ترشاوہ پھلوں کے کاشتکار زمین میں نامیاتی مادہ کی مقدار 2تا 2.5فی صد یقینی بنائیں:محکمہ زراعت

ترشاوہ پھلوں کے کاشتکار زمین میں نامیاتی مادہ کی مقدار 2تا 2.5فی صد یقینی ...

راولپنڈی(اے پی پی) محکمہ زراعت نے ترشاوہ پھلوں کے کاشتکاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کامیاب کاشت کے لیے زمین میں نامیاتی مادہ کی مقدار 2تا 2.5فی صد یقینی بنائیں ۔نظامت زرعی اطلاعات محکمہ زراعت راولپنڈی کے ترجمان کے مطابق ہماری زمینوں میں نامیاتی مادہ کی مقدار ایک فیصد سے بھی کم ہے جبکہ ترشاوہ پودوں کے لیے درکار غذائی عناصر کی کل مقدار کا تقریباً نصف حصہ نامیاتی مادہ کی صورت میں مہیا کیا جانا چاہیے ۔ اس مقصد کے لیے کاشتکار گلی سڑی روڑی اور سبز کھاد کا استعمال کر کے پودوں کی بڑھوتری ،پھل کا معیار اور پیداوارکو بہتر کر سکتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک میں ترشاوہ پھلوں کی پیداوار 40 ٹن فی ایکڑ ہے جبکہ پاکستان میں یہ مقدار 10 ٹن فی ایکڑ ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ سبز کھاد زمین میں موجود نامیاتی مادہ میں اضافہ کر کے زمین کی پیداواری صلاحیت بڑھاتی ہے۔ چھوٹے باغات میں (8 سال تک) سبز کھاد کے لیے فصلات کاشت کی جاسکتی ہیں جبکہ اس کے اگنے کے 60دن بعد جب ابھی نرم حالت میں ہوں روٹا ویٹر کے ذریعے زمین میں دبا کر پانی لگا دینا چاہیے ۔ سبز کھاد کے طور پر کاشت کی جانے والی فصلات میں گوارہ، سن، جنتر، سنیجی، شفتل اور دیگر پھلی دار فصلیں شامل ہیں ۔ پھلی دار فصل کی کاشت سے زمین کی زرخیزی بحال ہوتی ہے اور گرم موسم کا اثر بھی کم ہو جاتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بازار میں دستیاب مہنگی مصنوعی کھادیں باغبانوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں جبکہ ان مصنوعی کھادوں کی وجہ سے زمین کی کیفیت بھی خراب ہو جاتی ہے اور غذائی اجزاءکی پودوں کو ترسیل غیر موزوں ہو جاتی ہے اس لیے کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ سبز کھاد کا استعمال کریں اور پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ قیمتی سرمائے کی بچت کریں ۔

مزید : کامرس