صدقہ و خیرات کے دس احکام ومسائل

 صدقہ و خیرات کے دس احکام ومسائل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
اللہ تعالی کو راضی کرنے کے لیے اپنے مال کواس کی راہ میں خرچ کرنا ”صدقہ“ کہلاتا ہے۔ قرآن و سنت میں صدقہ کے بے حد فضائل اورفوائد مذکور ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر صدقہ سے متعلق چند اہم باتیں ذکر کی جاتی ہیں جنہیں اس نیک عمل کے وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
1: نیت کی درستگی:
ہر نیک عمل کے وقت نیت کا درست ہونا ضروری ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ اس نیک عمل سے اللہ راضی ہو جائیں۔ دنیاوی شہرت اور ریا کاری وغیرہ سے انسان خود کو بچائے ورنہ نیک عمل کے باوجود اللہ کے ہاں عذاب ہوگا۔ حدیث مبارک میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے چند ایسے لوگوں کا تذکرہ فرمایا ہے کہ جنہوں نے دنیا میں بظاہر نیک اعمال کیے ہوں گے لیکن قیامت کے دن ان کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا وجہ یہ ہو گی کہ انہوں نے وہ کام اللہ کو راضی کرنے کے بجائے دنیاوی شہرت کے لیے کیے ہوں گے۔ 
ایک وہ شخص کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال میں وسعت اور فراخی عطا فرمائی ہوگی اور مال کی اکثر اقسام اس کو دی ہوں گی۔اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لایا جائے گا اس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں دکھلائیں گے جسے وہ پہچان لے گا۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے پوچھیں گے: تو نے اس کے لیے کیا کیا؟ وہ کہے گا کہ میں نے کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی کہ جہاں خرچ کرنا آپ کو پسند ہو اور میں نے وہاں آپ کو راضی کرنے کے لیے خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تو جھوٹ بول رہا ہے۔ ہاں تو نے اس لیے خرچ کیا تاکہ لوگ تجھے سخی کہیں اور اس کا چرچا ہو چکا دنیا میں لوگوں نے تجھے سخی کہہ لیا۔ اس کے بارے حکم ہو گا کہ اسیمنہ کے بل گھسیٹ کرجہنم میں ڈال دیا جائے۔(صحیح مسلم، الرقم:4958)
2:حلال مال صدقہ کریں: 
مفہوم آیت: اے ایمان والو!جو کچھ تم نے کمایا ہو اور جو پیداوار ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہو اس کی اچھی چیزوں کا ایک حصہ اللہ کے راستے میں خرچ کیا کرو۔ اور یہ نیت نہ رکھو کہ بس ایسی خراب قسم کی چیزیں اللہ کے نام پر دیا کرو گے جو اگر کوئی دوسرا تمہیں دے تو نفرت کی وجہ سے تم اسے آنکھیں جھکائے بغیر نہ لے سکو اور یہ بات اچھی طرح یاد رکھو کہ اللہ کی ذات ایسی بے نیاز ہے کہ ہر قسم کی تعریف بالآخر اسی کی طرف ہی لوٹ کر آتی ہے۔ (سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:267)
3: عمدہ اور پسندیدہ مال صدقہ کریں:
مفہوم آیت: کبھی بھی تم نیکی کے اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تم ان چیزوں میں سے اللہ کے لیے خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو اللہ اس کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:92)
4:پہلے مستحق رشتہ داروں کو صدقہ دیں:
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین کو صدقہ دینے کا ایک ثواب ہے جبکہ مستحق رشتہ دار کو صدقہ دینے کا دوگنا ثواب ہے صدقے کا اور صلہ رحمی کا۔ (سنن النسائی، الرقم:2582)
5:صدقہ سے بیماریوں کو بھگائیں:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنی بیماریوں کا علاج صدقہ کے ذریعے کرو۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی، الرقم: 6593)
