متعدد ممالک کا ایران اور عراق کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا فیصلہ

متعدد ممالک کا ایران اور عراق کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا فیصلہ
متعدد ممالک کا ایران اور عراق کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا فیصلہ

  



ماسکو(ڈیلی پاکستان آن لائن)عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں کے بعد کئی ملکوں کی فضائی کمپنیوں نے اپنے روٹ تبدیل کرلیے۔

نجی ٹی وی کے مطابق روسی فیڈرل ایجنسی برائے ہوابازی نے ایران اور عراق کی فضائی حدود نہ استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا،روسی فضائی کمپنیوں کو ایران، عراق سمیت عرب ممالک اور خلیج عمان نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔روسی فضائی کمپنیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں کیلئے ٹرانزٹ پروازیں بھی نہ چلائیں۔جن دیگر فضائی کمپنیوں نے اپنے روٹس تبدیل کیے ان میں ایمریٹس ائیرلائن، فلائی دبئی، ائیرفرانس، آسٹریلیا کی قنطاس ائیر ویز، برٹش ائیرویز ، سنگاپور ائیرلائنز، ملائیشین ائیرلائنز، ائیر کینیڈا اور تائیوان کی چائنا ائیرلائنز شامل ہیں جبکہ بھارت کی ائیر انڈیا نے بھی ایران کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ 3 جنوری 2020 کو ایران کے اہم ترین کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی گاڑی کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ائیرپورٹ کے قریب امریکی صدر کے حکم پر نشانہ بنایا گیا اور ان کی گاڑی پر ڈرون کے ذریعے راکٹ فائر کیے گئے جس میں قاسم سلیمانی جاں بحق ہوگئے۔میجر جنرل قاسم سلیمانی کی موت کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور خطے پر جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں۔اسی دوران بدھ کو ایران میں یوکرین کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس میں سوار عملے کے افراد سمیت تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یوکرین کا بوئنگ 737 طیارہ تہران کے قریب گر کر تباہ ہوا۔ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق طیارہ فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہونیکا خدشہ ہے تاہم واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف ایرانی حملےکے بعد وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس میں پالیسی بیان دیتےہوئے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےکہاکہ امریکہ کےپیشگی وارننگ سسٹم نےاچھاکام کیاہے ، امریکی عوام کے لیے یہ خوشی کی بات ہے کہ ایرانی حملے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ہمارے تمام فوجی ٹھیک ہیں اور صرف فوجی اڈے کو معمولی نقصان پہنچا ہے، امریکی فوج ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے،نیٹو ایران تنازعہ پر آگے بڑھے اور اپنا کردار ادا کرے، نیٹو مشرق وسطی میں مداخلت بڑھائے،ایران دہشت گردوں کا سرپرست اعلیٰ ہے ،ایران کو بہت وقت سے برداشت کر رہے ہیں ،ایران سے مہذب دنیا خوفزدہ ہے،ایران نے یمن ،عراق ،لبنان اور افغانستان میں تباہی مچائی ، قومیں ایران کا رویہ کئی دہائیوں سے برداشت کرتی رہی ہیں تاہم اب ایران کو ایسا کچھ نہیں کرنے دیں گے، ایران پستی کی جانب جا رہا ہے جو دنیا کے لیے خوشی کی بات ہے،ایران کی دہشت گردی، قتل اور فساد کی پالیسی برداشت نہیں کی جائےگی، ایران پرنئی اورسخت معاشی پابندیاں عائدکریں گے، امریکی افواج ہرقسم کےحالات کے لئے تیار ہے، امریکاخودمختارہے ہمیں مشرق وسطیٰ کےتیل کی ضرورت نہیں، ہمارے میزائل طاقتور اور انتہائی تباہ کن ہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...