رنچھوڑ لائن میں عمارت زمین بوس ہونے سے سبق حاصل نہ کیا جاسکا

رنچھوڑ لائن میں عمارت زمین بوس ہونے سے سبق حاصل نہ کیا جاسکا

  



کراچی (نمائندہ خصوصی) رنچھوڑ لائن میں پانچ منزلہ عمارت کے زمین بوس ہونے کے واقعے سے کوئی سبق حاصل نہ کیا گیا، اولڈ ٹاؤن صدر میں افغان نژاد لنڈے کے تاجروں نے خطرناک مشن شروع کردیا۔ پرانی عمارت کی بیسمنٹ میں دکانیں بنانے کا عمل جاری، بنیادوں کو شدید نقصان۔ تفصیلات کے مطابق بابائے اردو روڈ سول ہسپتال کے مین گیٹ کے بالکل سامنے واقع پانچ منزلہ شہباز پلازہ کے زمین بوس ہونے کے امکانات بڑھ گئے۔ عمارت کی بیسمنٹ میں قائم کارپارکنگ کو تجارتی مقاصد کیلئے مقامی شوز کمپنی کے مالکان نے فروخت کرڈالا۔ افغان نژاد لنڈے کے تاجروں نے خطیر رقم ادا کرکے جگہ قبضہ میں لے لی۔ اور راتوں رات بغیر کسی محکمے کی اجازت کے کھدائی شروع کروادی۔ تقریباً 15ڈمپر نے 300ٹن سے زائد ملبہ نکالا۔ اس طرح چار سے پانچ فٹ مزید گہرائی کردی گئی جس سے عمارت کی بنیادوں کو شدید نقصان پہنچا، مختلف جگہوں سے شٹرنگ کو کاٹا گیا۔ شہباز پلازہ کے مکینوں نے متعدد بار علاقہ پولیس کو 15 پر اطلاع دی تاہم پولیس اپنا حصہ لے کر خاموش ہوگئی۔معلوم ہوا ہے کہ لنڈے کے تاجر بیسمنٹ میں 20 دکانیں بنانا چاہتے ہیں، جس کے لیے دکانوں کی اونچائی بڑھانا ضروری ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، محکمہ انکروچمنٹ کو درخواستیں دی گئیں، لیکن تاحال کسی ادارے کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ علاقہ مکینوں نے کمشنر کراچی اور ڈپٹی کمشنر ساؤتھ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ رنچھوڑ لائن میں پانچ منزلہ عمارت کے زمین بوس ہونے کے واقعہ سے سبق حاصل کیا جائے اور ایسے مزید واقعات کو روکنے کے لئے سخت اقدامات اور ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔

مزید : صفحہ اول