۔ جبکہ سرکاری سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹرسز کو خصوصی الاؤنس دیں گے، جس سے سکول کے نتائج بہتر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سکول سربراہان کو خصوصی مشاہرہ دیں گے، جس سے ان کی سکولوں میں دلچسپی بڑھے گی اور توقع کے مطابق نتائج نہ ملنے کی صورت میں ذمہ داری کا تعین ہو گا۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ 7500 اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے اسے ریشنالائزیشن کے ذریعے پورا کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ سربراہان کو خصوصی مشاہرہ دے کر ان کی انتظامی اور تدریسی صلاحیتوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے گا، تاکہ ”قوم کے بچوں کی تعلیم و تربیت میں خصوصی دلچسپی لے کر، تعلیمی اور تربیتی معیار کو بڑھائیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج کل کے دور میں فنانشنل ضروریات کو اولیت دی جاتی ہے…… اور دینی بھی چاہئے، کیونکہ ان کی اپنی فیملی اور بچے بھی تو اسی معاشرے کا ایک حصہ ہیں۔ ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جانا لازم ہے۔ ہماری نظر میں، اس سے بھی اہم تر بات ان کے اندر کمٹمنٹ کا جذبہ، پیدا کرنا ہوگا جس سے اعلیٰ نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس جذبے کو اجاگر کرنے کے لئے ان کی باقاعدہ تربیت، یعنی ٹریننگ کا تسلسل ضروری ہے۔ مغربی پاکستان کے دور کی بات ہے کہ لاہور میں ایک اور مرکز توسیع و تعلیم کے نام سے بنایا گیا تھا، جس میں مغربی پاکستان بھر سے اساتذہ، سربراہان، تربیت کے لئے آیا کرتے تھے اور تازہ ترین علم اور تربیت سے لیس ہو کر واپس اپنے اداروں میں پہلے سے بہتر انداز میں پڑھانے کے قابل ہو گئے تھے۔ یاد رہے! تعلیم و تربیت ایک مسلسل عمل ہے، اس عمل کو مفید سے مفید تر بنانے کے لئے، اس کا جاری رہنا بہر حال اساتذہ سربراہان میں ایک کمٹمنٹ کے جذبہ کو زندہ رکھے گا اور بہتر نتائج کے حصول میں ممدو و معاون ثابت ہوگا۔

اس کے بعد ادارہ توسیع تعلیم کو ڈائریکٹوریٹ آف سٹاف ڈویلپمنٹ کی شکل دے دی گئی اور تمام ایلیمنٹری ٹیچرز، ٹریننگ کالجز، اس کے ساتھ منسلک کر دیئے گئے۔ گویا ٹریننگ بھی دی جاتی رہی اور ان کے انتظامی امور بھی اسی کے ذریعے نمٹائے جاتے رہے۔ یہ تمام تر کام اساتذہ،گویا ماہرین تعلیم کے ہی سپرد تھے۔ جو احسن طریق سے چلائے جا رہے تھے۔ نا معلوم کس کی نظر بد لگی اور ان اداروں کو چلانے کے لئے گروپ کا انتخاب کیا گیا اور تمام آسامیاں بھاری بھاری معاوضوں کے ساتھ پُر کی گئیں۔ کہاں ایک ماہر تعلیم ایک مقررہ گریڈ، گویا 17 گریڈ سے لے کر 20 گریڈ تک رہتا تھا، اچانک ان تمام اسامیوں کے ساتھ لاکھوں روپے کے الاؤنسز کی شکل میں، جوڑ دیئے گئے۔

