سانحہ مچھ، ہزارہ برادری کا احتجاج اور حکومتی رویہ!

سانحہ مچھ، ہزارہ برادری کا احتجاج اور حکومتی رویہ!
سانحہ مچھ، ہزارہ برادری کا احتجاج اور حکومتی رویہ!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


بلوچستان کی ہزارہ برادری کی طرف سے مچھ میں ذبح کئے جانے والے کان کنوں کی میتوں کے ساتھ دھرنے کو آج پانچ روز بھی گزر گئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان، وزیر داخلہ شیخ رشید اور معاون خصوصی ذلفی بخاری سے مذاکرات کے باجود مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ وزیراعظم خود آکر ہزارہ برادری کے تحفظات سے آگاہ ہوں اور ان کی جان و مال کے تحفظ کا انتظام کریں، مچھ میں دہشت گردوں نے جو دو درجن سے زائد تھے، سوئے ہوئے کان کنوں کو جگایا اور سابقہ روائت کے مطابق شناخت کرکے گیارہ افراد کو ساتھ لے گئے اور ہاتھ پاؤں باندھ کر تیز دھار آلات سے ذبح کر دیا، اس پر ہزارہ برادری میں رنج و غصہ پیدا ہوا اور انہوں نے میتوں کو غسل اور کفن کے بعد دفن کرنے سے انکار کر دیا اور کوئٹہ میں شدید سردی (منفی درجہ حرارت) میں مرد و زن اور بچوں سمیت میتوں کے ساتھ دھرنا دے دیا،جو اب تک کی اطلاع کے مطابق پانچویں روز بھی جاری رہا، اس عرصہ میں حکومتی عمال نے بار بار درخواست کی، لیکن یہ دھرنا ختم نہ کرا سکے کہ مطالبہ وزیراعظم کی آمد کا ہے۔


وزیراعظم عمران خان نے بھی اس سانحہ پر دکھ کا اظہار کیا، اور اب یہ کہا ہے کہ غم زدہ افراد خانہ اپنے پیاروں کو اللہ کے سپرد کر دیں وہ ان کے مطالبات سننے کے لئے آئیں گے۔ اس بیان سے تو یہ احساس ہوا کہ وزیراعظم نے کوئٹہ جانے کے لئے ایک مشروط پیش کش کی ہے۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ دھرنا کے ماحول میں جانے سے حالات میں کوئی منفی ردعمل ہو سکتا ہے۔ حالانکہ ہزارہ برادری کے اکابرین کا یہ کہنا ہے کہ متاثرہ، غم زدہ لوگ وزیراعظم کو اپنی مشکلات سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں، بہرحال یہ خودکپتان کی اپنی صوابدید ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ عام لوگوں کا تو یہی خیال ہے، ان کو پہلی ہی فرصت میں چلے جانا چاہیے تھا۔ ہزارہ برادری کے لوگ ایک قبیلے کی شکل میں بلوچستان میں آباد ہیں اور کوئٹہ میں ان کی پوری بستی ہے۔ یہ حضرات پہلے بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں اور سابقہ دور میں بسوں کے ایک قافلے کو روک کر ایسا ہی بہیمانہ سلوک کیا گیا  تب پہلی مرتبہ میتوں کے ساتھ دھرنا دیا گیا، تب کپتان اقتدار میں نہیں تھے، انہوں نے زور دیا تھا کہ سربراہ حکومت خود جائیں، تب صدر مملکت آصف علی زرداری گئے، متاثرین کی بات سنی اور ان کی تشفی کی، جس پر دھرنا ختم ہوا، اب متاثرین پھر وہی مطالبہ کر رہے ہیں اور کپتان ابھی تک خود نہیں گئے۔


اب اطلاع یہ بھی ہے کہ آج (جمعرات) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی آمد متوقع تھی، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے تو خود اعلان کیا کہ وہ کوئٹہ جا رہی ہیں، ایسے حادثات اور سانحات کی صورت میں تو کوئی تحفظ نہیں ہوتا اور بلا امتیاز سیاسی رہنما جاتے ہیں، اس بار حزب اختلاف والوں نے بھی تاخیر کی، جو ہمارے خیال میں بہتر ہی ہوا کہ شدید محاذ آرائی کے موجودہ ماحول میں اپوزیشن رہنماؤں نے ہزارہ برادری کے سوگ کو بھی اپنے موقف ہی کے مطابق استعمال کرنا ہے۔اب اپوزیشن کے قائدین بہرحال جا رہے ہیں اور وہ جہاں مقتولین کے ورثاء اور ہزارہ برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے تو تنقید بھی شدید ہی کریں گے۔


ہزارہ برادری کے موجودہ سانحہ کی مولانا فضل الرحمن نے بھی مذمت کی اور متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے خلاف غفلت کا الزام لگایا ہے، اب یہ غفلت کہاں اور کیسے ہے، یہ الزام لگانے والے اور جواب دینے والے ہی جانتے ہیں، یہاں تو یہ خوف طاری تھا کہ ازلی دشمن بھارت فرقہ وارانہ فسادات کی جو کوشش کر رہا ہے، اسے اس سانحہ سے مدد ملے گی اور اس کی ریشہ دوانیاں بڑھ جائیں گی، تاہم خود ہزارہ برادری،پاکستان کے عوام اور مختلف ممالک کے حضرات نے اس سانحہ کی شدید مذمت کرکے ایسی سازش کو تو ناکام بنا دیا، البتہاس سلسلے میں جو احتجاج بڑھا ہے، اسے نہیں بڑھنا چاہیے تھا اور اسے روکنا خود حکومت کے لئے بھی بہتر ثابت ہوتا۔جو بھی ہوا ہو گیا، ہمارے قائدین کو اب خود ہی محتاط رہ کر ہدایات دینا ہوں گی کہ یہ سانحہ ایسے ہی نظر آئے، جیسا ہے۔ کسی بھی فریق کو غم کی اس واردات کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہیے اور ایسی دہشت گردی کو روکنے کے لئے سب کو آپس میں تعاون کرنا چاہیے، ایک اطلاع عرض کرکے بات ختم کرتے ہیں کہ ماضی میں متاثرین کے لئے جن رقوم کا اعلان کیا گیا، وہ ان تک نہیں پہنچیں، یہ متاثرین کو ملنا چاہئیں اور تحقیق کے بعد روشن چہرے سے داغ مٹانا چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -