اتفاق رائے سے 1973ء کا آئین منظور کرانے والے کا یوم پیدائش منایا گیا

اتفاق رائے سے 1973ء کا آئین منظور کرانے والے کا یوم پیدائش منایا گیا

  



لاہور سے چودھری خادم حسین

قومی اتفاق رائے سے ملک کے لئے جمہوری آئین منظور کرانے والے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو آج دنیا فانی میں ہوتے تو 92سال کے ہو کر ملائیشیا کے مہاتیر محمد کے ہمعصر کہلاتے۔ دنیا سے رخصت ہونے والے افراد کی ان کے لواحقین یا پسماندگان تو برسی ہی مناتے ہیں لیکن معروف تر اور تاریخی ہستیوں کی دنیا سے پردہ پوشی کے بعد بھی سالگرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مقصد ان کے افکار اور دور کو یاد کرکے خود اپنے لئے بھی عوام میں حمائت حاصل کرنا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو یقینا ایسی ہی شخصیت تھے کہ ان کو یاد رکھا جائے۔ ان کے تنقید نگار بھی تو ان کو بھول نہیں پا رہے تو ان کے جیالے کیسے بھول سکتے ہیں۔ اس خاندان کے صرف ذوالفقار علی بھٹو خود ہی نہیں خودداری سے پھانسی چڑھے، ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو بھی شہید ہوئیں جبکہ ان کے بڑے پوتے مرتضیٰ بھٹو بھرے چوراہے میں محترمہ کی وزارت عظمیٰ میں مار دیئے گئے اور شاہ نواز بھٹو کو پیرس میں پراسرار موت کا شکار ہونا پڑا آج گڑھی خدا بخش میں خاندانی قبرستان اب شہیدوں کا قبرستان کہلاتا ہے۔ آج کے دور میں جب اندرونی سیاست افراتفری کا شکار محسوس ہوتی اور بیرونی خطرات کم ہونے کی بجائے بڑھتے جاتے ہیں تو ایسی شخصیات کی یاد زیادہ آتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو یا ان کے بعد ان کی صاحبزادی ہی زندہ رہتیں تو ملکی سیاست بھی مختلف ہوتی جو معیشت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت آج ذوالفقارعلی بھٹو کے نواسے بلاول بھٹو زرداری کے پاس ہے۔ ان کے پوتے ذوالفقار علی بھٹو (جونیئر) اور پوتی فاطمہ بھٹو نے بوجوہ سیاست کا راستہ نہیں اپنایا حالانکہ کوشش بھی کی گئی۔ یہ الگ موضوع ہے۔ اس سال بلاول بھٹو زرداری نے سالگرہ کے حوالے سے ”ہفتہ بھٹو“ منانے کا اعلان کیا کہ تقریبات 5جنوری سے 12جنوری تک جاری رہیں گی۔ پیپلزپارٹی سنٹرل پنجاب اور پیپلزپارٹی لاہور کی تنظیموں نے مشترکہ اجتماع ایوان اقبال میں کیا اور یوں ایک بڑی تقریب منعقد کرنے کی کوشش کی اس میں ایک حد تک ہی کامیابی ہوئی۔ صوبائی نائب صدر چودھری اسلم گل، صوبائی سیکرٹری جنرل چودھری منظور احمد، لاہور کے صدر الحاج عزیز الرحمن چن، ملک عثمان، فرخ سہیل گوئندی اور دیگر نے خطاب بھی کیا اور بھٹوز کو یاد کیا گیا، ایوان اقبال میں کیک کاٹنے کی رسم بھی ہوئی اور معروضی حالات اور کلچر کے مطابق کیک لوٹا بھی گیا، بہرحال اس اجتماع میں ایک مقرر نے قومی اسمبلی میں زیر غور آرڈی ننس نا منظور کے نعرے بھی لگوائے، مقررین کا اصرار تھا کہ بھٹو کو قتل نہ کرایا جاتا تو تنازعہ کشمیر حل ہو چکا ہوتا۔

پوری دنیا اور ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا۔ 5جنوری 1998ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ آپ کرنے کا حق دیا اور ہر سال کشمیری پوری دنیا میں یہ یوم مناتے اور حق خودارادیت کے حصول کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس بار یہ یوم ”حق خودارادیت“ ایسے وقت آیا جب بھارت پر حکمران دور جدید کے ہٹلر مودی نے 90لاکھ کشمیریوں کو یرغمال بنا رکھا، کشمیر کو ہضم کیا اور کشمیری کرفیو میں قید کر لئے ہیں۔9لاکھ سے زیادہ فوجی اور ان کے علاوہ پیرا ملٹری فورسز ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں۔اس یوم پر پاکستان میں کشمیریوں اور پاکستانیوں نے مل کر جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

کڑاکے کی خشک سردی کے باعث اللہ نے رحمت فرمائی اور پیر کی صبح سے دیگر شہروں کے علاوہ لاہور میں بھی باران رحمت ہوئی اگرچہ یہ تیز بارش نہیں تھی لیکن لاہور میں مسلسل بوندیں پڑنے کی وجہ سے خنکی تو بڑھی لیکن برفیلا موسم اس حد تک تبدیل ہو گیا کہ کاٹتی سردی رک اور اس کے ساتھ ہی گلے اور چھاتی کے امراض میں بھی افاقے کا یقین ہو گیا۔ مٹی اور دھول سے اٹے درخت بھی بڑی حد تک دھل گئے اور اب چند روز تک صاف آکسیجن فراہم کر سکیں گے، تاہم لاہور میں سبزہ پھر سے بڑھانے اور درخت لگانے کی مہم کے ساتھ ساتھ گرین بیلٹوں کو پارکنگ بنانے اور جنگل جان کر جانور چرانے کا سلسلہ زیادہ ہو گیا ہے۔ پی ایچ اے والوں کو پارکوں اور گرین بیلٹوں کی فکر نہیں اور نہ ہی یہ اتھارٹی والے اس امر کی ہڑتال کرتے ہیں کہ موسم برسات والے سیزن میں کتنے پودے درخت بننے کے لئے لگائے اور ان میں کتنے باقی اور کتنے مویشیوں کے پیٹ میں چلے گئے۔ شادی گھروالوں نے تو گرین بیلٹوں کو مستقل پارکنگ بنا کر گھاس اور پودے ختم کر دیئے ہیں، اب نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ بڑے گھروں والے بھی شامل ہو گئے اور ان گرین بیلٹوں میں موٹرسائیکلیں، کاریں پارک کی جانے لگی ہیں، کوئی پرسان حال نہیں۔

مہنگائی کا رونا روتے روتے صارفین اور شہری اس حد تک آ گئے کہ اب جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ کر دیا ہے کہ سبزیاں تو ماڈل / اتوار بازاروں میں بھی سستی نہیں ہو پا رہیں، لوگ روز لٹ رہے ہیں، مہنگائی کا یہ عالم کہ پرچون والی دکان سے ٹماٹر دو سو روپے فی کلو خریدنا پڑتے ہیں اور آٹا ایک ہی بار 4روپے فی کلو مہنگا ہو جاتا ہے، لوگوں کے اندر احتجاج کا حوصلہ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال ہے تو اب سیاسی احتجاج بھی شاید ہو۔

مزید : ایڈیشن 1