اس کے علاوہ ایک یونیورسٹی آف ایجوکیشن کا قیام عمل میں آیا، جو ماہرین تعلیم کا ایک بہت پرانا اور حقیقی مطالبہ تھا۔ جس کے قیام کے بعد، بعض ایلیمینٹری ٹیچرز ٹریننگ کالجز کی بھی تقسیم کی گئی۔ کچھ کا تو یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے ساتھ الحاق کیا گیا اور کچھ ڈی ایس ڈی کے ساتھ ہی رہے۔ آج کل اس ادارے کا نام قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ رکھ دیا گیا اور گروپ پوری طرح، اس پر براجمان ہے…… ”جس کا کام اسی کو ساجھے“ ایک محاورہ ہے جس پر عمل کیا جانا از بس لازم ہے۔ ایک ڈاکٹر کو تعلیمی سربراہ بنا دیا جائے، ایک تو اس کی ڈاکٹری کی تعلیم سے، جو فائدہ قوم نے حاصل کرنا تھا، اس سے محروم ہوتے۔ دوسرے یہ کہ ایجوکیشن کے مسائل ایسے ہیں جو کوئی دوسرا حل نہیں کر سکتا۔ وزیر تعلیم کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ کے تدریسی اور انتظامی امور، ماہرین تعلیم کے سپرد کئے جائیں۔ جبھی بہتر تعلیم و تربیت کی توقع کی جا سکتی ہے۔ گروپ کا تعلق سول انتظامی امور سے متعلق ہے۔ ان کو اپنا کام کرنے پر مامور کیا جائے۔

اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئے اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے، اداروں میں ظہر کی نماز کا اہتمام کیا جائے اور تمام سربراہان کو سرکلر کے ذریعے مطلع کیا جائے کہ طلبہ و طالبات کو نماز قائم کرنے کی تلقین کریں،اساتذہ بھی اس کا عملی مظاہرہ کریں۔ پرانے سسٹم کی جگہ اب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے لی ہے، اس کا سربراہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ہوتا ہے۔ اس کے چیئرمین اور باقی ممبران کی تقرری تا حال نہیں ہوئی…… اس کی وجوہات محکمہ تعلیم ہی جانے! حکومت پنجاب نے سربراہان کے لئے ایک فنڈ این ایس بی کے نام سے دینا شروع کیا ہے،جس سکول میں سفیدی کرانا، مین گیٹ کا درست کرانا اور چھوٹی چھوٹی چیزیں خریدنے کے لئے، سکول ڈویلپمنٹ فنڈ کا استعمال کیا جانا سربراہ ادارہ کی ہی ذمہ داری ہے، لیکن اس کے صحیح استعمال کو، یقینی بنانا بھی محکمہ تعلیم کی ذمہ داری ہے، اس میں کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہئے، نہ ہی محکمہ تعلیم کے افسروں کی طرف سے اور نہ ہی۔ سربراہان کی طرف سے۔ ہر شخص اپنا اپنا احتساب کرے،کیونکہ خود احتسابی بہترین احتساب ہوا کرتا ہے۔

حال ہی میں ایک مثال ہمارے سامنے آئی ہے، اس کا ذکر کیا جانا خالی از فائدہ نہیں ہوگا۔ محکمہ تعلیم کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ اجلاس، ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت ہوا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور احمد کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے، ڈسٹرکٹ ریویو کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر ننکانہ نے کہا کہ ضلع بھر کے سکولوں میں ہر ممکن سہولت مہیا کرنا، ضلی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر حافظ محمد نجیب، چیف ایگزیکٹو آفیسر (ایجوکیشن اتھارٹی) ارشاد احمد، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل اینڈ فی میل) ڈپٹی ڈی ای اوز، سمیت محکمہ تعلیم کے افسروں نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کو سکول کی سیکیورٹی،

صفائی ستھرائی کے انتظامات، واش رومز کی دستیابی میں مزید بہتری لانے کی ہدایات جاری کیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ ایک ضلعی انتظامیہ کے سربراہ، خصوصی دلچسپی لے کر سکولوں کے انتظامات کو بہتر سے بہتر کرنے کے لئے اقدامات کے خواہاں ہیں۔ اسی طرح پنجاب بھر کے ضلعی انتظامیہ کے سربراہان، اپنے دیگر فرائض منصبی کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ، خصوصاً تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی، صفائی ستھرائی کے انتظامات وغیرہ کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں اور اداروں کو مناسب ہدایات جاری کرتے رہیں، کیونکہ جہالت کو دور کرنا اور تعلیم کی روشنی کو پھیلانا…… اسلامی تعلیم کی پہلی ترجیح ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو، آمین۔

مزید : رائے /کالم