پس چہ باید کرد؟………………(آخری قسط)

        پس چہ باید کرد؟………………(آخری قسط)
        پس چہ باید کرد؟………………(آخری قسط)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  60۔ آنچہ از خاکِ تو رُست اے مردِ حُر

آں فروش و آں بپوش و آں بخور

ترجمہ و تشریح: اے مردِ آزاد! تمہاری اپنی مٹی سے جو کچھ اُگتا ہے اسی کو بیچو، اسی کو پہنو اور اسی کو کھاؤ…… یہ وہی تلقین ہے جو گزشتہ کئی اشعار میں بار بار کی گئی ہے۔ اقوامِ مشرق کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ ان کی بقاء اسی میں ہے کہ وہ خودکفالت کی راہوں پر گامزن ہوں۔ مغرب نے کئی فیلڈز میں ترقی کی، کئی نئی ایجادات متعارف کروائیں، ہر برس ان کا نیا ماڈل مارکیٹ کیا اور مشرق کی غیر ترقی یافتہ یا پس ماندہ اقوام کو مجبور کیا کہ وہ ان کی نت نئی ایجاد ہونے والی پراڈکٹس خریدیں اور انہی پر انحصار کریں۔اقبال کی یہ سوچ کوئی نئی سوچ نہیں۔ وہ 1904ء میں یورپ جانے سے پہلے بھی اسی طرزِ فکر کے داعی اور اسی منزل کے مسافر تھے۔ بانگ درا کے ظریفانہ اشعار میں ان کے درجِ ذیل دو اشعار بھی ان کی اسی سوچ کی غمازی کرتے ہیں:

انتہا بھی اس کی ہے؟ آخر خریدیں کب تلک

چھتریاں، رُومال، مفلر، پیرہن جاپان سے

اپنی غفلت کی یہی حالت اگر قائم رہی 

آئیں گے غُسّال کابل سے،کفن جاپان سے

ہم آج یہ دیکھ رہے ہیں کہ چھتریاں، رومال، مفلر اور پیراہن کے علاوہ ہر چیز جاپان سے نہیں، چین سے آ رہی ہے۔ لیکن مسلم اقوام اس تبدیلی کا کوئی نوٹس نہیں لے رہیں۔ مسلم اور عرب ممالک کے علاوہ آج تو کئی مغربی ممالک میں بھی ’چین ساختہ‘ (Made in China) اشیاء نے قبضہ کر رکھا ہے۔(یہ کایا پلٹ شاید اقبال کے ذہن میں نہیں تھی)

61۔آن نکوبیناں کہ خود را دیدہ اند

خود گلیمِ خویش را بافیدہ اند

ترجمہ: وہ عقل مند لوگ کہ جو اپنا احتساب کرتے رہتے ہیں وہ آخر کامیاب ہو جاتے ہیں اور اپنی گلیم (گودڑی) کو خود ہی بناتے اور بُنتے ہیں۔ (گلیم بافیدن، فارسی زبان کا مصدر ہے جس کا معنی اپنے لحاف یا رضائی یا گودڑی کو خود اپنے ہاتھ سے سینا اور بُننا ہے)

62۔ اے ز کارِ عصرِ حاضر بے خبر

چرب دستی ہائے یورپ را نگر

ترجمہ و تشریح: اے کہ تو دورِ حاضر کی عیاریوں سے بے خبر ہے، یورپ کی چکنی چپڑی اداؤں پر غور کر…… آخر کار اس نظم میں اقبال نے کھل کر ”یورپ“ کا نام لے لیا ہے۔ اس نکتے پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ وہی یورپ تھا جس نے شاعرِ مشرق کو بیرسٹری اور ڈاکٹری (Ph-D) کی ڈگریاں بھی دی تھیں۔

63۔قالی از ابریشمِ تو ساختند

باز او را پیشِ تو انداختند

ترجمہ: ان یورپی اقوام نے تمہارا ہی ریشم استعمال کرکے اس سے قالین بنائی اور پھر اسی قالین کو تمہارے ہی ہاتھ فروخت کر دیا۔

64۔چشمِ تو از ظاہرش افسوں خورد

رنگ و آبِ او ترا از جا بُرَد

ترجمہ: تمہاری آنکھ اس قالین کو دیکھ کر دھوکا کھا گئی اور تمہاری عقل و ہوش کو اپنی اصل سے دور کر دیا۔

