ماڈ ل کورٹ، قتل کیس، مجرم کو سزائے موت، 4لاکھ جرمانہ ادا کرنیکا حکم 

ماڈ ل کورٹ، قتل کیس، مجرم کو سزائے موت، 4لاکھ جرمانہ ادا کرنیکا حکم 

  



ملتان ( خبر نگار خصو صی)   جج ماڈل کورٹ ملتان اختر حسین کلیار نے سینئر صحافی سعید مکول کی بیوی کے قاتل کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302کے تحت جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم سناتے ہوئے ورثاء کو چار لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ جبکہ دفعہ 324کے تحت مجرم کو(بقیہ نمبر15صفحہ12پر)

 مزید پانچ سال قید اور 50ہزارروپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے اسی طرح بچے محمد شعیب کوزخمی کرنے کی پاداش میں 337ایف ٹو کے تحت مضروب کو 50ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم سنایا ہے۔ فا ضل عدا لت میں تھا نہ بوہڑ گیٹ کے استغاثہ کے مطابق سزاپانے والے مجرم محمد سلیم ولد اسماعیل جوکہ مقتولہ شاہینہ بی بی کے سابق (مرحوم) خاوند محمد اسلم کابھتیجا تھا نے جائیداد کے لالچ میں سینئر صحافی محمدسعید مکول کے گھر 4جولائی 2019ء کی شب حملہ آوور ہوکر ان کی بیوی شاہینہ بی بی کو چھریوں کے پے درپے وار کرکے قتل جبکہ ان کے آٹھ سالہ بیٹے محمد شعیب کو شدید زخمی کردیا تھا جس پر پولیس تھانہ بوہڑ گیٹ میں زیر دفعہ 302,324کے تحت مقدمہ نمبر 110\19درج کیا گیا تھا۔مقامی پولیس اور پراسیکویشن کی جانب سے چالان مکمل ہونے پر 23نومبر 2019ء کو چالان سیشن عدالت کو بھجوایا گیا تھا جبکہ ماڈل کورٹ نے 30ستمبر 2019کو ملزم پر فرد جرم عائد کی تھی۔ماڈل کورٹ نے تین ماہ کے ریکارڈعرصہ میں کیس کا ٹرائل مکمل کرتے ہوئے مورخہ 6جنوری کو وکلاء کے فائنل دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو گزشتہ روز 7جنوری 2020ء کو سنایا گیا۔فیصلہ کے مطابق جرم ثابت ہونے پر ایڈیشنل سیشن جج و جج ماڈل کورٹ نمبر 2اختر حسین کلیار نے مجرم محمد سیلم ولد اسماعیل کو تعزات پاکستان کی دفعہ 302کے تحت سزائے موت کا حکم سناتے ہوئے ورثاء کو چار لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کو حکم دیا ہے جبکہ دفعہ 324کے تحت مجرم کو مزید پانچ سال قید اور 50ہزارروپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے اسی طرح بچے محمد شعیب کوزخمی کرنے کی پاداش میں 337ایف ٹو کے تحت مضروب کو 50ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم سنایا ہے استغاثہ کی جانب سے شعبہ پراسیکویشن اور مدعی کے وکیل گوہر جاویدپراچہ ایڈووکیٹ نے استغاثہ کی پیروی کی۔تاہم دوسری جانب فیصلہ آنے پر سینئر صحافی محمد سعید مکول نے اپنے وکیل گوہر جاوید پراچہ کے ہمراہ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں مقامی پولیس،پراسیکویشن اور عدلیہ کی جانب سے مختصر عرصہ میں انصاف ملنے سے قانون کی بالا دستی قائم ہوئی ہے جس پر وہ خدا تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں انھوں نے مقامی پولیس،پراسیکویشن اور عدلیہ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے مجرم کو ملنے والی سزا کے مطابق جلد کیفر کردار تک پہنچانے کی اپیل کی ہے۔   

سزا

مزید : ملتان صفحہ آخر