ہائیکورٹ میں غلط رپورٹ پیش کرنیوالے تفتیشی افسر کیخلاف انکوائری کا حکم

ہائیکورٹ میں غلط رپورٹ پیش کرنیوالے تفتیشی افسر کیخلاف انکوائری کا حکم

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ نے لڑکی کی بازیابی کے کیس میں غلط رپورٹ پیش کرنے والے تفتیشی افسر کے خلاف انکوائری اور کارروائی کا حکم دے دیا، عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ پولیس والوں کی طرف سے عدالت میں غلط رپورٹ پیش کرنے کو برداشت نہیں کیا جاسکتا،اس سے عدالت کا وقت ضائع ہواہے،فاضل جج نے عدالت میں موجود ڈی آئی جی آپریشنز کو حکم دیا کہ متعلقہ پولیس کے تفتیشی افسر کے خلاف انکوائری کرکے انضباطی کارروائی کی جائے،جسٹس مس عالیہ نیلم نے یہ کارروائی جمشید نامی شہری کی درخواست نمٹاتے ہوئے کی،درخواست گزار کا موقف تھا کہ س کی بیوی کوخالد نے اغواء کرلیاہے۔ اس کا مقدمہ تھانہ ہیئرمیں درج ہے،خاتون کی بازیابی کاحکم دیاجائے۔ تفتیشی افسر کی طرف سے رپورٹ پیش کی گئی تھی کہ لڑکی کوتلاش کیا گیا،اس کا پتہ نہیں چل رہا۔گزشتہ روز ڈی آئی جی آپریشنز اور دیگر متعلقہ پولیس افسروں مقدس بی بی کو عدالت میں پیش کیا،عدالت کے استفسار پر مقدس بی بی نے بتایا کہ اسے کسی نے اغواء نہیں کیا،وہ اپنی بہن اور بھائی کے ساتھ رہ رہی ہے۔،عدالت کو بتایا گیا کہ اس سے قبل پولیس نے اس سے رابطہ نہیں کیا،اس بات پر عدالت نے سخت برہمی کااظہار کیا۔فاضل جج نے کہا کہ مقدس بالغ خاتون ہے وہ جہاں چاہے اپنی مرضی سے رہ سکتی ہے۔

انکوائری حکم

مزید : صفحہ آخر


loading...