شباب کیرانوی ہمیشہ نئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے

شباب کیرانوی ہمیشہ نئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے

گزشتہ کالم میں ہدایت کار سنگیتا کے حوالے سے نئے چہروں کی فلم کا تذکرہ کیاگیا تھا اس ضمن میں مجھے سنگیتا کی بطور نئی اداکارہ پہلی فلم کا حوالہ یاد آ رہا ہے۔فلم ساز و ہدایت کار شباب کیرانوی اور اُن کے دونوں بیٹوں ظفر شباب اور نذر شباب نئے فنکاروں کو متعارف کروانے میں پوری فلمی صنعت میں خصوصی شہرت کے حامل تھے۔اُردو فلموں کے لئے یہ ادارہ یعنی شباب پکچرز انتہائی مقبول ہو چکا تھا اس ادارے کی ایک فلم میں کام کرنے والا اداکار یا اداکارہ بیک وقت تین فلموں میں کاسٹ تصور کیا جاتا تھا۔

اداکارہ سنگیتا کی پہلی فلم ہدایت کار ظفر شباب کی اُردو فلم ”گرہستی“ تھی جس میں ان کے مقابل ایک نئے ہیرو جمال کو کاسٹ کیا گیا تھا۔ جمال کا اصل نام محمد اسلم دانیال تھا ان کو موسیقی سے لگاﺅ اور گلوکاری کا شوق تھا۔ قد آور خوبصورت نوجوان ان دنوں ایک سرکاری ادارے میں ملازم تھا۔ جمال اور سنگیتا کی نئی جوڑی اس فلم میں جلوہ گر ہوئی تو لوگوں نے اُن سے بڑی توقعات وابستہ کی تھیں لیکن اس فلم کے بعد یہ دونوں ایک ساتھ کسی فلم میں نظر نہ آئے، لیکن دونوں الگ الگ اُردو پنجابی فلموں میں کام کرتے رہے۔

فلمساز و ہدایت کار شباب کیرانوی انتہائی مہربان انسان تھے جنہوں نے اپنے دفتر میں آنے والی ہر نئی لڑکی اور نئے لڑکے کو فلموں میں لازمی طور پر کام کرنے کا چانس دیا، اُن میں سے فنی صلاحیتوں کے حامل آگے نکل جاتے تھے اور عزت شہرت اور دولت کے حوالے سے ہمیشہ شباب کیرانوی کے گن گاتے نظر آتے۔ اس سلسلے میں ایک فلم ”میرا نام ہے محبت“ کا نام سرفہرست ہے جس میں انہوں نے بابرہ شریف اور غلام محی الدین کو مرکزی کرداروں میں متعارف کروایا۔ یہ فلم عوام کے ہر طبقہ میں بے پناہ پسند کی گئی اسی پسندیدگی کی وجہ سے بابرہ شریف اُردو فلموں کی صف اول کی ہیروئن قرار پائی اور فلمساز و ہد ایتکار شباب کیرانوی اور ان کے بیٹوں کی بعد میں آنے والی اَن گنت فلموں میں کام کیا اور فلموں کی کامیابی کی ضمانت بنی۔ اس طرح غلام محی الدین بھی لاتعداد اُردو فلموں میں کام کرنے کے بعد پنجابی فلموں کے مقبول ہیرو قرار پائے اور اب تک شوبز سے وابستہ اپنی فنی صلاحیتوں کے اظہار میں مصروف ہیں۔ اسی سلسلے میں شباب کیرانوی کی فلم”وعدے کی زنجیر“ کا تذکرہ بھی ضروری ہے جس میں انہوں نے اداکارہ انجمن کو متعارف کروایا جو بعد میں ایک طویل عرصہ تک پنجابی فلموں کے لئے” ہاٹ کیک“ کے طور پرکاسٹ ہوتی اور کامیابی کی منزلوں سے تیزی سے گزرتی ہوئی اس مقام تک جا پہنچی، جہاں اس کے مقابلے میں کسی اور اداکارہ کا تصور بھی ناممکن تھا۔ انجمن نے اپنے وقت کے معروف ہیرو سلطان ر اہی، یوسف خاں، اقبال حسن،مصطفی قریشی اور غلام محی الدین کے ساتھ اَن گنت فلموں میں کام کیا اور بابرہ شریف کی طرح ازخود فلمی صنعت سے علیحدگی اختیار کی ۔ ان دونوں اداکاراﺅں نے جس وقت فلمی صنعت کو چھوڑا اس وقت دونوں کی مقبولیت میں ذرا بھی کمی نہیں ہوئی تھی لیکن غالباً وہ اس قدر کام کر چکی تھیں ان کے دل میں مزید فلموں میں کام کرنے کی کوئی خواہش باقی نہیں رہی تھی۔ فطری طور پر کامیاب انسان پر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب وہ اپنے کام میں اکتاہٹ محسوس کرنے لگتا ہے اس کے علاوہ کام کی یکسانیت بھی اُس کے دل میں مزید کام کی خواہش کا گلا گھونٹ کر اُسے ریٹائرمنٹ کی طرف لے جاتی ہے۔ تاہم ایک بات ضرور کہی جا سکتی ہے کہ مقبولیت اور شہرت کے زمانے میں فلمی صنعت کو چھوڑنے والے اداکار اور اداکارائیں فلم بینوں کو عرصہ دراز تک یاد رہتی ہیں۔

بات اداکارہ و ہدایت کارہ سنگیتا سے شروع ہوئی تھی جس نے اداکاری تو کی ، لیکن اس نے بڑی جلدی یہ محسوس کر لیا کہ وہ دوسروں کے اشاروں پر ناچنے کی بجائے دوسروں کو اپنے اشاروں پر نچائے اور فلمی صنعت کے لوگوں کی نظر میں اپنے لئے احترام پیدا کرے تو زیادہ بہتر ہے اور وہ اس میں کامیاب ہوئیں۔ نئے فنکاروں پر مشتمل فلم کو کامیاب بنانے کے لئے اس بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ فلم کی کہانی سکرین پلے اور مکالمے ہر لحاظ سے منفرد اور مستحکم ہوں۔ بلاشبہ اچھا سکرپٹ ہی ہر دور میں فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ اگر سکرپٹ اچھا نہیں ہو گا توکہنہ مشق ہدایت کار اور بڑے بڑے نامور اداکار بھی فلم کو فلاپ ہونے سے نہیں روک سکتے۔ خصوصاً آج کے دور میں جب فلم بینوں کے دل میں اپنے ملک کی فلمی صنعت کے بارے میں کچھ اچھے تاثرات نہیں پائے جاتے اور اپنے ملک میں تیار ہونے والی فلم جب بھی نمائش کے لئے ریلیز کی جاتی ہے تو اس کو دیکھنے کےلئے آنے والوں کی تعداد برائے نام ہوتی ہے۔ کبھی وہ زمانہ تھا کہ ہر نئی فلم کی ریلیز پر اِس قدر رش دیکھنے میں آیا تھا کہ میکلوڈ روڈ اور ایبٹ روڈ پر ٹریفک بلاک ہو جاتی تھی اب اس طرح صورت حال تو ناممکن نظر آتی ہے لیکن اتنا تو ہونا چاہئے کہ فلم کے پہلے شو پر لوگ اسے دیکھنے کے لئے ضرور آئیں اس لئے فلم کی پبلسٹی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اس کے لئے تمام رائج مقبول ذرائع استعمال کر کے ہی مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

مزید : کلچر