گنا سندھ لیجانے پر پابندی کیخلاف کسانوں کا احتجاج‘ روڈ بلاک‘ ٹریفک جام

  گنا سندھ لیجانے پر پابندی کیخلاف کسانوں کا احتجاج‘ روڈ بلاک‘ ٹریفک جام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


صادق آباد‘ کوٹ سبزل‘ نو ر پور نورنگا (تحصیل رپورٹر‘ نمائندہ خصوصی‘ نمائندہ پاکستان‘ نامہ نگار) ضلعی انتظامیہ نے سندھ میں لیجا کر گنے کی فروخت پر پابندی عائد کردی کاشتکاروں نے سندھ پنجاب بارڈر پر دھرنا دیتے ہوئے احتجاج شروع کردیا گنے کی ٹریکٹرٹرالیوں سمیت دیگر گاڑیوں کی لمبی قطاریں مسافروں کو شدیدپریشانی کا سامنا‘ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں گنے کے ریٹس مناسب نہ ملنے جبکہ سندھ میں شوگرملزانتظامیہ کی جانب سے مناسب ریٹس(بقیہ نمبر47صفحہ5پر)
 ملنے پر کسانوں نے گنا فروخت کرنے کیلئے دھڑا دھڑ سندھ میں سپلائی شروع کی تو ضلعی انتظامیہ نے گنا سندھ میں لیجا کر فروخت کرنے پر سخت پابندی لگادی اور انتظامیہ کی طرف سے گنے سے لوڈ سینکڑوں ٹریکٹرٹرالیوں کو سندھ پنجاب بارڈر پر روک دیاگیا جس پر کسانوں نے دھرنا دیتے ہوئے احتجاج شروع کردیا اور شدید نعرے بازی کردی دھرنے اور احتجاج میں کسان بورڈ اور دیگر کسان تنظیمیں اور کسان شریک ہیں اس موقع پر صوبائی رہنما کسان بورڈ حاجی ریاض چیمہ،رہنما جام حاجی احمدیار ولانہ،رہنما عبدالستا خان چانگ،جام نادر حسین انڈھڑ و دیگر احتجاجی کسانوں نے کہا کہ صادق آباد سمیت ضلع رحیم یارخان پنجاب میں ملز مالکان 260روپے سے 280روپے میں گنا خریدرہے ہیں جبکہ سندھ کی ملز 320فی من خریداری کر رہے ہیں پنجاب کی ضلعی انتظامیہ شوگر ملز کی آلہ کار بنی ہوئی ہے گنے کو سندھ جانے سے روکنا کسانوں کا استحصال کیا جارہا ہے سندھ پنجاب بارڈر پر سمگلنگ روکنے کی بجائے غریب اور محنت کش کسانوں کا گنا روکا جارہا ہے جس پر وزیراعظم پاکستان عمران خان اس ظالمانہ اقدام کا فی الفور نوٹس لیں اگر کسانوں کے مسائل اور معاملات حل نہ کیئے تو آئندہ احتجاج اور دھرنے کا دائرہ وسیع کیا جائیگا۔ دریں اثناء کسان رہنماں کے گورنمنٹ پنجاب کے ساتھ مذاکرات کامیاب رحیم یارخان (پنجاب) سے سندھ میں گنا لیجانے پر پابندی ختم اور سندھ پنجاب بارڈر رات 8 بجے کھول دی گئی گنے سے لوڈ سینکڑوں ٹریکٹر ٹرالیاں اور دیگر گاڑیاں سندھ میں داخل ہوگئیں۔
دھرنا