مالم جبہ میں ارتضیٰ کی موت

مالم جبہ میں ارتضیٰ کی موت
مالم جبہ میں ارتضیٰ کی موت

  



اگرپاکستان کی سرزمین پرکہیں جنت ہےتووہ شمالی علاقہ جات کےنظارے ہیں،ایسےلگتاہےکہ قدرت نےاِن نظاروں کوبنانے کےلیےفرصت کےلمحےکاانتخاب کیاہے،پاکستانی شہری ہوں یا پھردوسرے ملکوں سے آنے والے سیاح؟جو بھی شمالی علاقہ جات کی ایک بارسیرکرلیتاہے،اِس پرایساسحرطاری ہوتاہے کہ جسے چاہ کربھی بھلایانہیں جاسکتامگرکچھ باتیں وہاں جانےوالوں کوتکلیف دیتی ہیں اوربعض دفعہ توواقعات ناقابل فراموش ہوجاتے ہیں،پھرایسےلوگوں کویہی جنت کےنظارے ایک بھیانک خواب کی طرح لگتےہیں۔پنجاب

یونیورسٹی سے ماس کام کرنے کے بعد سی ایس ایس کرنے والے جوہرٹاؤن لاہورکے رہائشی اِرتضیٰ کی زندگی کااختتام اِنہیں وادیوں میں ہوا،اِس کی آخری سانسیں مالم جبہ کی چوٹی پرگرین پیلس کے غسل خانے میں ہوئی،نہانے کے دوران ہی اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی،نہانے کا دورانیہ زیادہ ہوا تو ساتھ گئے اہل خانہ کو تشویش ہوئی اور دروازہ توڑنے پر معلوم ہوا کہ اس کی آخری سانسیں چل رہی ہیں،خوبصورت مگر بنیادی سہولیات سے محروم اِن پہاڑیوں میں بے بسی کی تصویر بنے اہل خانہ کے ہاتھوں میں ہی لختِ جگر کی موت ہوگئی مگرتسلی بخش طبی امدادمیسرنہ ہوسکی،شایدقدرت نےاسےاپنےپاس بلانےسےپہلےاپنی دنیا کی خوبصورتی دیکھنےکاآخری موقع دیناتھاکہ وہاں کھچاچلاگیا۔

ارتضیٰ ایک بھلاانسان تھااوراپنے خوابوں کی تعبیر کےلیےعلم کی شمع روشن کیے ہوئے تھا،اسے کیامعلوم تھا کہ اس کی زندگی کاچراغ ہی بجھنے والا ہے اور وہ بھی مالم جبہ میں سیاحت کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کے دوران ۔۔۔ایساواقعہ جو زندگی بھرنہ اہل خانہ کو بھول سکتاہے،نہ اس کے ہم جماعتوں کو بھول پائے گا،اس طالب علم کو جاننے والے اپنے پرائے سبھی افسردہ ہیں اورسبھی غمزدہ ہیں۔۔یہ توایک اِرتضی ہے،نجانے اب تک کتنے اِرتضیٰ اِن پہاڑوں کی خوبصورتی دیکھنے کے شوق میں اپنی خوبصورت زندگی قربان کر چکے ہیں۔

اب ہمیں کیاکرناہے؟اِرتضیٰ کی موت کوایک افسوسناک واقعہ کہہ کر بھول جائیں؟ اس کی موت کی جگہ،وجہ اوردن ہی یہی مقررتھا،یہ کہہ کر خدا کی رضا پرراضی رہیں یا پھرکچھ ہماری بھی ذمہ داری ہے؟موت کاوقت مقرر ہے،اس سے انکار ممکن نہیں،مگرجب ہم اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے اوران غیرذمہ داریوں کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہوتی ہے تو پھرافسوس کامقام ہے اورہمیں اپنے اعمال اورسوچ پرنظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔پھرکیاکریں؟

