کابینہ اجلاس، شیخ رشید نے اسلام آباد میں نوجوان کا قتل معمولی واقعہ قرار دیدیا

کابینہ اجلاس، شیخ رشید نے اسلام آباد میں نوجوان کا قتل معمولی واقعہ قرار ...
کابینہ اجلاس، شیخ رشید نے اسلام آباد میں نوجوان کا قتل معمولی واقعہ قرار دیدیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی روئوف کلاسرا نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں دو  بڑی باتیں ایجنڈے پر تھیں ،اسلام آباد میں ایک نوجوان کے قتل اور  بلوچستان میں مزدروں کا قتل ، لوگ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے بائیس سال جدو جہد کی اور بائیس سال بعد وفاقی دارلحکومت میں خوبصورت نوجوان کو بائیس گولیاں ماری گئیں، شیعہ کمیونٹی کیساتھ بہت ظلم ہوا اور خاندان میں کوئی مرد باقی نہ رہا، حکومت صرف انڈیا یا دیگر کالعدم تنظیموں پر ڈال دیتی ہے ، پھر کابینہ کے اجلاس میں وزیر داخلہ شیخ رشید  نے اسلام آباد میں نوجوان کا قتل معمولی واقعہ قراردیدیا جس پر  ان کے ساتھی وزیربھی ناراض ہوگئے  کیونکہ ابھی تک لوگوں کے ذہن میں سانحہ ساہیوال موجود ہے اور عمران خان شاید ابھی قطر سے بھی واپس نہیں آئے کیونکہ انہوں نے بڑے بیان دیئے تھے کہ قطر سے واپس آکر معاملات نمٹائوں گا۔ 

اپنے ولاگ میں رئووف کلاسرا نے بتایا کہ ان دونوں معاملات پر کابینہ کا اجلاس ہوا، ایک دن پہلے وزیرداخلہ بلوچستان گئے ہوئے تھے اور اب متاثرین یہ امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان ان سے تعزیت کیلئے آئیں گے ، مچھ واقعہ پر شیخ رشید نے بریفنگ دی اور بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان دبئی میں تھے ، مارے جانیوالے لوگوں کو حکومت نے پیسہ دینا تھا لیکن وہ لوگ چیک لینے کو تیار نہیں اور موقف اپنایا کہ ہمارے پاس تو بینک اکائونٹس بھی نہیں ، نقد دیں جو بھی دینا ہے ۔ وزیراطلاعات شبلی فراز کو ہدایت کی گئی کہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتائیں کہ کابینہ افسردہ ہے اور ذمہ دار لوگوں کو نہیں چھوڑیں گےجس پر شیخ رشید کے موقف پر کابینہ ہل کر رہ گئی ، شیخ رشید نے کہا کہ" چھوڑیں جی، کیا کرنا ہے جی ، اس طرح کے واقعات تو ہوتے رہتے ہیں، معمولی سے واقعات ہیں"۔

رئووف کلاسرا کا مزید کہناتھاکہ اس طرح کے کمنٹس کی کسی کو توقع نہ تھی ، وہ بھی ایک وفاقی وزیر داخلہ سے۔ ان الفاظ پر سب سے پہلے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے ردعمل دیا کہ حضور، کوئی خدا کا خوف کریں۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ  یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ ایک وزیر نے کہا کہ وہ بچہ تحریک انصاف کا سپورٹر تھا جو پولیس نے مار دیا۔ پھر فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ کسی کا بھی بچہ اور کسی کا بھی سپورٹر ہوتا، وہ کسی کا تو بچہ تھا، جن لوگوں کے بچے نہیں ہیں، شاید انہیں احساس ہی نہیں۔ فواد چودھری نے روکا کہ شیخ صاحب یہ کوئی معمولی بات ہے ؟ ایک نوجوان کو اسلام آباد میں بائیس گولیاں ماری گئی ہیں، ایک ہی قتل سے حکومتیں بدل جاتی ہیں، لوگ باہر آجاتے ہیں، آپ ذرا یہ ذہن میں رکھیں کہ امریکہ میں بھی ایک سیاہ فام کی ہلاکت پر عوام باہر آگئی تھی ، مارا تو ایک شخص کو پولیس نے تھا، یہ ہر گز معمولی بات نہیں تھی، ٹرمپ کے ہارنے کی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے، باقی وزیروں نے زیادہ ردعمل نہیں دیا، ان دو وزیروں نے ہمت کی اور کھل کر بولے۔ 

صحافی کے مطابق  ردعمل ملنے پر شیخ رشید فوری بیک فٹ پر آگئے اور کہا کہ اوکے جی، اوکے جی، دعا کرالیں، دعا کی گئی لیکن اس رویہ کی وجہ سے کابینہ کا ماحول شاندار نہیں تھا لیکن شیخ رشید کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، انہیں معلوم ہے کہ یہ امریکہ نہیں، سوسائٹی بھی قبول کرچکی کہ بندے ماردینے سے کوئی باہر نہیں آتا، یہ معمول کی بات بن چکی ہے ۔ رئووف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ان کی کچھ وزراء سے بات ہوئی ہے تو وہ مایوس تھے کہ وزیر داخلہ کو ا سطرح کے رویہ کا اظہار نہیں کرنا چاہیے تھا جو انہوں نے کابینہ اجلاس میں کیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -