سرسید محمد سعد اللہ نے آزاد ی کیلئے تن من دھن قربان کر دیا،پروفیسر عبید الرحمن

سرسید محمد سعد اللہ نے آزاد ی کیلئے تن من دھن قربان کر دیا،پروفیسر عبید ...

  



لاہور(جنرل رپورٹر،لیڈی رپورٹر)سر سید محمد سعداللہ نے حصول آزادی کیلئے اپنا تن من دھن قربان کر دیا۔ ان کا شمار قائداعظمؒ کے معتمد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ ہمیں اپنے مشاہیر کو یاد رکھنا چاہئے، آج انہی مشاہیر کی قربانیوں کی بدولت ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر عبیدالرحمن نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان‘ لاہور میں تحریک آزادی کے رہنما سر سید محمد سعداللہ کی 65ویں برسی کے سلسلے میں نئی نسل کو ان کی حیات و خدمات کے متعلق آگاہ کرنے کیلئے منعقدہ خصوصی لیکچر کے دوران کیا۔اس لیکچر کااہتمام نظریہئ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔

پروگرام کا آغاز حسب معمول تلاوت قرآن حکیم‘ نعت رسول مقبولؐ اور قومی ترانے سے ہوا۔ پروفیسر عبیدالرحمن نے کہا کہ سر سید محمد سعداللہ گوہاٹی (آسام) میں 21 مئی 1885ء کو پیدا ہوئے۔ سونا رام ہائی سکول گوہاٹی سے انٹر کا امتحان پاس کیا، پریذیڈنسی کالج کلکتہ سے 1906ء میں کیمسٹری میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ 1907ء میں کاٹن کالج گوہاٹی میں کیمسٹری کے اسسٹنٹ لیکچرر مقرر ہوئے، لیکچرر شپ چھوڑ کر 1909ء میں وکالت کا آغاز کیا۔ 1909ء سے لیکر 1919ء تک گوہاٹی بار کے رکن رہے‘ پھر کلکتہ چلے گئے جہاں ہائی کورٹ میں 1920ء سے 1924ء تک وکالت کی۔ 1913ء اور پھر دوبارہ 1923ء میں آسام لیجیسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ 1924ء سے 1929ء تک صوبہ آسام کے وزیر صحت و تعلیم رہے۔ 1929ء میں آسام حکومت میں قانون‘ امن و امان اور پی ڈبلیو ڈی کے ایگزیکٹو ممبر مقرر ہوئے۔ اپریل 1934ء تک مالیات‘ قانون اور امن و امان کے رکن کے طور پر ایگزیکٹو کونسل میں شامل رہے۔ 1933-34ء میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ 1917ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ کلکتہ میں شرکت کی اور کانگریس مسلم لیگ سکیم پر غور کرنے کے لیے قائم کردہ کمیٹی میں بھی شامل کیے گئے۔ 1937ء کے انتخابات میں آسام قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1938ء میں آسام کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ دوسری مرتبہ نومبر 1939ء میں پھر وزیراعظم منتخب ہوئے اور جون 1942ء تک اسی عہدے پر فائز رہے۔ قائداعظمؒ کی اپیل پر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ 1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر آسام لیجیسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور اسمبلی میں مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کے قائد منتخب ہوئے۔ اپریل 1946ء میں مسلمان نمائندوں کے کنونشن منعقدہ دہلی میں شرکت کی اور مطالبہئ پاکستان کی بھرپور طریقے سے حمایت کی۔ جولائی 1946ء میں لیگ کونسل کے اجلاس منعقدہ بمبئی میں بھی شرکت کی۔ دستورساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور آئینی ڈھانچہ تیار کرنے والی کمیٹی میں شامل رہے۔ انہیں سر اور خان بہادر جیسے خطابات ملے تھے۔ لیکن قائداعظمؒ کے کہنے پر 1946ء میں یہ خطابات واپس کردیئے۔ آپ کا انتقال 8 جنوری 1955ء کو ہوا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...