وزیراعظم عمران خان کی یہ اچھی بات تھی اورہے کہ وہ جب پاکستان کو اوپر اٹھانے کے عزم کااظہارکرتے تووہ بطورخاص سیاحت کے فروغ کی بات کرتے تھے اورابھی تک کرتے ہیں،وہ قوم کو بار بار باور کراتے کہ یہاں سیاحت سے بہت پیسہ کمایاجاسکتاہے اورحقیقت بھی یہی ہےمگرہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ ساری دنیا پاکستانیوں کی طرح بناسوچے سمجھے کہیں سیرکونہیں نکل پڑتی،لوگ پہلے انٹرنیٹ پرچیک کرتے ہیں کہ وہ جہاں جانا چاہ رہے ہیں،وہاں کے حالات کیا ہیں؟ایک سیاح کو بنیادی ضروریات چاہئیں۔اسے متعلقہ جگہ پرپہنچنے کے لیے اچھی سڑک کی ضرورت ہے،ٹرانسپورٹ کی سہولت،معیاری اورسستے کھانے پینے کی اشیا،رہنے کے لیے محفوظ جگہ جہاں تمام بنیادی سہولیات میسرہوں،سیکیورٹی کی صورتحال اورطبعیت خراب ہونےکی صورت میں کوئی مناسب ہسپتال،کوئی ابتدائی طبی امداد کانظام،ریسکیوسروس یاپھردشوار گزارسڑکوں کی صورت میں ہنگامی فضائی امداد کی سہولت میسرہے؟حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں اورسیاحت کوفروغ دینے والوں کو یہ فوری جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ مالم جبہ سمیت دیگرسیاحتی مقامات پر متعلقہ تمام سہولیات میسر ہیں؟جہاں کہیں بھی کوتاہی یاغیردستیابی ہے تواسے فوری یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

اِرتضیٰ کے اہل خانہ اوراس کے دوستوں کاکہناہے کہ اِرتضیٰ کی موت غسل خانے میں گیس لیکج کی وجہ سے ہوئی،کچھ کاخیال ہے کہ موت کی وجہ دل کادورہ بھی ہوسکتاہے لیکن سب سے بڑا معاملہ اورقابل غورامر یہ ہے کہ مالم جبہ میں اِرتضیٰ کو فوری طبی امداد نہٰیں مل سکی،ایک ڈسپنسری مشکل سے ملی جہاں بھی ماہرڈاکٹردستیاب نہیں تھاجواِرتضیٰ کی سانسیں بحال کرسکتا،مجبوراانہیں دور درازعلاقے میں جانا پڑا،تب تک روح جسم کاساتھ چھوڑچکی تھی،موت کی وجہ گیس لیکج ہویاہارٹ اٹیک،دونوں صورتوں میں اِرتضیٰ کو فوری طبی امداد مل جاتی توشایدآج وہ زندہ ہوتامگرہم سیاحت کوفروغ دینا چاہتے ہیں،ہم پاکستان کو اوپر اٹھاناچاہتے ہیں،ہم دنیا کوبتارہے ہیں کہ یہاں دیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے،کیاہم سیاحوں کو جن علاقوں میں آنے کی دعوت دے رہے ہیں،وہاں تمام سہولیات بھی میسر ہیں یاپھرکبوترکی طرح حقائق سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان جس طاقت سے ملک کی بہتری کیلئے کوششیں کررہے ہیں اِنہیں ذاتی دلچسپی لے کرپہاڑی علاقوں کے سیاحتی مقامات پراچھے ہسپتالوں سمیت تمام سہولیات کی فراہمی فوری یقینی بنانے کے احکامات دینے کی بھی ضرورت ہے کیوں کہ سیاحت کوحقیقی معنوں میں فروغ دینے کیلئے یہ سب ضروری ہے،بصورت دیگراِرتضیٰ جیسے سیاحت پسندلوگ عدم سہولیات کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔

بلاگرمناظرعلی سینئر صحافی اور مختلف اخبارات،ٹی وی چینلزکے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں،آج کل لاہورکے ایک نجی ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں، عوامی مسائل اجاگر کرنے کیلئے مختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں،اس فیس بک لنک پراُن سے رابطہ کیا جا سکتا ہے(www.facebook.com/munazer.ali)

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...