انسانوں کی زندگی بڑھانے کا مشن، کیا سائنسدان ’آب حیات‘ کے حصول کے قریب پہنچ گئے؟ تازہ پیشرفت جان کر آپ کی بھی حیرت کی انتہا نہ رہے

انسانوں کی زندگی بڑھانے کا مشن، کیا سائنسدان ’آب حیات‘ کے حصول کے قریب پہنچ ...
انسانوں کی زندگی بڑھانے کا مشن، کیا سائنسدان ’آب حیات‘ کے حصول کے قریب پہنچ گئے؟ تازہ پیشرفت جان کر آپ کی بھی حیرت کی انتہا نہ رہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) آب حیات کے چشمے کے بارے میں قصے کہانیوں میں سنا ہے تاہم حضرت انسان کی ابتداءسے ہی خواہش رہی ہے کہ اسے کسی طرح آب حیات کا چشمہ مل جائے اور وہ ہمیشہ زندہ رہ سکے۔ یہ چشمہ تو شاید کبھی نہ مل سکے لیکن اب سائنسدان یہ خواہش پوری کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق برطانیہ کے معروف مصنف اینڈریو سٹیلے نے اپنی نئی کتاب ’Ageless: Th News Science of Getting Older Without Getting Old‘ میں دعویٰ کیا ہے کہ سائنسدان ایسی دوا بنانے کے قریب پہنچ چکے ہیں جو انسان کی زندگی میں بہت زیادہ اضافہ کر دے گی۔ 
اینڈریو سٹیلے نے لکھا ہے کہ شوگر کی دوا ’میٹافورمین‘ ایک ایسی دوا ہے جو بڑھاپے کا عمل بھی روکتی ہے اور انسان کو بوڑھا ہونے سے بچاتی ہے۔ اس وقت اس دوا کے تجربات جاری ہیں اور ابھی کئی ٹرائیلز کرنے پڑیں گے، تبھی اسے ’اینٹی ایجنگ‘ دوا کے طور پر لوگوں کو دیا جا سکے گا۔ ایک اور نسبتاً غیرمعروف دوا ’ریپامائی سین‘ (Rapamycin)بھی عمر رسیدگی کے عمل کو روکتی ہے اور اس کے بھی ٹرائیلز جاری ہیں۔ یہ ادویات انسان کے جسم میں مردہ یا بیمار خلیوں کو جمع ہونے سے روکتی ہیں اور ان کی جگہ نئے خلیوں کی پیدائش کا سبب بنتی ہیں جس کی وجہ سے انسان میں بڑھاپے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔ 
ان ادویات کے چوہوں پر تجربات کافی کامیاب رہے ہیں اور ان سے چوہوں کی زندگی میں 25فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم انسانوں پر ان کے تجربات جاری ہیں جن کے نتائج مستقبل میں کسی بھی وقت سامنے آ سکتے ہیں۔ ان ادویات کے علاوہ جین ایڈیٹنگ کی تکنیک کے ذریعے بھی عمر رسیدگی کو روکنے کے منصوبوں پر سائنسدان کام کر رہے ہیں۔ عمر رسیدگی کے عمل کو سست کرنے اور انسان کی عمر میں اضافہ کرنے موضوع پر سائنسدان دہائیوں سے کام کر رہے ہیں اور اب وہ کامیابی کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ ممکنہ طور پر بہت جلد ایسی دوا دستیاب ہو گی جو ہماری زندگی میں بہت حد تک اضافہ کر دے گی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -