موت کے بعد کیا ہوتا ہے؟ موت کے منہ میں جاکر واپس آنے والوں نے کیا دیکھا؟ تفصیلات جان کر آپ بھی سوچنے پر مجبور ہوجائیں

موت کے بعد کیا ہوتا ہے؟ موت کے منہ میں جاکر واپس آنے والوں نے کیا دیکھا؟ ...
موت کے بعد کیا ہوتا ہے؟ موت کے منہ میں جاکر واپس آنے والوں نے کیا دیکھا؟ تفصیلات جان کر آپ بھی سوچنے پر مجبور ہوجائیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن(مانیٹرن گڈیسک) موت کے بعد کی زندگی کیسی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا حتمی جواب اس دنیا میں شاید ممکن نہیں تاہم موت کو چھو کر واپس آنے والے کچھ لوگوں نے واپس زندگی کی طرف آ کر اپنے اس تجربے کی کچھ ایسی تفصیلات بیان کی ہیں کہ سن کر یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ میل آن لائن کے مطابق 57سالہ سٹیون رابنسن برطانوی شہر لیڈز کا رہائشی ہے۔ اس نے بتایا کہ 18سال کی عمر میں وہ موٹرسائیکل پر جا رہا تھا جب اسے خوفناک حادثہ پیش آ گیا۔ اس کی کئی ہڈیاں ٹوٹ گئیں، پھیپھڑے پنکچر ہو گئے اور جسم کے اندراور باہر بہت سا خون بہہ گیا۔ ڈاکٹروں کو اسے بچانے کے لیے 9گھنٹے طویل آپریشن کرنا پڑا۔ حادثے کے بعد سے سٹیون کئی ہفتے تک بے ہوش ہی رہا۔ دوران آپریشن اس کے دل نے بھی تین بار دھڑکنا چھوڑ دیااور ڈاکٹر اسے تینوں بار مردہ سمجھنے لگے۔ 
سٹیون کا کہنا ہے کہ ”مجھے ایک انسانی ہیولا واپس زندگی کی طرف لے کر آیا۔ یہ ہیولا ایسے تھا جیسے کسی انسان کاسایہ ہو۔ جب میں ہوش میں آیا تو وہ ہسپتال میں میرے بیڈ کی پائنتی کی طرف کھڑا تھا۔ بے ہوشی میں دیکھے گئے اس سائے کو جاگتی آنکھوں سے اپنے سامنے دیکھ کر یقین نہ آیا۔ میں نے آنکھیں ملیں کہ شاید یہ میرا وہم ہو مگر وہ حقیقت تھا۔ پھر میں نے کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کر لیں کہ شاید وہ غائب ہو جائے مگر ایسا نہیں ہوا۔ وہ اس کے بعد کئی ماہ تک میرے ساتھ رہا۔ جب مجھے ہسپتال سے ڈسچارج کرکے گھر بھیج دیا گیا تب بھی وہ انسانی سایہ میرے ساتھ ہی رہا۔ وہ ہمیشہ میرے بستر کی پائنتی کی طرف کھڑا رہتا اور اس کی موجودگی سے مجھے بہت سکون ملتا تھا۔ “
موت کو چھو کر واپس آنے کے تجربے کے بارے میں سٹیون کا کہنا تھا کہ ”میری موت کا وہ دوران حیران کن طور پر بہت خوشگوار سے احساس پر مبنی تھا۔ وہ جگہ ، جو شاید موت کا کنارہ تھی، وہ بالکل تاریک تھی۔ وہاں گھپ اندھیرا تھا مگر اس اندھیرے کے ساتھ وہ جگہ بہت پرسکون اور طمانیت بخش بھی تھی۔ وہاں مجھے سکون اور تحفظ کا ناقابل بیان احساس ہواجیسے کوئی چیز یا کوئی شخص میری حفاظت کر رہا ہو۔مجھے معلوم نہیں کہ میں اس جگہ پر کتنی دیر رہا اور پھر مجھے وہ انسانی سایہ اس اندھیرے سے واپس روشنی کی طرف لے کر آگیا۔“
33سالہ مولی مورے نامی ایرشائر کی رہائشی خاتون، جو پیشے کے اعتبار سے لائف کوچ ہے، نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس وقت میری عمر 15سال تھی۔ میں اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیاں منانے گئی۔ وہاں ہم سمندر میں کشتی رانی کر رہے تھے کہ ایک آدمی کی تیزرفتار موٹربوٹ ہماری کشتی سے ٹکرا کر ہوا میں اچھلی اور میرے سر پر آ کر گری۔ اس سے میرے سر میں شدید چوٹ لگی اور میں بے ہوش ہو گئی۔ مجھے ہنگامی طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا۔ اس دوران ایک وقت ایسا آیا جب ڈاکٹروں نے مجھے مردہ خیال کر لیا۔ غالباً بے ہوشی کے دوران یہی وہ وقت تھا جب میں نے موت کے بعد کی زندگی کا منظر دیکھا۔ وہ کچھ ایسا احساس تھا جیسے میں بہت سفید رنگ کی بہت تیز روشنی میں آگے کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہوں۔ میرے سامنے کی طرف یہ روشنی مزید تیز ہوتی ہے اور ایسا لگ رہا ہوتا ہے جیسے یہ روشنی مجھے آگے کی طرف پکار رہی ہو۔ میں اس صورتحال میں بالکل بھی خوفزدہ نہیں تھی۔ یہ روشنی ایک دائرے کی شکل میں تھی اور باہر کی طرف پھیل رہی تھی ۔یہ ایسے ہی تھی جیسے آپ کسی فرشتے کو دیکھ رہے ہوں۔ “
مولی مورے کا مزید کہنا تھا کہ ”میں اس روشنی میں پوری طرح نہائی ہوئی تھی اور مکمل پرسکون اور پرامید تھی۔ میں شروع سے ہی مذہبی رجحان رکھتی ہوں اور مجھے ایسے لگتا ہے جیسے یہی جنت تھی جسے میں نے اپنی اس بے ہوشی کے دوران دیکھا۔اس روشنی میں سے میں نے اپنے جسم کو ہسپتال کے بستر پر پڑے ہو بھی دیکھا تھا۔ میں اپنے اس ہسپتال کے کمرے کی تمام اشیاءکو دیکھ رہی تھی، لیمپ کو، پردوں کو، الماری کو اور خود کو۔ پھر مجھے ایسا ہوا کہ میرے جسم کو میری ضرورت ہے اور مجھے واپس جانا چاہیے۔میں خوشی خوشی اس روشنی میں آگے کی طرف سفر کر سکتی تھی لیکن مجھے یہ احساس ہوا کہ جیسے ابھی اس روشنی میں جانے کایہ درست وقت نہیں ہے۔ جب میں ہوش میں آئی تو میں نے اپنے کمرے کی چیزوں کو دیکھا، وہ ہو بہو وہی تھیں جو میں نے (یا شاید میری روح نے) اپنی بے ہوشی کے دوران اس روشنی میں سے دیکھی تھیں۔اس حادثے سے صحت یاب ہونے میں مجھے کئی سال لگے، مجھے بولنا، چلنا اور پڑھنا دوبارہ سیکھنا پڑا تھا۔ تاہم اس حادثے کی وجہ سے مجھے موت کے متعلق ایک سکون ملا اور اس کے بعد سے مجھے موت کا کوئی خوف نہیں ہے۔ میں طویل زندگی جینا چاہتی ہوں لیکن میں یہ دیکھنے کے لیے بھی بہت پرجوش ہوں کہ میری موت کے بعد میرے ساتھ کیا ہوتا ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -