ٹرمپ!خطرناک نتائج کیلئے تیار ہو: تہران، فوج ہائی الرٹر وائٹ ہاؤس، ایرانی پارلیمنٹ میں امریکی فو ج کو دہشتگرد قرار دینے کا بل منظور،واشنگٹن نے جواد ظریف کو سلامتی کونسل میں خطاب سے روک دیا 

ٹرمپ!خطرناک نتائج کیلئے تیار ہو: تہران، فوج ہائی الرٹر وائٹ ہاؤس، ایرانی ...

  



تہران،واشنگٹن،کوالالمپور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں) ایرانی پارلیمنٹ نے امریکی فوج کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا بل منظور کر لیا۔تفصیلات کے مطابق یہ اقدام اس امریکی بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی بھی ملک نے ایرانی تیل خریدنا جاری رکھا تو اس کے خلاف پابندیاں لگا دی جائیں گی۔ایرانی پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کے موقع پر مردہ باد امریکہ اور انتقام انتقام کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ایران کی پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کے موقع پر مردہ باد امریکہ، انتقام انتقام اورنہ ذلت قبول نہ سازش قبول کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔اس موقع پر ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر علی لاریجانی نے کہا کہ امریکی وزارت دفاع پنٹاگون کے تمام حکام اس سے وابستہ افراد، ادارے، کمپنیاں اور وہ عناصرجو جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت میں ملوث تھے دہشتگرد ہیں۔ علی لاریجانی نے امریکی صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے فیصلے کے خطرناک نتائج کیلئے تیار رہو۔ایران کی پارلیمنٹ نے 21 جنوری سے 19 مارچ تک یعنی 2 مہینے کیلئے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس بریگیڈ کیلئے جس پرعلاقے میں استقامتی محاذ کی ذمہ داری ہے 200 ملین یورو کی منظوری بھی دی۔ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے کہا کہ امریکہ جان لے کہ ایرانی قومی سلامتی کونسل میں انتقامی کارروائی کیلئے 13 طریقہ کار پر غور کیا گیا ہے جس میں سے اگر سب سے کم شدت کے طریقہ کار پر بھی اتفاق ہوگیا تو وہ امریکا کے لیے ایک بھیانک تاریخی خواب ثابت ہوگا۔علی شمخانی نے اگرچہ اس حوالے سے مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی مگر تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر امریکی فوجیں ہمارے خطے سے فوراً خود نہیں نکلیں تو ہم ان کا کچھ کریں گے کہ ان کی لاشیں یہاں سے جائیں گی۔ادھر امریکہ نے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کوسلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرنے سے روک دیا،جوادظریف ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر سلامتی کونسل میں اظہار خیال اور مذمتی بیان دیناچاہتے تھے،یو این جنرل سیکریٹری کا کہنا ہے نئے سال کاآغازہماری دنیا میں ہنگامہ خیزی سے ہواہے، ہم ایک خطرناک دورمیں زندگی گزاررہے ہیں، جنگوں سے اجتناب ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے، فریقین ٹحمل اور صبر کا مظاہرہ کریں۔جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل حسین سلامی نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا انتقام لینے کی بات کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ امریکی حمایت یافتہ مقامات کو جلا کر راکھ کر دیا جائے گا۔فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں یویس لی ڈریان نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایرانی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کا جواب دینے سے باز رہے۔لی ڈریان نے فرانسیسی شہریوں پر ایران اور عراق کے سفر سے گریز پر زور دیا۔فرانسیسی وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ طویل المیعاد جوہری معاہدے کی صداقت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ تہران کے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے ساتھ لامتناہی انداز میں یورینیم افزودہ کرنے کی راہ پر چل رہا ہے۔ اس سے جوہری معاہدہ خطرے کا شکار ہو سکتا ہے۔جبکہ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے مسلم ممالک کو متحد ہونے کا مشورہ دے دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مہاتیر محمد نے جنرل قاسم سلیمانی کی موت کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کو بیرونی خطرات سے بچنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی پر امریکی ڈرون حملہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف تھا، یہ حملہ دہشت گردی کو بڑھاوا بھی دے سکتا ہے۔ملائیشین صدر کا کہنا تھا کہ یہ مسلمہ امہ کے لیے بہتر وقت ہے کہ وہ ایک ہوجائیں، ہم اب زیادہ محفوظ نہیں ہیں، اگر کوئی کسی کی تضحیک کرتا ہے یا کچھ کہتا ہے جسے کوئی شخص پسند نہیں کرتا، یہ اس شخص کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک سے ڈرون حملہ کرے اور شاید مجھے ماردے۔دوسری جانب جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت پر ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ایرانی سفارتخانے کے باہر متعدد خواتین نے احتجاج کیا اور امریکا کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

جنرل قاسم سلیمانی 

 واشنگٹن (اظہرزمان،بیوروچیف) اگر ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے رد عمل پر کو ئی کارروائی کی تو امریکہ اس کا سامنا کرنے کو تیار ہے اور اس وقت فوج ہائی الرٹ پر ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کو امریکی ڈرون حملے میں نشانہ بنانے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جو شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اس پر یہ تازہ تبصرہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان سیٹفنی گریشم نے فوکس نیوز ٹیلیویژن کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا تاہم انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ایسا تصادم نہیں ہوگا اور بتایا کہ صدر ٹرمپ وضاحت کرچکے ہیں کہ و ہ ایران کیساتھ جنگ لڑنے کے حق میں نہیں ہیں ترجمان نے یہ واضع نہیں کیا کہ جنر ل سلیمانی سے کیا خطرہ تھاجس کی بناپر انہیں ہلاک کیا گیا تاہم یہ بتایا کہ امریکہ نے یہ کارروائی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی اور اس کے نتیجے میں امریکی جانیں بچائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فوج اور سفارت کاروں کو بچایا ہے اور اس کے بعد بہت سے امریکی خاندانوں کو اپنے پیاروں کی لاشیں وصول نہیں کرنی پڑیں۔ ترجمان نے بتایا کہ آج بروزبدھ کانگریس ارکان کو جنر ل قاسم سلیمانی کے خلاف کارروائی کی تفصیلات سے آگا ہ کیا جائیگا جبکہ بہت سے انکشاف متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو سب معاملات کی برابر بریفنگ دی جارہی ہے اور امریکی عوام کو خوش ہونا چاہئے کہ صدر ٹرمپ انہیں کسی حادثے سے بچانے کیلئے سرگرم ہیں اس دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے الزام لگایا ہے کہ ایران مسلسل افغانستان میں قیام امن کی امریکی کوششوں کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے،محکمہ خارجہ میں ایک نیوز کانفرنس میں انہوں نے ایران کیساتھ کشیدگی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ کہا تا ہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی انہوں نے کہا کہ ایران نے افغانستان میں امن کیلئے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے عمل میں شرکت سے انکار کر رکھا ہے انہوں نے الزام لگایا کہ ایران طالبان سے رابطے کر کے انہیں امن سمجھوتہ کرنے سے روکنے میں مصروف ہے۔

امریکی وزیر خارجہ

مزید : صفحہ اول