آرمی ایکٹ میں ترمیم اور نون لیگ

آرمی ایکٹ میں ترمیم اور نون لیگ
 آرمی ایکٹ میں ترمیم اور نون لیگ

  



آرمی ایکٹ میں ترمیم کے تناظر میں نون لیگ کو یوں ہدف تنقید بنایا گیا ہے جیسے اب بھی وہ حکومت میں ہے اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالف ہے۔ حالانکہ یہ عام سمجھنے کی بات ہے کہ نون لیگ پاک فوج کے خلاف نہیں بلکہ ان طالع آزماؤں کو ہدف تنقید بناتی ہے جو آئین اور قانون سے بالاتر ملکی نظام چلانے کی نیت رکھتے ہوں، وگرنہ نون لیگ بھی پاک فوج کی قربانیوں اور وطن عزیز کے دفاع میں اس کے کلیدی کردار کو اسی طرح تسلیم کرتی ہے جس طرح ملک کی کوئی اور سیاسی جماعت کرتی ہے۔ مثال کے طور پر کل کو اگر واقعی ملک میں ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ناگزیر ہو تو کیا نون لیگ آج محض اس بنا پر موجودہ ترمیم کی مخالفت کرے کہ وہ ”ووٹ کو عزت دو“کا بیانیہ رکھتی ہے۔

پھر خیر سے جو طبقے نون لیگ کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں کیا وہ طبقے وٹ کو عزت دینے کے حامی نہیں ہیں؟ چنانچہ اگر نون لیگ نے مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسی قومی فرض کی تکمیل کی ہے جس سے ملک کی آنے والی نسلوں کو واسطہ پڑے گا تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔ تب کوئی یہ تو نہیں کہہ سکے گا کہ ملک کو درپیش ایمرجنسی صورت حال آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا تقاضا کرتی ہے مگر اس لئے نہیں ہوسکتی کہ جب ایسا کیا جا رہا تھا تو نون لیگ نہ صرف اس کی مخالف تھی بلکہ اس کو پاس نہ کروانے میں بھی پیش پیش تھی۔ کسی بھی ریاست میں سیاست مذکورہ ریاست کے قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے، اس لئے اگر نون لیگ ایسا کررہی ہے تو اس پر زیادہ ٹیں ٹیں کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

اس ضمن میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ آرمی چیف کا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے اور اس کے خاص تقاضے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ ایک وقت تک ہمارے آئین میں تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کی پابندی تھی مگر پھر اٹھارویں ترمیم میں اس کی راہ ہموار کی گئی۔ تب اگر پیپلز پارٹی نے ایسا کیا تھاتو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ سب کچھ خاص نواز شریف کے لئے کیا گیا تھا بلکہ ایک آئینی عہدے کے حوالے سے عصر حاضر کے تقاضوں کے تحت وہ سہولت آئین میں نکالی گئی تھی۔

ایسی ہی ایک آئینی اور قانونی بات یہ ہوسکتی ہے کہ کل کو اگر صدر مملکت کسی وزیر اعظم کو یہ کہہ کر توسیع دے دیں کہ ان کا حکومت میں رہنا ملک کے لئے ناگزیر ہے تو ایک آئینی بحران پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ ہمارا ایک تحریری آئین ہے اور برطانیہ کی طرح غیر آئینی نہیں ہے کہ ریتوں رواجوں اور عدالتی نظائر پر مبنی ہو۔ اس کے برعکس ہمارے آئین میں نظام مملکت طے شدہ بات ہے اور اس حوالے سے متعلقہ قوانین میں ترامیم دراصل کسی خاص وقت کے مخصوص تقاضوں کے پس منظر میں ہی دیکھنے چاہئے اور ضرورت سے زیادہ پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہئے۔

آئین میں ترمیمی تقاضوں کی ایک مثال خیبر پختونخوا صوبے کے نام کی تبدیلی ہے۔ جب اس کا نام نارتھ ویسٹ فرنٹیئر پراونس سے تبدیل کرکے خیبر پختونخوا کیا گیا تو اس وقت بھی نون لیگ کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا تھا۔ تب بھی نون لیگ کا موقف تھا کہ اس پر پوری طرح غوروخوض کیا جائے اور پھر فیصلہ کیا جائے۔ اس وقت نون لیگ کی اس رائے کو غیر ضروری قراردے کر آناً فاناً صوبے کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا کردیا گیا اور اگلے روز ہزارہ صوبے کے حامیوں نے احتجاجی ریلی نکالی جو اس قدر مشتعل ہوگئی تھی کہ شام تک نو لاشیں گرچکی تھیں۔ رات کو ٹی وی اینکر کامران خان نے چودھری شجاعت حسین سے سوال کیا کہ آخر صوبے کے نام میں تبدیلی میں اس قدر عجلت کی کیا ضرورت تھی جس پر چودھری شجاعت حسین نے جواب دیا تھا کہ اس عجلت کا مظاہرہ صرف ہم نہیں بلکہ میڈیا بھی کررہا تھا اور خاص طور پر کامران خان صاحب آپ بھی کر رہے تھے چنانچہ کامران خان اپنا سا منہ لے کر رہ گئے تھے!

اب بھی بعض ایک مزاحیہ پروگراموں میں نون لیگ کے موقف کے حوالے سے ٹھٹھہ لگایا جا رہا ہے لیکن جب نواز شریف گھن گرج کے ساتھ ووٹ کو عزت دو اور خلائی مخلوق کا بیانیہ چلا رہے تھے تو ان ٹی وی چینلوں میں جرات نہ ہوتی تھی کہ ان کی پریس کانفرنس کو بلا تعطل چلا سکیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی عملدار ی کا ٹھیکہ صرف نواز شریف کے پاس ہے، کچھ ان کو بھی کرنا چاہئے جو اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان دے کر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں!

مزید : رائے /کالم


loading...