6:مخفی اور ا علانیہ صدقہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:چپکے سے صدقہ کرنا رب تعالیٰ کے غضب کو دور کرتا ہے اور علانیہ صدقہ کرنا بری موت سے بچاتا ہے۔(شعب الایمان للبیہقی، الرقم: 7704)
7: اعلانیہ بہتر اور مخفی زیادہ بہتر:
مفہوم آیت: صدقات کو اگر تم ظاہر کرکے دو تب بھی اچھی بات ہے اور اگر تم اسے چھپا کر فقراء کو دے دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔اور اللہ تعالیٰ تمہارے کچھ گناہ معاف فرمادیں گے اور تمہارے کاموں کی اللہ کو خوب خبر ہے۔ (سورۃ البقرۃ،رقم الآیۃ:271)
8:حالت کے پیش نظر اعلانیہ صدقہ:
صدقہ دونوں طرح سے کرنا درست ہے ظاہر کر کے بھی کیا جائے تو اس میں حرج نہیں اور چھپا کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جہاں ظاہر کر کے دینا زیادہ بہتر ہوتا ہے تاکہ باقی لوگوں میں بھی اس کی ترغیب اور شوق پیدا ہو اور وہ بھی نیکی کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اللہ کی رضا کو فراموش کر کے اپنی بڑائی، برتری اور شہرت کی خاطر ایسا کرنا ”ریا“ کہلاتا ہے۔ قرآن کریم نے کھلم کھلا صدقہ کرنے کی مذمت نہیں بلکہ تعریف فرمائی ہے اس لیے خشک طبیعت دینی اسرار و رموز سے ناواقف لوگوں کے اس دھوکے کا شکار ہرگز نہ ہوں کہ کھلم کھلا صدقہ کرنے سے ثواب نہیں ملتا، یہ سراسر دھوکہ ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص علی الاعلان صدقہ کرتا ہے اور اس کی جائز مقاصد کے پیش نظر مناسب تشہیر بھی کرتا ہے تاکہ اور لوگوں میں بھی شوق پیدا ہو یا مال دینے والوں کو یقین ہو جائے کہ ان کا دیا ہوا مال مستحق لوگوں تک پہنچ رہا ہے تو یہ عمل ہرگز شریعت کے خلاف نہیں۔ 
9: صدقہ ضائع نہ کریں:
مفہوم آیت: اے ایمان والو!اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور(جس کو صدقہ دیا ہے اسے)تکلیف پہنچا کر ضائع نہ کرو۔(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:264)
تنبیہہ: موجودہ حالات میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے مخیر لوگ دل کھول کر صدقہ دے رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کے اس نیک عمل کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کسی کو صدقہ دیتے وقت اس کی عزت نفس مجروح نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے ہاں یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ لوگ کسی کو معمولی چیز دیتے وقت بھی اس کی تصویر بنواتے ہیں اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلاتے ہیں بعض مرتبہ کوئی چیز دیتے وقت کئی کئی لوگ اس کی تصویر بنوانے میں مصروف ہوتے ہیں۔یہ گھٹیا حرکت ہے اسی وجہ سے مستحق لوگ بھی صدقہ لینے نہیں آتے۔ 
10: صدقہ میں دینی مکاتب کو نہ بھولیں:
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے مخاطب!تیرا کھانا صرف دین دار متقی لوگ ہی کھائیں۔ (شعب الایمان للبیہقی، الرقم:8938)
عام خیال یہ ہے کہ موجودہ وبائی صورتحال کی وجہ سے آنے والے معاشی بحران سے غریب،مسکین خصوصاً دیہاڑی دار طبقہ بہت متاثر ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں واقعتاً ایسا ہی ہے لیکن یہ بات بھی یاد رہے کہ ان حالات کا اثر دینی مکاتب پر بھی بہت بری طرح پڑا ہے۔ دینی مکاتب میں طلباء جو اس معاشرے کا اثاثہ اور سرمایہ ہیں ان کی تمام بنیادی ضروریات پوری کی جاتی ہیں جن میں کھانا، رہائش، لباس، کتب اور علاج معالجہ اور وظائف وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اساتذہ و عملہ کی ماہانہ تنخواہیں، راشن اور یوٹیلیٹی بلز اور تعمیرات وغیرہ جیسے اخراجات بھی عشر، زکوٰۃ، صدقات اور عطیات سے پورے کرتے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -