”حملے سے پہلے ہمیں ایران کا پیغام ملا تھا اور اس لیے ہم نے ۔۔“عراقی وزیراعظم نے بڑا انکشاف کر دیا

”حملے سے پہلے ہمیں ایران کا پیغام ملا تھا اور اس لیے ہم نے ۔۔“عراقی وزیراعظم ...
”حملے سے پہلے ہمیں ایران کا پیغام ملا تھا اور اس لیے ہم نے ۔۔“عراقی وزیراعظم نے بڑا انکشاف کر دیا

  



بغداد (ڈیلی پاکستان آن لائن )عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے انکشاف کیاہے کہ ایران کی جانب سے پیغام موصل ہوا تھا جس میں قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب کا بتایا گیا تھا ، ایران نے کہا تھا کہ وہ صرف ان ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے جہاں پر امریکی فوجیں موجود ہیں ۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے انکشاف کیاہے کہ ایران کی جانب سے پیغام موصول ہوا تھا جس میں قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب کا بتایا گیا تھا ، ایران کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ وہ صرف ان ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے جہاں پر امریکی فوجیں موجود ہیں تاہم ان کی جانب سے جگہ کی معلومات نہیں دی گئی تھیں ، ایران کا پیغام ملتے ہی عراقی فوجیوں کو خبردار کر دیا گیا تھا ۔

عراقی وزیراعظم نے کہا کہ جس وقت میزائل امریکی فوجی اڈوں عین الاسد اور ہریر پر گر رہے تھے تو امریکہ کی جانب سے بھی رابطہ کیا گیا تھا ، عراقی فوج یا امریکی اتحادی افواج کی جانب سے ہلاکتوں کی اطلاعا ت موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ،فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں ، بین الاقوامی قوانین اور عراقی ریاست کا احترام کریں ، یہ تباہ کن صورتحال عراق اور پوری دنیا میں جنگ کا باعث بن سکتی ہے ۔

یاد رہے کہ گزشتہ رات ایران نے جنر ل قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں عراق میں امریکہ کے فوجی اڈوں پر 2 2 بلیسٹک میزائل فائر کیے اور دعویٰ کیا ان حملوں میں 80 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ امریکہ کو جنگی سازو سامان کی تباہی کا بھاری نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے تاہم امریکہ کی جانب سے تاحال نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں ۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے بغدادا یئر پورٹ پر ڈرون حملے کے دوران ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کر دیا تھا جبکہ ان کے ہمراہ عراق کے فوجی افسر بھی مارے گئے تھے جس کے بعد ایران نے بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا ۔

مزید : Breaking News /بین الاقوامی


loading...