سندھ ہائیکورٹ، ڈینئل پرل کیس، سیکرٹری داخلہ اور جیل حکام کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم 

سندھ ہائیکورٹ، ڈینئل پرل کیس، سیکرٹری داخلہ اور جیل حکام کو آئندہ سماعت پر ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 کراچی(این این آئی) سندھ ہائیکورٹ نے ڈینیل پرل قتل کیس میں احمد عمر شیخ و دیگر ملزمان کو جیل سے رہا نہ کرنے سے متعلق چیف سیکرٹری، محکمہ داخلہ، جیل حکام و دیگر کیخلاف توہین عدالت درخواست پر آئندہ سماعت پر تمام اعلی حکام کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت13جنوری تک ملتوی کردی۔جمعرات کوجسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں سندھ ہائیکورٹ کے 2رکنی بینچ کے روبرو ڈینیل پرل قتل کیس میں احمد عمر شیخ و دیگر ملزمان کو جیل سے رہا نہ کرنے سے متعلق چیف سیکریٹری، محکمہ داخلہ، جیل حکام و دیگر کیخلاف توہین عدالت درخواست کی سماعت ہوئی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین، سیکریٹری محکمہ داخلہ عثمان چاچڑ اور سپرینڈنٹنٹ سینٹرل جیل حسن سہتو سمیت پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے۔سندھ ہائیکورٹ نے سوال کیا کہ عدالتی آرڈر کے باوجود ملزمان کو کیوں رہا نہیں کیا جارہا ہے، جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، ملزمان کی جانب سے دائر درخواست غیر موثر ہوچکی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو رہی ہے، ملزمان کی نظر بندی اور بریت کے خلاف اپیل الگ الگ ہیں۔دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ ممتاز علی شاہ کہاں ہیں۔ جونیئر افسر نے کہا کہ میں ان کی نمائندگی کرنے آیا ہوں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے توہین عدالت درخواست کے زیر سماعت ہونے تک سب اعلی افسران کو آنا پڑے گا۔ چیف سیکرٹری سندھ ممتاز علی شاہ کی عدم پیشی پر عدالت نے اظہار ناراضی کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے توہین عدالت کی درخواست ہے جونیئر افسر نمائندگی نہیں کر سکتا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جنہیں توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے، کیا آج پیش ہوئے؟ عدالت نے آبزرویشن دی کیا وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے آج؟ جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے توہین عدالت کی درخواست ہے سب کو خود آنا پڑے گا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیا کہ اپیل کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہو رہی ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے قتل کیس کی اپیل اور حراست میں رکھنا 2الگ معاملے ہیں۔ قتل کیس کی سماعت تو سپریم کورٹ میں چل رہی ہے۔ حراست میں رکھنے کا معاملہ آپ قتل کیس اپیل سے کیسے ملا سکتے ہیں۔
 سندہ ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ آخر -