65۔وائے آں دریا کہ موجش کم تپید

گوہرِ خود را ز غوّاساں خرید

]غوّاس کی املا غواص بھی کی جاتی ہے لیکن اقبال نے اسے ’س‘ سے لکھا ہے، ’ص‘ سے نہیں [

ترجمہ  و تشریح: اس دریا کی حالت قابلِ افسوس ہے کہ جس کی لہروں میں تیزی، تندی اور طغیانی کم پڑ جائے تو پھر وہ دریا بازار میں جا کر غوطہ خوروں سے لعل و جواہر خریدتا پھرے…… یہ اس نظم  کا آخری شعر ہے اس لئے اقبال نے اس میں اپنے دل کی کیفیت کا ماتم گویا سرِ بازار رکھ دیا ہے۔فارسی زبان میں دریا کا معنی چھوٹا سمندر (Sea) بھی ہے۔ دریا میں جو سیپیاں ہوتی ہیں وہ ایک خاص موسم میں سطحِ آب پر آکر اپنا منہ کھول دیتی ہیں۔ بارش (ابرنیساں) کا پانی جب ان پر برستا ہے اور جب اس کی ایک بوند سیپی کے منہ میں چلی جاتی ہے تو وہ سیپی دریا کی تہہ میں بیٹھ جاتی ہے۔ دریا کی اس گہرائی میں چونکہ موجوں کا دباؤ اور زور زیادہ ہوتا ہے اس لئے یہ سیپی دریائی لہروں کے زد و خورد کو برداشت کرتی رہتی ہے۔ یہی مسلسل زد و خورد، طوفانی لہروں کا پریشر اور باہم دگرتصادم سیپی میں ابرِنیساں کی بوند کو لعل و گہر بنا دیتا ہے۔غوطہ خور (غوّاس) دریا میں غوطہ لگا کر اس سیپی کو باہر لے آتا ہے اور اس میں سے گوہر کو نکال کر بازار میں بیچ دیتا ہے۔ اقبال اس سارے پراسس کی مثال دے کر اقوامِ مشرق کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ تم ایسا دریا بن چکے ہو کہ جس کی موجوں کی تیزی اور جوش و خروش کم پڑ چکا ہے۔ یہی کمزوری اور کمی دریا کی سیپی کو ’بے گوہر‘ کر گئی ہے۔ اس کم خروش اور آہستہ رو دریا پر افسوس کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی موجوں کو تند و تیز نہیں کرتا اور جب یہ صورتِ حال اس کی سیپیوں کو ”بے گوہر“ کر دیتی ہے تو یہی دریا بازار میں جا کر غوطہ خوروں کی منت سماجت کرتا اور ان سے گہر (موتی) خریدنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ 

حروفِ اختتام

یہ سطور 2024ء میں لکھی جا رہی ہیں …… گلوبل سیاسی حالات گو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں لیکن پاکستان کے موجودہ اجتماعی حالات جس مقام پر پہنچ چکے ہیں وہ بظاہر پستی و انحطاط کی پاتال ہے۔یہ حالات ایکدم آ کر وارد نہیں ہوئے۔ پستی یا بلندی کو آتے جاتے ایک مدت درکار ہوتی ہے۔ ہم پاکستانی بحیثیت قوم جب اس کھوہ میں اترتے چلے جا رہے ہیں تو میری نظر میں اقبال کی وہ کتاب جس کا عنوان ”پس چہ باید کرد“ تھا، نگاہوں تلے پھیل گئی۔ جیسا کہ اس آرٹیکل کے آغاز میں عرض کیا  تھا یہ اقبال کی آخری منظوم کتاب تھی جو ان کی زندگی میں 1936ء میں شائع ہوئی۔ (”ارمغانِ حجاز“  جو ان کی آخری تصنیف شمار ہوتی ہے وہ ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی تھی) اس ’پس چہ باید کرد‘ نامی منظوم تصنیف میں 14نظمیں ہیں جو کتاب کے 52صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔ان میں 13ویں نظم کا عنوان ’پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق‘ ہے۔

