برآمدات کے فروغ میں متعددرکاوٹیں حائل ہیں: میاں انجم نثار

برآمدات کے فروغ میں متعددرکاوٹیں حائل ہیں: میاں انجم نثار

  

لاہور(کامرس رپورٹر) تحقیق کا فقدان، ہنرمند افرادی قوت کی قلت، مالی مشکلات، کمزور انفراسٹرکچر، بیوروکریسی کی رکاوٹیں اور سب سے بڑھ کر بجلی کی بدترین قلت پاکستانی برآمدات کے فروغ کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہیں جنہیں دور کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ بات لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں برآمدات کو فروغ دینے کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مختلف ماہرین نے کہیں۔ سیمینار کا انعقاد لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ لاہور چیمبر کی نائب صدر سعیدہ نذر، ایڈیشنل سیکریٹری کامرس فضل عباس میکن، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے وائس چانسلر ڈاکٹر راشد امجد، لاہور چیمبر کے سابق صدور میاں انجم نثار، افتخار علی ملک، شاہد حسن شیخ، ڈاکٹر جنرل ٹریڈڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کراچی ڈاکٹر محمد عثمان، انسٹی ٹیوٹ کے چیف ریسرچرڈاکٹر اعجاز غنی، ڈاکٹر ڈاکٹر مصلح الدین اور لاہور چیمبر کے چیف اکنامسٹ ڈاکٹر امجد بشیر نے بھی سیمینار سے خطاب کیا۔ ایڈشنل سیکریٹری کامرس فضل عباس میکن نے کہا کہ ہمارے ہاں تحقیق کے کلچر کا فقدان ہے جس کی وجہ سے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہورہا۔ حکومت اور نجی شعبے کو صرف اندرون ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک رکاوٹوں پر بھی خاص توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے وائس چانسلر ڈاکٹر رشید امجد نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور انسٹی ٹیوٹ لاجسٹک سپورٹ میں کمزوریوں، نقل و حمل کی سہولیات اور مینوفیکچرنگ کی سرگرمیوں کے معاملات پر مل کر کام کریں گے کیونکہ برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ان شعبوں کو بہتر بنانا بہت ضروری ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدور میاں انجم نثار ،افتخار علی ملک اور شاہد حسن شیخ نے ایکسپورٹ سے وابستہ صنعتوں کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے بہت سی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حالیہ کچھ عرصہ کے دوران برآمدات میں اضافہ ہوا ہے لیکن صورتحال تسلی بخش نہیں۔ برآمدات مزید بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہونگے۔

مزید :

کامرس -