”ووٹ کو عزت دو کے نعرے کا کیا ہوا“ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں لیگی ارکان پھٹ پڑے

        ”ووٹ کو عزت دو کے نعرے کا کیا ہوا“ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں لیگی ...

  



  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)مسلم لیگ (ن)کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں آرمی ایکٹ میں ترامیم کی حمایت پر کئی اراکین پارٹی قیادت کے موقف کیخلاف پھٹ پڑے۔ ذرائع کے مطابق خواجہ محمد آصف کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کااجلاس ہوا جس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع نے بتایاکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شیخوپورہ سے (ن) لیگ کے رکن میاں جاوید لطیف، بہاولنگر سے نور الحسن تنویراور وزیرآباد سے ڈاکٹر نثار چیمہ نے بل کے معاملے اور پارٹی قیادت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین کے درمیان گرما گرم بحث مباحثہ بھی ہوا۔اجلاس میں اراکین نے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے کا کیا ہوا۔ پارلیمانی اجلاس میں رانا تنویر، میاں جاوید لطیف اور نثار چیمہ نے لندن میں بیٹھی قیادت کے فیصلوں پر دھواں دھار تنقیدکی۔ اراکین نے کہاکہ اب عوام کو کیا منہ دکھائیں گے،ووٹ کو عزت دو بیانیہ کا دفاع اب کیسے کریں گے؟۔اراکین نے کہاکہ قائد نواز شریف ایک بات کرتے ہیں اور صدر شہباز شریف کچھ اور بات کرتے ہیں۔اراکین نے قیادت کو رائے دی کہ ہمیں کچھ تو ترامیم سامنے لانی چاہیں، کچھ فیس سیونگ تو ہو؟۔غیر مشروط حمایت سے کارکنان میں شدید ردعمل ہے۔، اجلاس میں شیخوپورہ سے (ن) لیگ کے رکن میاں جاوید لطیف، بہاولنگر سے نور الحسن تنویراور وزیرآباد سے ڈاکٹر نثار چیمہ نے بل کے معاملے اور پارٹی قیادت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا، نور الحسن  تنویر نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ کہہ رہے ہیں کہ میاں صاحب کے حکم پر بل کی حمایت کر رہے ہیں ہمیں واضح طور پر بتایا جائے کہ بڑے میاں یا چھوٹے میاں؟ جس پر خواجہ آصف نے کہا کہ میری مراد قائد محترم میاں نواز شریف ہیں اور نواز شریف کے حکم پر ہم حمایت کر رہے ہیں،نور الحسن تنویر نے کہا کہ دوسال ہم ووٹ کی عزت کا نعرہ لگاتے رہے ہیں اب ہم عوام کو کیا جواب دیں گے؟وزیر آباد سے (ن) لیگ کے رکن ڈاکٹر نثار چیمہ نے کہا کہ ہم غیر مشروط طور پر بل کی حمایت کر رہے ہیں کیا ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ ہم حکومت کے سامنے یہ شرط رکھتے کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس کو حکومت واپس لیتی، میاں جاوید لطیف پارلیمانی پارٹی میں بہت جذباتی نظر آئے، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں بھی (ن) لیگ کے کارکنوں کو مایوس کیا گیا اور اب بھی ایسا کیا جا رہا ہے، اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔قیصر شیخ نے کہا کہ غیر مشروط حمایت کی کوئی وجہ تو ہمیں بتائی جائے۔لاہور سے (ن) لیگ کی خاتون رکن اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ مریم نواز کے والد صاحب کے بعد مریم نواز کے تحفظات کی کوئی اہمیت نہیں بچتی، وہ خاموش ہیں ااور ان کا ٹویٹر بھی خاموش ہے تو ان کے تحفظات ہم تک پہنچے ہی نہیں، ہم میں تو ہمت نہیں کہ ہم نواز شریف کے فیصلے کے خلاف ووٹ کریں۔تاہم ارکان کی اکثریت نے کہا کہ پارٹی قائدین کے حکم کی تعمیل کریں گے، ہماری اپنی رائے جو بھی ہو جو بھی فیصلہ ملک و قوم کے مفاد اور پارٹی قیادت کا ہو گا ہم اس پر عمل کریں گے۔خواجہ آصف نے اعتراضات کاجواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کی حمایت کا فیصلہ میاں نواز شریف کی ہدایت پر کیا گیا اور اس میں میری کوئی ذاتی رائے نہیں ہے، جو پارٹی قیادت کا حکم ہے اس کے تحت ہی ہم چلیں گے، اگر کسی کو میری بات پر یقین نہیں آرہا تو وہ براہ راست میاں نواز شریف اور میاں شہبازشریف سے رابطہ کر سکتا ہے۔علاوہ ازیں سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن شاہد خاقان عباسی صدر شہباز شریف کی ہدایت کے باجود اجلاس میں نہ آئے۔ ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے ترمیمی بلز کی غیر مشروط حمایت پر احتجاج اجلاس میں شرکت نہ کی جبکہ احسن اقبال کے بارے میں بتایا گیا کہ فزیو تھراپی کے باعث اجلاس میں نہیں آسکتے۔

مسلم لیگ ن

مزید : کامرس