متاثرین کا دھرنا برقرار، کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال شیعہ علما ء کونسل کا آج ملک گیر احتجاج کااعلان 

      متاثرین کا دھرنا برقرار، کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال شیعہ علما ء کونسل کا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کوئٹہ،راولپنڈی، لاہور،کراچی (کرائم رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) کوئٹہ میں مغربی بائی پاس پر سانحہ مچھ کے متاثرین کا میتوں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا پانچویں روز بھی جاری رہا،جبکہ ہزارہ برادی سے اظہار یکجہتی کیلئے دارالحکومت کوئٹہ شہر میں شٹرڈاون ہڑتال کی گئی۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے سانحہ مچھ میں 11 کان کنوں کے قتل پرجوائنٹ انٹیرو گیشن ٹیم بنانے کا حکم دیدیا۔ جمعرات کو وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیرصدارت اجلاس صوبے میں امن و امان سے متعلق خصوصی اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ،چیف سیکرٹری بلوچستان بھی شریک ہو ئے۔اجلاس میں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ عبدالخالق ہزارہ سمیت قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سمیت حکام نے مچھ واقعے پر محکمہ معدنیات کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا مائنز ڈیپارٹمنٹ نے مزدوروں کاڈیٹا کیوں نہیں بنایا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ کا سانحہ مچھ کی تحقیقات کیلئے جی آئی ٹی بنانے کا حکم دیا۔اس سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں مچھ واقعے کے لواحقین کو میتوں کی تدفین کی دوبارہ اپیل کی اور کہا مذہبی فریضے کی ادائیگی میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ بعدازاں وزیراعلیٰ بلوچستان نے ڈپٹی کمشنر کچھی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر(ڈی پی او)کو عہدے سے ہٹادیا۔بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ڈی سی کچھی اور ڈی پی او کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ وزیراعلی بلوچستان نے مچھ میں پیش آئے اندوہناک واقعے پر سخت اظہار ناراضی کیا۔چیف سیکرٹری نے غفلت برتنے پر ڈپٹی کمشنرکچھی کو ہٹانے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا۔وزیراعلیٰ جام کمال نے بلوچستان بھر میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کی ہدایت کی ہے۔ دوسری طرف شیعہ علماء کونسل پاکستان نے قائد ملت جعفریہ پاکستان کے حکم پر سانحہ گیشتری مچھ کیخلاف اور مظلوموں سے اظہار یکجہتی اور ان کے مطالبات پر عملدرآمد کیلئے آج بروز جمعہ ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت وفاقی دارالحکومت سمیت چارو ں صوبوں بشمول کشمیر و گلگت بلتستان میں احتجاجی پروگرام ہونگے،شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، صوبائی صدر سندھ علامہ ناظر عباس تقوی اورصوبائی رہنما علامہ عابد رضا عرفانی پر مشتمل تین رکنی مرکزی وفد کوئٹہ دھرنا میں شرکت کیلئے دو روز سے موجود رہے، جس نے قائد ملت جعفریہ پاکستان کا تعزیتی پیغام پہنچایا اور سانحہ مچھ پر شد ید احتجاج ریکارڈ کر ایا،علامہ عارف واحدی نے کہا جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہوتے احتجاج جار ی رہے گا،خطبات جمعہ میں سانحہ مچھ میں ہونیوالے مظالم کے تذکرے اور اظہا ر یکجہتی کیا جائیگا، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر کے تمام ڈویژنز، اضلاع اور تحصیل سطح پر احتجاج کیا جائیگا۔ ادھر لاہور میں گزشتہ دنوں سے جاری احتجاجی دھرنا گورنر ہاؤس مال روڈ پر جاری جس میں خواتین اور بچوں کی بہت بڑی تعداد ٹھٹھرتی سردی میں کھلے آسمان کے نیچے پوری رات گزار نے کے بعد گزشتہ روز دن بھر اسی جوش جذبے کیساتھ ورثاء شہداء مچھ کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے بھرپور نعرے بازی کرتے رہے مردوں کی ایک بہت بڑی تعداد دھرنے میں موجود رہی تمام شرکاء دھرنا نے ورثاء شہداء مچھ کے مطالبات کی مکمل تائید اور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کوئٹہ کے دھرنے کے جاری رہنے تک گورنر ہاؤس لاہور کے سامنے دھرنا جاری رکھنے کا عزم کا عادہ کیا،اس موقع پر گورنر پنجا ب چوہدری سرور نے شرکاء دھرنا کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے دھرنا میں شرکت اور خطاب کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پنجاب کے بارہ کروڑ عوام شہداء مچھ کے ورثاء کیساتھ ہیں اور انکے مطالبات کی تائید کرتے ہیں، عمران خان کوئٹہ ضرور جائینگے اور میں بھی ورثاء شہداء کے پاس حاضری دوں گا،وفاقی حکومت کا یہ عزم ہے کہ ہم شہداء کے قاتلوں کو کیفرے کردار تک پہنچائینگے اور تمام دہشتگردوں کو قرار واقعی سزا دینگے،اس موقع پر صوبائی صد رپی ٹی آئی پنجاب چوہدری اعجاز نے وفد کے ہمراہ شرکت کی، شرکاء دھرنا کو اپنی تائید و حمایت کا یقین دلاتے ہوئے وزیر اعظم سے فوری کوئٹہ جانے کی اپیل کی، پاکستان سپریم بار کونسل کے ممبران بھی دھرنا میں پہنچے جنہوں نے شرکاء دھرنا کے تمام مطالبات کی تائید کی۔دوسری طرف کراچی سانحہ مچھ کیخلاف ہزارہ برادری سے اظہارِ یکجہتی کیلئے اہلِ تشیع کمیونٹی کا احتجاج جمعرات کوبھی جاری رہا،راستے بند ہونے سے مر یضو ں کوہسپتال پہنچانے والی ایمبولینسز کو بھی مشکلات کا سامناکرناپڑا۔جمعرات کی صبح تک شہر کے مزید کئی مقامات پر دھرنا دیا گیا، مجموعی طور پر مرکزی شاہراہوں کو 20مرکزی مقامات پر ٹریفک کی آمدورفت کیلئے مکمل طور پر بند کر دیا گیاتھا۔ٹریفک پولیس ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے متبادل راستوں کا انتظام کرتی رہی۔
سانحہ مچھ دھرنا

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سانحہ مچھ کیخلاف گزشتہ روز کوئٹہ میں جاری دھرنے میں اظہار یکجہتی پہنچنے۔دھرنے کے شرکاء سے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا ریاست نے دہشتگردی کی کمر توڑنے اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا کہا تھا، ریاست سے اپیل ہے وطن سے محبت کرنیوالوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔دھرنے کے شرکا سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، وزیراعلیٰ سندھ نے بھی خطاب کیا اور اظہار یکجہتی کی۔بلاول بھٹو زرداری نے دھرنے سے خطاب میں کہا میں اس سانحہ پر ہزارہ بہن بھائیوں کو کیا کہہ سکتاہوں، پاکستان ایسی دھرتی ہے جہاں ہمارے شہیدوں کو بھی احتجاج کرناپڑتاہے، پاکستان میں سب کچھ منگا مگر مزدور،سیاسی کارکن،وکلاء کا خون سستاہوچکا ہے، 1999سے اب تک ہمارے 2 ہزار لوگ شہید ہوچکے ہیں،کسی کو انصاف نہیں ملا۔ آپ لوگ اپنے شہیدوں کیساتھ احتجاج کررہے ہیں، میں بھی ایک شہیدوں کے خاندان سے ہوں،ہم بھی آج تک اپنے شہیدوں کو انصاف نہیں دلاسکے، جب تک زندہ رہوں گا،یہی کوشش ہوگی ہمارے غریب عوام کو جینے دیاجائے، جو ملک میں سب سے زیادہ محب وطن ہیں وہ سامنے بیٹھے ہیں، ان لوگوں کو انصاف نہیں دلواسکے تو باقی کسی کو کیا انصاف دلوائیں گے۔اس موقع پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا وزیراعظم عمران خان یہ لاشیں رکھ کر آپ کے منتظر ہیں،کیا آپ کی انا زیادہ بڑی ہے، متاثرین کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا آپ کے پیار ے آپ سے چھینے گئے، آپ پر جو قیامت ٹوٹی اس پر دلی تعزیت کرتی ہوں، پانچ دن سے دیکھ رہے ہیں،آپ کی تکلیف کاا حسا س ہے، جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے، پوری قوم آپ کے غم میں شریک ہے۔مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے کہا کہ بے حسی، ناکامی کوآپ سیاست کہہ کر ٹال دیں یہ ہونے نہیں دیں گے، آپ کو یہاں آنا پڑیگا، یہ آپ سے کوئی بڑی چیز نہیں مانگ رہے، آپ تنقید کے ڈر سے نہیں آرہے،کوئی بات نہیں تھوڑی تنقید سن لیں۔مریم نواز نے مزید کہا آپ کا فرض ہے ان کے غم میں شریک ہوں، ان کا دکھ بانٹیں، اقتدارکی کرسی پربیٹھے شخص کی بے حسی پربیحدافسوس ہے، میں حکومت میں نہیں آپ کیلئے سوائے آواز اٹھانے کے کچھ نہیں کرسکتی، میں ایک ماں ہوں، بیٹی ہوں مجھے آپ کی تکلیف کا احساس ہے۔عمران خان سے کہتی ہوں آپ باپ ہیں، بہنوں کے بھائی ہیں، حکمران یہاں نہیں آتاتوقوم اس کرسی پربیٹھنے کی اجازت نہیں دیگی، ہم سے جو ہوسکے گا، ضرور کریں گے، کہتے ہیں ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے،اس ماں نے حق ادانہیں کیا،آپ ذمہ داری میں ناکام ہیں، یہ حادثہ پھر سے پیش آگیا ہے،آپ چل کر آئیں، ان کی داد رسی کریں، عمران خان سے کہنا چاہتی ہوں یہ لاشیں رکھ کر آپ کے منتظر ہیں،کیا ان لاشوں سے آپ کی انا بڑی ہے، ریاست کی ذمہ داری ہیاپناحق اداکرے،آپ کیزخموں پر مرہم رکھے۔
مریم،بلاول 

مزید :

صفحہ اول -