متحدہ کو بلاو ل بھٹو کی پیشکش نے کراچی میں سیاسی ہلچل پیدا کی

متحدہ کو بلاو ل بھٹو کی پیشکش نے کراچی میں سیاسی ہلچل پیدا کی

  



ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

شہر کراچی کے خنک ترین دنوں میں اچانک سیاسی گرمی پیدا ہو گئی، جب چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے سرعام ایم کیو ایم کو وزارتوں کی پیشکش اس شرط کے ساتھ کی کہ وہ وفاق میں تحریک انصاف کی حمایت سے دستبردار ہوجائے اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو گرانے میں ساتھ دے۔ اسے مشروط پیشکش کہا جائے یا رشوت کہا جائے سیاسی ماہرین ابھی اس کا تعین نہیں کرسکے۔پی پی پی کے حمایتی اسے سیاسی چال قرار دے رہے ہیں۔ لیکن یہ بات بہت اہم ہے کہ سیاست دانوں نے ایک سیاسی بیانیہ اپنی محفلوں میں اور بیانات میں مشہور کر رکھا ہے کہ سیاست میں کوئی حتمی دوست یا دشمن نہیں ہوتا، گویا وہ خود ہی نظریات اور اخلاقیات کا گلا گھونٹ چکے ہیں۔سیاست مفادات کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔یہ پیشکش نہیں ہوئی کہ آؤ صوبہ سندھ کے مسائل کو مل کر حل کریں، بلکہ براہ راست مفادات کی پیشکش کردی گئی۔ بہرحال اس پیشکش نے تحریک انصاف کو بھی متحرک کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ کے مابین ملاقات ہوئی، بظاہر ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو ہوئی لیکن قرین قیاس ہے کہ گلے شکوے دور کرنے کے حوالے سے بھی پیشرفت کا امکان ہے۔ تحریک انصاف مزید پیش بندی کے طور پر اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز کے نام رقوم جاری کرنے کا بھی ارادہ کر رہی ہے۔ایم کیو ایم نے بھی کروٹ لی اور ہمیشہ کی طرح میئر کراچی کو تندو تیز بیان جاری کرنے کی ذمہ داری ڈالی گئی، وفاقی وزراء خاص طور پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی تاحال خاموش ہیں۔

وفاق میں آرمی ایکٹ کے بل کی منظوری کے لئے اپوزیشن کا ساتھ دینا اگر چہ اچھا تصور کیا جا رہا ہے، لیکن عوام حیران ضرور ہوں گے کہ دیگر عوامی مسائل کے حل کے لئے ایک ہونے کے خول سے کب باہر نکلیں گے۔ عوامی مسائل پر سیاست کیوں شروع ہوجاتی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے دست راست جہانگیر ترین کو بھی ٹاسک دیا ہے کہ وہ اتحادی جماعتوں کے گلے شکوے دور کرنے کے لیے متحرک ہوجائیں۔ ہر ایک کا یہی شکوہ ہے کہ 16 ماہ گزرنے کے باوجود وعدے پورے نہیں کیے گئے،جبکہ شروع میں ہم سنتے تھے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے لیے غیر مشروط حمایتیں آرہی ہیں۔اگر اتحادی جماعتوں نے تحریک انصاف سے کوئی معاہدہ کر رکھا ہے تو براہ مہربانی وہ عوام کے سامنے لائیں، تاکہ پتہ چل سکے کہ آخر وہ کون سے وعدے تھے جو وزیراعظم عمران خان نے پورے کرنے ہیں اور ان کا عرصہئ تکمیل کیا طے کیا گیا تھا۔یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے پاس ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں ہو گی،اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہر کوئی اپنے ذاتی مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے۔ عوام کو جو بتایا جا رہا ہے اس میں صداقت ڈھونڈنا پڑے گی۔

صوبہ سندھ کی تینوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کو اس بات پر رتی برابر بھی تشویش نہیں کہ 2019ء میں ہونے والے اسٹریٹ کرائمز کے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وہ کس قدر ہولناک ہیں۔ آخر یہ شہر کس طرف جارہا ہے۔ بیروزگاری اپنی جگہ بڑھ چکی ہے، اسٹریٹ کرائمز اور پولیس گردی کے باعث جنگل سے بھی بدتر ماحول دکھائی دے رہا ہے،اگر آج سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کے حوالے سے شہر کراچی میں عوامی سروے کیا جائے تو یقینا تینوں جماعتوں کا گراف گرتا ہوا دکھائی دے گا۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل اس قدر کمزور ہیں کہ ان کو یہ بھی خبر نہیں کہ اگر کوئی کامیابی ملی ہے تو اسے کس انداز سے عوام کے سامنے لانا ہے۔گذشتہ دنوں میرے علم میں یہ بات آئی کہ سندھ بینک بڑی مشکل سے واپس اچھی حالت میں لایا گیا ہے، اسی کا ایک ادارہ سندھ مائیکروفنانس بینک بہت اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے،لیکن حیرت ہے کہ مشیر اطلاعات سندھ کو اس کی خبر نہ ہو۔

اسی طرح گورنر ہاؤس سندھ میں احساس پروگرام کے تحت بلاسود قرضے جاری کرنے کیلئے چیک تقسیم کیے گئے۔ اسی پروگرام کے روح رواں عظمت صاحب جو غربت کے خاتمے کے ادارے کے چیف ایگزیکٹو ہیں، نے بتایا کہ جولائی میں وزیراعظم عمران خان نے اس پروگرام کا آغاز کیا تھا۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر اس پروگرام کی انچارج ہیں۔ اور ان پانچ مہینوں میں اب تک چار لاکھ افراد کو قرضے جاری ہوچکے ہیں۔ نامور این جی اوز کو اس پروگرام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ملک کے 100 اضلاع میں یہ پروگرام جاری ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ وفاقی حکومت کے میڈیا منیجرزاور مشیر اطلاعات اس پروگرام کو پروجیکٹ کرنے کا کوئی آئیڈیا رکھتی ہوں۔ میرے خیال میں وزیراعظم عمران خان کو اپنی میڈیا ٹیم پرایک مرتبہ پھر نظرثانی کرنی چاہیے جو ان کے بہتر کام بھی عوام کو بتانے کی بجائے اور کاموں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے نئے سال کا تحفہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں کو بڑھا کر دے دیا گیا ہے۔ اس پر کسی سیاسی جماعت نے دھرنا دینے کا اعلان نہیں کیا، اگر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری آرہی ہے، لیکن حکومتی اقدامات اس پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ لہذا مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔اسٹاک ایکسچینج بھی بہتر ہورہا ہے لیکن براہ راست بیرونی سرمایہ کاری جب تک نہیں آئے گی حقیقی طور پر بہتری ممکن دکھائی نہیں دیتی۔کراچی کے انڈسٹریل ایریاز کی زبوں حالی سب کے سامنے ہے، فیڈریشن کے انتخابات میں بڑی تبدیلی آئی ہے، طارق سعید اور میاں زاہد حسین اپنی کوششوں سے ایس ایم منیر گروپ کو زیر کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی ترقی کے لیے وہ کس قدر بہتر ثابت ہوں گے۔

پیپلزپارٹی نے بانی جماعت سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی92 ویں سالگرہ پُرجوش طریقے سے منائی۔مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں آرمی قواعد میں تینوں ترمیمی بل زیر غور آئے اور بعض تحفظات کا اظہار کیا گیا۔پی پی کے اراکین پارلیمینٹ اپنی طرف سے تجاویز پیش کریں گے۔بہرحال فیصلہ منظوری کے حق میں ہوا۔

مزید : ایڈیشن 1