پاکستان میں اسلامی بینکنگ طلب اور رسد کی بنیاد پر ہے

پاکستان میں اسلامی بینکنگ طلب اور رسد کی بنیاد پر ہے

  

کراچی(اکنامک رپورٹر) پاکستان میں اسلامی بینکنگ طلب اور رسد کی بنیاد پر کی جا رہی ہے،اسلامک بینکنگ کو لازمی قرار دے کر سودی بینکنگ پر پابندی عائدکردینی چاہئے،بینکنگ اور اسلامی مالی نظام کے نفاذکے سلسلے میں ابھی محض 5 فیصد کام ہوا ہے، اسلام دیگر مذاہب کے برعکس خانقاہی مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور انسان کومکمل طور پر اسلامی اصولوں کے مطابق تجارت کا پابند کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہارجامعة الرشید کے ڈائریکٹر ایجوکیشن مولاناعبدالعزیز راجہ نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی)کے دورے کے موقع پر تاجروصنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کاٹی کے چیئرمین احتشام الدین ، آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین، سردار یاسین ملک، سید جوہر علی قندھاری، وائس چیئرمین حشام اے رزاق اورتاجروصنعتکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ مولانا عبدالعزیزراجہ نے کہا کہ پاکستان میں اسلامک فائنانس اور بینکنگ سے متعلق قانون سازی سب سے پہلے 1974 میں کی گئی لیکن اس کو 1984 میں ایوان میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بھی ملک میں اسلامک بینکنگ کو ہی قانونی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے مکمل معاشی نظام دیا ہے جس کو نافذ کرنا ہر مسلمان حکومت کا فرض ہے انہوں نے اعلان کیا کہ جامعة الرشید نے احسن آباد میں اسلامی معاشی نظام پر جدید ترین تربیتی کورس ترتیب دئے ہیںجو انسان کو ایک سچا اور دیانتدار تاجر بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان میں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کورسز بھی شامل ہیں جن میں طالبعلموں کو بینکنگ اور فائنانس ، اکاﺅنٹنگ اوربک کیپینگ ، سپلائی چین ، مارکیٹنگ اور معاشیات کے دیگر شعبوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جامعتہ الرشید میں ایک جدید کیمپس تعمیر کیا گیاہے جس میں جدید تعلیم کی تمام تر سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔انہوں نے اس موقع پر تاجر برادری کے نمائندوں کو یونیورسٹی کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی۔ کاٹی کے چیئرمین احتشام الدین نے کہا کہ ہمارے دینی مدارس نے سائنس ، لٹریچر، انجینئرنگ اور میڈیکل سائنسز کو بلکل فراموش کر دیا ہے۔اس صورتحال میں جامعتہ الرشیدجیسے اداروں کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں۔ پاکستان کے دیگر دینی اداروں کو بھی جامعتہ الرشیدکی طرح اپنے سسٹم میں لچک لاتے ہوئے تعلیم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس موقع پر میاں زاہد حسین نے کہا کہ جامعة الرشیددورِجدید میں دینی اور دنیاوی تعلیم کا حسین امتزاج ہے۔ ہم سب کو چاہئے ہم جامعتہ الرشیدجیسے اداروں کی طرف محبت سے ہاتھ بڑھائیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صنعتکاروں کا ایک وفد جلد ہی جامعتہ الرشید کا دورہ کرے گا۔ سردار یاسین ملک نے اس موقع پر تجویز کیاکہ جامعتہ الرشید کا نام الرشید یونیورسٹی کر دیا جائے اور اس میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کے شعبے بھی قائم کئے جائیں۔

مزید :

کامرس -