میٹرک پاس وزیر تعلیم کاتذکرہ موضوع بحث!

میٹرک پاس وزیر تعلیم کاتذکرہ موضوع بحث!

  



خیبرپختونخوا کی کابینہ میں بالآخر اکھاڑ پچھاڑ ہو ہی گئی، کئی وزراء اور مشیروں کے قلم دان تبدیل کر دیئے گئے ہیں جبکہ کئی نئے وزراء بھی کابینہ میں شامل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ تبدیلی یا شمولیت اتنی اہمیت اختیار نہیں کر پائی جتنی میٹرک پاس ایم پی اے کو وزیر تعلیم بنائے جانے کا معاملہ زیر بحث ہے، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر یہ بات ٹاپ ٹرینڈ ہے کہ ہری پور سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اور کاروباری شخصیت اکبر ایوب کو صوبے میں انتہائی اہم تعلیم کی وزارت سونپی گئی ہے۔ اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ تعلیم جیسا اہم ترین شعبہ جس شخص کے حوالے کیا گیا وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں اور یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایسا شخص جس نے کالج یا یونیورسٹی کی شکل نہ دیکھی ہو وہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکے۔ قبل ازیں 2018ء میں عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اکبر ایوب کو مواصلات وتعمیرات کا وزیر مقرر کیا گیا تھا لیکن ہفتہ کے روز انہیں مواصلات و تعمیرات کی بجائے تعلیم کا وزیر مقرر کر دیا گیا۔ وزیر اطلاعات برادرم شوکت یوسفزئی کا حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اکبر ایوب انتہائی قابل اور تجربہ کار ہیں انھوں نے مواصلات و تعمیرات کی وزارت کو بخوبی چلایا ہے۔ لہذا وہ تعلیم کی وزارت کو بھی بخوبی احسن انداز سے چلائیں گے۔ اکبر ایوب نے 2013ء کے انتخابات کے دوران تحریک انصاف کے ٹکٹ پر اپنے مد مقابل مسلم لیگ(ن) کے قاضی اسد اور آزاد امیدوار بابر نواز کو شکست دی تھی جبکہ 2018ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے قاضی اسد کو دوبارہ شکست دی۔ پرویز خٹک کی کابینہ میں وہ مشیر برائے سی اینڈ ڈبلیو جبکہ محمود خان کابینہ میں محکمے کمیونیکشن اینڈ ورکس کے وزیر رہے۔ برادرم شوکت یوسف زئی کے وضاحتی موقف کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ وزیر تعلیم کیلئے تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں محض تجربے کی بنیاد پر ہی وزارت کے مقاصد پورے کئے جا سکتے ہیں۔ یہ بحث اس لئے بھی طول پکڑ رہی ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں بھی پاکستان تحریک انصاف خیبر کی حکمران جماعت تھی اور یہ دعوے تسلسل کے ساتھ کئے جاتے رہے کہ ہم کے پی کے کو ماڈل صوبہ بنائیں گے، تعلیم اور صحت کو اولین ترجیح قرار دے کر انقلاب برپا کرنے کی باز گشت بھی سنی گئی، اس قسم کے دعوے اور وعدے اب بھی سامنے آ رہے ہیں، جسے رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وہاں تعلیم جیسے اہم شعبے کی وزارت کس شخص کے حوالے کی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کے بعد کابینہ ارکان کی تعداد 30 ہو گئی ہے جن میں وزیر اعلیٰ، 14صوبائی وزرا، 10معاونین خصوصی اور 4 مشیر شامل ہیں۔ صوبائی حکومت نے کابینہ میں توسیع ردوبدل اور اضافہ کے باوجود کسی وزیر یا مشیر کو فارغ نہیں کیا البتہ وفاق اور بلوچستان میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی”باپ“ کو ایک مرتبہ پھر نظر انداز کرکے حکومت میں شامل نہ کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے۔

امریکہ کی طرف سے ایرانی سپہ سالار قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد خطے میں خطرے کی گھنٹی بجنا شروع ہو گئی ہے، ہمسایہ ملک افغانستان میں چونکہ آج کل امریکی فوجوں کے انخلاء اور طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی بازگشت سرگرمی سے سنی جا رہی ہے اس لئے حالیہ سانحہ کے بعد ان معاملات پر گہرے اور منفی اثرات کا اندیشہ ہے اور یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا را ہے کہ افغانستان میں امن کا جو ڈول ڈالنے کی کوشش ہو رہی تھی اس پر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں، اس کے کچھ اثرات خیبرپختونخوا پر پڑنے کے امکانات بھی ہیں، چونکہ اس صوبے کا امن افغانستان میں امن و امان کے حالات سے جڑا ہوا ہے اس لئے ایران کی طرف سے کسی قسم کا ردعمل یا کوئی امریکی کارروائی کے پی کے، کے امن کو تباہ کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کو محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر نعیم خان کی اچانک تبدیلی کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور میں امن و امان کی صورت حال خاصی تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے اور مجموعی طور پر صوبے کے طول و عرض میں امن دشمن کارروائیوں میں خاصا اضافہ ہو گیا ہے۔ پشاور کی جدید بستی گلبہار میں نجی اسکول کی مالک اور خاتون پرنسپل کی لاشیں اسکول کے واش روم سے برآمد ہوئیں، انہیں کس نے اور کیوں اتنی بے دردی سے قتل کیا پولیس نے وجوہات معلوم کرنے کے لئے تحقیقات شروع کردی ہیں، اس واقع پر پراسرار یت کی دبیز تہہ چھا گئی ہے، مقتول اسکول مالک کامران اور پرنسپل نازیہ کی لاشیں پوسٹ مارٹم کیلئے مردہ خانہ منتقل کردی گئی ہیں۔ اسی طرح ملائشیاء پلٹ کپڑے کے جواں سال سکھ تاجر کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا اور لاش تھانہ چمکنی کی حدود میں پھینک کر فرا ر ہو گئے، یویندر سنگھ ایک ماہ قبل پاکستان آیا تھا،مقتول کی چند رو ز بعد شادی طے تھی جو شانگلہ سے خریداری کے لئے پشاور آیا جسے سر میں ایک گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

سردی کی شدید لہر نے پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، کاروبار زندگی چلانے میں دشواری پیش آ رہی ہے اور زندگی مفلوج ہوتی دکھائی دے رہی ہے، دوسری طرف پہاڑی علاقوں نے تو برف کی چادر اوڑھ لی ہے اور سیاح بڑی تعداد میں ان مقامات کا رخ کر رہے ہیں، سوات کے گرد و نواح بالخصوص وادی کالام میں درجہ حرارت منفی 15 اور مالم جبہ میں منفی 7 تک گرچکا ہے، پہاڑوں پر برف باری کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہوتے جا رہے ہیں، سڑکیں، بجلی اور مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، ادھر شانگلہ میں برف باری کے بعد وادی حسین منظر پیش کر رہی ہے اور بچے جوان دن کے وقت اس سے خوب محظوظ ہو رہے ہیں۔ موسمی حالات کے باعث بعض سیاحتی مقامات پر آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے، ٹریفک گھنٹوں پھنسی رہتی ہے، متعلقہ اداروں کو چاہئے کہ وہ سیاحوں کو مناسب سہولیات کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...