امریکہ، ایران کشیدگی، خطے میں جنگ کے بادل، پاکستان مشکل حالات سے دوچار

امریکہ، ایران کشیدگی، خطے میں جنگ کے بادل، پاکستان مشکل حالات سے دوچار

  



اسلام آباد سے سہیل چودھری

خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ امریکہ ایران کشیدگی عروج پر ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ کشیدگی کا سہراامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سر ہے۔ امریکہ نے یک طرفہ طور پر عراق میں ڈرون حملے کے ذریعے ایرانی سپہ سالار قاسم سلیمانی کو شہید کر دیا جس کے نتیجہ میں ایران میں غم و غصہ کی شدید لہر اور ممکنہ ردعمل سے ایک جنگی ہیجان پیدا ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ایرانی عوام امریکی رویہ اور اقدامات پر سیخ پا ہیں۔ ایران نے امریکہ سے انتقام لینے کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ ہوش کے اوپر جوش جگہ لے رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کی کشیدگی اور ممکنہ جنگ سے خطے اور بالخصوص عرب دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ تجزیہ نگار ایران امریکہ کے مابین ممکنہ جنگ کے نتائج پر بحث و مباحثہ کر رہے ہیں۔ بہت سوں کا خیال ہے کہ کسی جنگ کی صورت میں خطے کے ممالک کا جغرافیہ اور سیاست تبدیل ہو سکتے ہیں۔ سابق امریکی صدر جارج بش نے عراق اور افغانستان پر جنگ مسلط کی۔ بظاہر ان جنگوں کا نتیجہ امریکہ کے حق میں نظر نہیں آتا۔ امریکہ نے دونوں ممالک میں جنگیں ہاری ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کے مقاصد شاید ہار جیت سے بالاترہیں جو شائد عام آدمی کے سمجھنے کی بات نہیں ہے۔ امریکہ کی داخلی سیاست، اس کے ملٹری کمپلیکس کے کاروباری مفادات اور گلوب پر اس کی سپرپاور کے طور پر حکمرانی برقرار رکھنے جیسے بہت سارے عوامل امریکہ کی جنگی حکمت میں کارفرما ہیں یہ بھی کہا جا رہاہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذہ کی کارروائی اور امریکی انتخابات کے آئندہ اہم مرحلہ کو بھی حالیہ امریکی اقدام کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان ایران کے ہمسایہ ملک کے طور پر اس کی امریکہ کے ساتھ کشیدگی اور ممکنہ جنگ کی صورت میں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایران اور امریکہ کے مابین اگر کوئی جنگ ہوتی ہے تو پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد اس صورت حال کو انتہائی تشویش کی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کی سرحدی صورتحال پہلے ہی سے بہت حساس ہے۔ ایک طرف بھارت کی مودی سرکار نے پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر گرما گرمی پیدا کر رکھی ہے۔ افغانستان کی سرحد پر بھی پاکستان کسی غفلت کا مظاہرہ نہیں کر سکتا۔ کابل حکومت بھی اپنی داخلی سیاسی ناکامیوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے سے نہیں چوکتی۔ اب اگر امریکہ اور ایران کے مابین رنجش بڑھتی ہے تو پاک ایران سرحد پر سے ہمارے لئے کئی طرح کے چینلجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ شائد پاکستان اپنی سفارتی تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اس وقت پاکستان کو اپنی سفارت کاری کی تاریخ میں ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے اب دیکھنا ہے کہ پاکستان اس اہم امتحان سے کیسے سرخرو ہوکر نکلتا ہے، کیونکہ ایک طرف پاکستان اپنی کمزور معیشت کی لڑکھڑاتی ہوئی ناؤ کو منجدھار سے نکالنے کی تگ و دو کر رہا ہے،عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر پاکستان کو مالی بحران سے نکالنے کے لئے اربوں ڈالر دے چکے ہیں، سعودی عرب اور یمن جنگ میں عرب ممالک کی اتحادی افواج کی قیادت اور تکنیکی معاونت میں پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔ اسی طرح عالمی مالیاتی اداروں سے پاکستان امریکی اشیرباد سے بھاری قرضے لے رہا ہے۔ بالخصوص آئی ایم ایف کے پاکستان کے لئے جاری امدادی پروگرام اورایف اے ٹی ایف کی لٹکتی ہوئی تلوار سے امریکہ پاکستان پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کو ایک سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے بآواز بلند اعلان کر دیا ہے کہ پاکستان اس تنازعہ میں اپنی سرزمین کسی فریق کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں اس موضوع پر تقریر کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ تنازعہ میں فریق نہیں بنے گا بلکہ ان کے مابین کسی سمجھوتے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگرچہ پاکستان اپنی کمزور ملکی معیشت اور داخلی چیلنجز کی بناء پر اس پوزیشن میں نہیں کہ بدمست امریکہ کے عزائم کے آگے کوئی بند باندھ سکے لیکن یہ پاکستان کے بس میں ہے کہ کسی فریق کو بھی اپنی سزمین استعمال کرنے کی اجازت دے نہ ہی کسی قسم کی معاونت فراہم کرے، لیکن یہ بھی ایک مشکل ٹاسک ہے۔ پاکستان امریکہ اور عرب ممالک سے تعلقات میں بگاڑ کا متحمل ہو سکتا ہے نہ ہی ہمسایہ ملک ایران کو ناراض کر سکتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو خطے میں اہم تزویراتی چیلنجز کا سامنا ہے تو ملکی سپہ سالار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ چل رہا ہے۔ ملک کی داخلی سیاسی صورت حال آج کل اس ایشو کے گرد گھو م رہی ہے۔ اگرچہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کا معاملہ حکومت کی جانب سے غلط نوٹیفکیشن کے باعث پیدا ہوا، جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے اس ایشو کو پارلیمنٹ کے سپرد کرنے سے اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کی خفیہ مفاہمت کی قلعی کھل گئی، اگرچہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نسبت قدرے بہتر فیس سیونگ کے ساتھ اس ایشو سے نبردآزما ہو رہے ہیں لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اس ایشو پر جس فراخدلی کے ساتھ تعاون کی پیشکش کی اس پر اسے خاصی تنقید کا سامنا ہے۔ اگرچہ وزیراعظم عمران خان بار بار اس امر کا اعلان کرتے رہتے ہیں کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے لیکن لگتا ہے کہ این آر او دینا شائد ان کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں۔ ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کو ملنے والے ریلیف اور ان کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی بھرپور حمایت کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مقتدر حلقوں اور اپوزیشن کی ان بڑی جماعتوں میں ایک وسیع تر مفاہمتی ڈھانچے پر اتفاق رائے ہو چکا ہے جس پر حکومتی حلقوں میں تشویش کے آثار بھی نظر آ رہے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ اس مفاہمت کے آئندہ سیاسی مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف اسلام آباد کے تمام حلقوں اور ایوانوں میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کے تھپڑوں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں فواد چودھری نے سوشل میڈیا پر سیاست دانوں کے خلاف مہم پر آواز بلند کی، لیکن اپوزیشن رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ فواد چودھری نے جو بویا وہ کاٹ رہے ہیں، تاہم اس تمام صورت حال میں عوام کی مہنگائی کے خلاف دھائی دب گئی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1