پارلیمنٹ میں ’مجبوریوں‘ نے پھر نظریہ ضرورت کو جنم دیا ،تبدیلی اور ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ بے نقاب ہوگیا:لیاقت بلوچ

پارلیمنٹ میں ’مجبوریوں‘ نے پھر نظریہ ضرورت کو جنم دیا ،تبدیلی اور ووٹ کو ...
پارلیمنٹ میں ’مجبوریوں‘ نے پھر نظریہ ضرورت کو جنم دیا ،تبدیلی اور ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ بے نقاب ہوگیا:لیاقت بلوچ

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے  کہاہے کہ پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی، پی پی، مسلم لیگ کی مجبوریوں نے پھر نظریہ ضرورت کو جنم دیاہے،ووٹ کو عزت دو، تبدیلی اورسٹیٹس کو توڑنے کا بیانیہ بے نقاب ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے قومی ا سمبلی، سینیٹ کی پارٹیاں تو دبالی گئیں لیکن عوام کے دلوں اور جمہوری ارمانوں کا کچلنا بھاری ثابت ہوگا، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قانون سازی کے آئینی ضابطوں کی بھی پابندی نہیں کی گئی،ترمیم کی جلد بازی میں ہر شے کو بلڈوز کردیا گیا، جب تباہ کن اکثریت ترمیم کے حق میں جمع تھی تو اختلافی موقف بھی تو ریکارڈ پر آنا چاہیے تھا،پی ٹی آئی، پی پی پی اور مسلم لیگ بھی اپنے اتفاق رائے کا کلیہ بتا دیتے۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ پاک فوج قومی ادارہ ہے اور اس کے سربراہ کی بہت اہمیت ہے،وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کی تقرری توسیع میں بھی بلنڈر کیے اور قانون سازی کے لیے بھی حکومت اور اپوزیشن کی اہم جماعتوں نے بھی عدم حکمت کی انتہا کر دی، اس سارے کھیل میں حکومت اور پارلیمنٹ کا وقار بری طرح مجروح ہوا ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے دفاع کے اجلاس میں کمیٹی ممبرسینیٹرمشتاق احمد خان کو دعوت نامہ ہی نہ دیا گیا، پندرہ منٹ کے نوٹس پر حمایتی ممبر جمع ہو گئے،سینیٹ میں قانون سازی کے مرحلہ پر ترامیم بھی پیش نہ کرنے دیں، قانون سازی کو بلڈوز ہی نہیں، طاقتور بلڈوزر چلا دیا گیا،ووٹ کو عزت دو، تبدیلی اور سٹیٹس کو توڑنے کا بیانیہ بے نقاب ہوگیا ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...