چند سول سرونٹس کے تحفظات پر قانون کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا: چیف جسٹس

    چند سول سرونٹس کے تحفظات پر قانون کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا: چیف جسٹس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اسلام آباد(آئی این پی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبرپختونخوا میں ملازمین ریٹائرمنٹ عمر بڑھانے کیخلاف ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے،صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،سپریم کورٹ نے معاملہ دوبارہ فیصلہ کیلئے پشاور ہائیکورٹ کو واپس بھجوا دیا ہے، عدالت نے ہدایت کی کہ پشاور ہائیکورٹ قانون کے مطابق کیس کا فیصلہ کرے،چیف جسٹس نے کہا چند سول سرونٹس کے تحفظات پر قانون کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا،صرف وضاحتوں سے قانون چیلنج نہیں ہوتے،قانون بنانا حکومت کا کام ہے، عدالتیں عملدرآمد کرواتی ہیں، قانون آئین کے تحت بنتا ہے،رولز آف بزنس سے نہیں، اگر کسی کو اسمبلی کی کارروائی پر اعتراض ہے تو شکایت کرے،جسٹس منیب اختر نے کہا جب روٹی پک چکی تو یہ پوچھنا بے کار ہے کہ آٹا کہاں سے آیا، جب قانون پر گورنر کے دستخط ہوگئے تو معاملہ ختم ہوگیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا قانون سازی میں کسی کا موقف سننے کا تصور نہیں ہے۔
چیف جسٹس 

مزید :

صفحہ آخر -