نیب نے خورشید شاہ کیخلاف دستاویزی ثبوت عدالت میں پیش کردیئے

نیب نے خورشید شاہ کیخلاف دستاویزی ثبوت عدالت میں پیش کردیئے

  



سکھر(این این آئی)پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ اور ساتھیوں کے خلاف ریفرنس کی سماعت 17 جنوری تک ملتوی کردی گئی ہے۔ نیب نے 14 جلدوں پر مشتمل دستاویزی(بقیہ نمبر41صفحہ7پر)

 ثبوت عدالت میں پیش کردیئے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ ان کے صاحبزادوں ایم پی اے فرخ شاہ، زیرک شاہ،داماد وبھتیجے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سید اویس قادر شاہ سمیت اٹھارہ افراد کے خلاف ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں تیار کردہ نیب کے ریفرنس کی سماعت سکھر کی احتساب عدالت میں ہوئی۔سماعت کے موقع پر خورشید شاہ کو ایمبولینس میں این آئی سی وی ڈی اسپتال سے عدالت لایا گیاتاہم سماعت کے آغاز پر نیب ٹیم کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے سماعت ایک بجے تک ملتوی کردی جس کے دوران خورشید شاہ کے وکیل مکیش کمار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیب کی ٹیم کے پیش نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ریفرنس کو خورشید شاہ کے خلاف سیاسی انتقامی کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب کیس ہے جس میں ملزمان تو وقت پر عدالت میں پہنچ جاتے ہیں لیکن نیب کی ٹیم نہیں پیش ہوتی تاہم جب عدالت کی جانب سے دوبارہ ریفرنس کی سماعت شروع کی گئی تو نیب کے وکلاء کی ٹیم نے پیش ہوکر خورشید شاہ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف 14 جلدوں پر مشتمل دستاویزی ثبوت عدالت میں پیش کردیئے اور جس پر عدالت نے خورشید شاہ کا مزید دس روزہ جوڈیشل ریمانڈ دیتے ہوئے ریفرنس کی سماعت 17 جنوری تک ملتوی کردی۔پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید احمد شاہ نے کہا کہ جوفیصلے پارلیمنٹ سے ہوتے ہیں وہ ملک وقوم اورحکومت کے لیے پائیدار اور مثبت ثابت ہوتے ہیں اور ان کے نتائج بھی حوصلہ افزا ہوا کرتے ہیں۔ خورشید شاہ نے مزید کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال میں حکومت کو شہید بھٹو کی طرح اپنا کردار ادا کرنا چاہیے لیکن حکومت اس حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کررہی ہے۔

 خورشید شاہ ریفرنس

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...