ویسے تو یہ نظم کئی بار نگاہوں سے گزری اور ہر بار ایک چشم کشا حقیقت بن کر دل و دماغ کو متاثر کرتی رہی لیکن موجودہ ایام میں چونکہ پاکستان کے مجموعی معاشی، سیاسی اور سماجی حالات نہایت ابتر ہیں اس لئے مجھے ایک بار پھر اس نظم کو پڑھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اسی ضرورت کے پیش نظر  دل نے چاہا کہ اسے قارئین کے سامنے بھی رکھوں۔

آج کا عام قاری اردو اور انگریزی زبانوں سے تو کسی نہ کسی درجے کا میلان رکھتا اور ان کا مفہوم سمجھ لیتا ہے لیکن فارسی زبان سے ہماری آگہی جو چند عشرے پہلے ایک قابلِ لحاظ حد تک عام تھی، اب  ’خاص‘ ہو چکی ہے۔ میرا مطلب ہے کہ ’خاص خاص‘ قارئین ہی اب اس زبان سے آشنائی رکھتے ہیں۔ ان ’فارسی آشنا‘ قارئین کی عمریں یا تو ’بزرگی‘ کی حد پار کر چکی ہیں اور یا بڑھاپے کی طرف تیزی سے گامزن ہیں …… میں خود کو بھی انہی بزرگوں اور بوڑھوں میں شمار کرتا ہوں …… اس حوالے سے میرے دل و دماغ میں یہ سوال گردش کرنے لگا کہ اس فارسی نظم کا اردو ترجمہ کرکے ان پاکستانی قارئین کے سامنے رکھوں جو فارسی سے چنداں آشنا نہیں۔ یہ سطور میں نے ’اقبال شناس‘ حضرات کے لئے نہیں لکھیں۔ یہ حضرات کلامِ اقبال کی وضاحتیں اس انداز سے کرتے ہیں کہ ان سے صرف وہی ایک محدود سا طبقہ فیض یاب ہو سکتا ہے جو اردو، فارسی، انگریزی اورشعر و فلسفہ کی اس بلند سطح کا ادراک رکھتا ہو جس تک ایک عام پاکستانی قاری کی رسائی بے حد دشوار ہوتی ہے۔ یہ آرٹیکل میں نے صرف ان قارئین کے لئے لکھا ہے جو کلامِ اقبال کی اتھاہ گہرائیوں سے نہیں بلکہ عمومی سطح کے موضوعات جاننے سے دلچسپی رکھتے ہیں …… میری مراد ان نوجوان طلباء و طالبات سے بھی ہے جن کو کلامِ اقبال مشکل نظر آتا ہے یا ان قارئین سے ہے جو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہو کر معاشرے کے مختلف طبقات میں اپنے اپنے کارہائے منصبی انجام دے رہے ہیں اور چونکہ فی الوقت وہ پاکستان کی معاشی/ سیاسی/ سماجی مشکلات کا شکار ہیں اس لئے ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ شاعرِ مشرق نے اپنی وفات سے صرف دو برس پہلے، اقوامِ مشرق (بالخصوص مسلمانانِ ایشیاء) کو ان مشکلات کا کیا حل بتایا تھا جو 1930ء کے عشرے میں غلام ہندوستان کو درپیش تھیں اور آج اکیسویں صدی میں بھی آزاد پاکستان کو یہی صورتِ حال درپیش ہے۔

آج اگرچہ ہم آزادی کی نعمت سے سرافراز ہو چکے ہیں لیکن جس مغرب کو اقبال نے ایک صدی پہلے ہمارے مصائب کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا، وہ تو 1947ء میں بوریا بستر سمیٹ کر رخصت ہو چکا ہے۔لیکن اس کی جگہ جو نئے پاکستانی مافیاز ہمارے ہاں پیدا ہو گئے ہیں، ان کی مماثلتیں حصولِ آزادی سے پہلے والے افرنگیوں سے کیا کم ہیں ……

اس نظم کو پڑھنے کے بعد قارئین بجا طور پر یہ سوال بھی کر سکتے ہیں کہ موجودہ مشکلات کا حل کیا ہے؟ اور ہمیں اس نئے اقبال کی کتنی ضرورت ہے جو ”پس چہ باید کرد اے اقوامِ مشرق“ کی جگہ ”پس چہ باید کرد اے مردانِ پاک؟“ لکھ کر ہمیں آئینہ دکھائے!    (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -