پاکستان میں عام انتخابات بائیو میٹرک سسٹم کے تحت نہیں کرائے جا سکتے: الیکشن کمیشن 

  پاکستان میں عام انتخابات بائیو میٹرک سسٹم کے تحت نہیں کرائے جا سکتے: ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات بائیو میٹرک سسٹم کے تحت کروانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی یہ سسٹم پاکستان میں نہیں چل سکتا کیونکہ صرف بائیو میٹرک کیلئے درکار مشینوں کی خریداری پر ہی 30 ارب روپے خرچ ہونگے اور یہ مشینیں پانچ سال بعد ناکارہ ہوجائینگی، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے اس حوالے سے بل بھی موخر کردیا جبکہ خواتین کو ہر ڈویژن سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے نمائندگی دینے سے متعلق پرائیویٹ ممبر بلز بھی ملتوی کردیاگیا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس مجاہد علی کی زیر صدارت ہوا جس میں اراکین کمیٹی نے بروقت ایجنڈے سے متعلق ورکنگ پیپر نہ ملنے پر احتجاج کیا جبکہ اراکین نے مطالبہ کیا کہ الیکشن قوانین میں ترامیم اہم معاملہ ہے اس میں جلد بازی نہ کی جائے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر التوا ہے ان کے فیصلے کا بھی انتظار کیا جائے ہم الیکشن قوانین پر آپنی جماعتوں سے بھی رہنمائی لیں گے۔رکن کمیٹی اسلم خان نے کہا کہ بائیو میٹرک سسٹم ابھی پاکستان میں نہیں چل سکتا اس نظام کو لانے پر اربوں روپے خرچ ہونگے،ٹیکنالوجی کسی بھی وقت خراب ہوسکتی ہے،پاکستان میں تو نیٹ سسٹم ڈاؤن ہوجاتا ہے۔ محمود بشیر ورک نے کہاکہ ووٹنگ کا جو موجودہ مینوئل نظام ہے اسے ہی برقرار رکھا جائے۔ علی محمد خان نے کہا کہ بائیؤ میٹرک سسٹم کی سیکیورٹی اور تقدس بھی ضروری ہے۔یہ سب ٹیکنالوجی کی بات ہے یہ نظام بھی نہ چلا تو پھر ووٹ کو عزت دو کی بات ہوگی۔ الیکشن کمیشن حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بائیو میٹرک سسٹم کیلئے صرف مشینوں کی تنصیب پر ہی30 ارب روپے خرچ ہونگے اور پانچ سال بعد یہ مشینیں ناکارہ ہو جائیں گی۔نادرا کی مشینوں کی کوالٹی بھی میعاری نہیں۔ بائیو میٹرک ووٹنگ نظام پاکستان میں لانا اتنا آسان نہیں ہے۔ بنکوں کی بائیو میٹرک میشنوں کو ووٹنگ کیلئے استعمال کرنا آسان نہیں ہوگا۔اس معاملے پر کمیٹی کو آیندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دینگے۔ کمیٹی نے بائیو میٹرک ووٹنگ نظام لانے سے متعلق نجی بل موخر کردیا۔
الیکشن کمیشن

مزید :

صفحہ اول -