امریکہ، ایران کشیدگی، سوشل میڈیا ملک و قوم پر رحم کرے، مباحث سے گریز کیا جائے

امریکہ، ایران کشیدگی، سوشل میڈیا ملک و قوم پر رحم کرے، مباحث سے گریز کیا ...

  



ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

پاکستان ہمارا سب کا گھر ہے اور گھر کی حفاظت فرض ہے اسے محفوظ رکھنے کے لئے پروپیگنڈے پر کان دھرنے کی بجائے اس کا مثبت جواب دینا چاہیے اس کا شکار ہوکر نہ رہ جائیں۔ اپنے مسائل اور اختلافات فکری ہوں یا مسلکی آپس میں حل کرنے کی صلاحیت اور ہمت پیدا کرنی چاہیے کمزوری خارجی طاقتوں کو مداخلت کا موقع فراہم کرتی ہے ماضی قریب میں اس کی کئی زندہ مثالیں موجود ہیں جن میں عراق، شام، لیبیا سمیت دوسرے ممالک شامل ہیں جو معاشی خوشحالی میں ایک مثال تھے مگر آج کس حال میں ہیں ہم نے تو ایسی خوشحالی نہ کبھی دیکھی اور نہ ہی مستقبل میں اس کا کوئی امکان نظر آرہا ہے لیکن اس کے باوجود ہم بطور قوم پرائی آگ کو اپنی طرف لانے کی حتی المقدور کوشش میں لگے رہتے ہیں اب بھی عراق میں برادر اسلامی ملک ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں شہادت کے بعد خصوصاً پاکستان اور عموماً مسلمانوں میں سوشل میڈیا پر مختلف گروپوں میں مسلک کے حوالے سے لاحاصل بحث شروع ہوچکی ہے یا کروائی جاچکی ہے،جو انتہائی خطرناک رحجان ہے ایسے ایسے حوالے اور ویڈیو فوٹیج اصل اور ایڈیٹ شدہ پھیلائی جا رہی ہیں جو ”مرے کو مارے شاہ مدار“ کے مترادف ہے۔ اس کے سدباب کے لئے ضروری ہے سوشل میڈیا پر ایسے مواد بڑھنے، دیکھنے سے تو کنارہ کرنا ہی چاہیے ضروری یہ ہے کہ اس بحث کا حصہ بنیں اور نہ ہی ایسا کوئی مواد کسی اور کے ساتھ شیئر کیا جائے اور نہ فارورڈ کی جائے۔ایسی پوسٹ لگانے کے بارے میں سوچیں بھی نہ، کیونکہ پروپیگنڈے کی اس جنگ میں وطن عزیز کے باسیوں کو مذہب کا جذباتی رنگ دے کر استعمال کیا جا سکتا ہے اور اہمیں اس سے بچنا ہے یادرکھیں یہ ملک ہے تو آپ بے دھڑک موجود ہیں اگر خدانخواستہ کچھ اور ہوا تو شاہد ہمیں ایسی پوسٹیں شیئر کرنے کی اجازت بھی نہ ہو، پاکستان ہمارا گھر ہے ہمیں اس کو ہر قیمت پر محفوظ رکھنا ہے۔ ویسے بھی یہ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ متذکرہ بڑھی ہوئی کشیدگی میں خام تیل کی قیمتیں ایک ہی دن میں بڑھ گئی ہیں، جس کا اثر ملکی معیشت پر منفی پڑے گا عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھو ں پسے ہوئے ہیں اب مزید بار ہو گا،کیونکہ عالمی معیشت پر نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران، امریکہ تنازعہ بڑھا تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جو پاکستان جیسے ملک پر جس کا انحصار درآمدی تیل کی درآمد پر ہے منفی اثر پڑے گا،کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا 70فیصد درآمد کرتا ہے جو اربوں ڈالر میں ہے عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں یرغمال ہیں اور اب تو اپوزیشن بھی حکومتی بنچوں کے ساتھ جاملی ہے، لہٰذا اس کی آواز اٹھانے والا بھی کوئی نہیں ہو گا شاید اس لئے پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود نے اس حوالے سے حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور تحریک انصاف کی حکومت کے ڈیڑھ سال کو سیاہ ترین قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مہنگائی نے عوام کا جینا دو بھر کردیا ہے روزگار فراہم کرنے کی بجائے چھینا جارہا ہے لہٰذا حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے اگر انہیں مزید وقت مل گیا تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا کیونکہ ملک کو ناتجربہ کار ٹیم چلارہی ہے۔ البتہ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو ملک کی حقیقی قیادت قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اقتدار میں آ کر حقیقی تبدیلی لے آئیں گے۔ اب معلوم نہیں کہ یہ کیسی حقیقی تبدیلی کا خواب دیکھ رہے ہیں کیونکہ تبدیلی کے نام پر پہلے ہی عوام ایک بڑا عذاب بھگت رہے ہیں اب تبدیلی کے لفظ کی جگہ کوئی اور عوامی توجہ کا لفظ لانا ہوگا کیونکہ عوام خصوصاً جنوبی پنجاب کے عوام کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے نعرے سیاسی ہی ہوتے ہیں لیکن جب انہیں اپنے اقتدار کے لئے ضرورت پڑے تو آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم کے لئے اپنا حقیقی بیانیہ ہی تبدیل کرلینی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت تحریک انصاف اور دوسری سیاسی جماعتیں جنوبی پنجا ب کو صوبہ بنانے کے لئے ایوان کی اکثریت نہ ہونے کا رونا روتے رہے ہیں لیکن کیا وہ عوام کو یہ بتائیں گے کہ اب یہ تینوں بلکہ اور بھی سیاسی طور پر متحارب جماعتیں ایک ترمیم پر کس طرح اکٹھی ہوئی ہیں اور کس طرح الزام لگانے کا کھیل بند ہوا ہے، لیکن کیا وہ عوام کی سہولت کے لئے ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ سوال اب ان سیاسی جماعتوں کے سامنے آئندہ انتخابات میں آسکتا ہے۔

ادھر برصغر کے عظیم روحانی پیشوا شاہ رکن عالم کا 706واں عرس تین روز بعد اختتام پذیر ہوا دربار کے سجادہ نشین اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے اختتامی دعا کروائی اور کہا کہ نفسیاتی جنگ سے پاکستان میں انتشار پھیلا یا جارہا ہے۔بھارت نے ہمارے خلاف ہائبرڈ جنگ چھیڑ رکھی ہے اس لئے اس نازک مسئلے پر ہمیں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا تقریب کے اختتام پر وزیر خارجہ نے اسلامی ممالک کے اتحاد، بھارتی و کشمیری مسلمانوں پر مظالم کے خاتمے اور پاکستان کی سلامتی کے لئے دُعا کرائی ادھر میونسپل کارپوریشن ملتان کے سابق مئیر ملک شوکت علی ڈوگر علالت کے باعث گزشتہ روز انتقال کر گئے وہ سابق مئیر ملتان سابق رکن اسمبلی سینیٹر ملک صلاح الدین ڈوگر مرحوم کے چھوٹے، سابق ایم این اے ملک لیاقت ڈوگر کے بڑے بھائی، تحریک انصاف کے ایم این اے ملک عامر ڈوگر، عدنان ڈوگر اور عثمان ڈوگر کے چچا تھے انہیں سپرد خاک کردیا گیا ان کی نمازجنازہ اور قرآن خوانی میں ملک بھر سے سیاسی، سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...