مغربی ملکوں میں مقیم مسلمان مقامی معاشروں کا حصہ بنیں، لارڈ نذیر

مغربی ملکوں میں مقیم مسلمان مقامی معاشروں کا حصہ بنیں، لارڈ نذیر

 برمنگھم (جی این آئی )لارڈ نذیر احمد آف رادھرم نے کہا ہے کہ برطانیہ اور یورپ کے دیگر ملکوں میں آباد مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کو مقامی معاشروں میں داخل ہو کر اور ان کا حصہ بن کر سیاسی، سماجی اور معاشی شعبوں میں آگے بڑھنا ہوگا اور نسل پرست تنگ نظر اور تعصب رکھنے والے لوگوں کا یہ منفی پروپیگنڈہ ناکام بنانا ہوگا کہ مسلمان دوسرے معاشروں اور تہذیبوں سے خود کو الگ تھلگ رکھتے ہیں وہ گزشتہ روز برمنگھم مسلم تھنک ٹینک کے ڈاکٹر رشید بھٹی اور چوہدری خالد پرویز کی جانب سے لیبر پارٹی کی رکنیت کی بحالی کی خوشی میں منعقدہ تقریب میں خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میری جماعت لیبر پارٹی نے میرے بارے میں چند غلط اور بے بنیاد باتوں کی مکمل تحقیقات کے بعد مجھے با عزت طور پر بطور لیبر رکن بحال کیا ہے، اس سلسلے میں گو کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں پھر بھی ڈاکٹر رشید بھٹی، خالد پرویز اور دیگر احباب کی محبت اور خلوص پر ان کا شکر گزار ہوں لارڈ احمد نے کہا کہ آج دنیا بھر میں مسلمانوں میں تبدیلی اور بیداری کی نئی لہر پیدا ہو رہی ہے۔ اور مسلمان اپنے اپنے ملکوں میں قائم غیر جمہوری، غیر منصفانہ اور کرپٹ نظاموں کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ آنے والے برسوں میں انشا اللہ بہت سے مسلم ملکوں میں سیاسی، سماجی اور جدید علوم کے انقلاب برپا ہوں گے اور مسلمان دیگر ترقی یافتہ طاقت ور ملکوں کی طرح ترقی، خوشحالی اور، خود انحصاری کی جانب گامزن ہوں گے لارڈ احمد نے کہا کہ ہمارا دین ایک دین فطرت ہے اور ازل سے ابد تک ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم اپنی دنیا کو ماضی کی زنجیروں سے باندھ کر رکھیں، ہمیں اپنی قدامت پسندی، پرانے انداز زندگی اور قدیم سوچوں سے بھی باہر نکلنا ہوگا۔اور دنیا کے نئے نئے علوم، ایجادات اور ترقی کی شاہکار تبدیلیوں سے استفادہ کرنا ہوگا لارڈ احمد نے کہا کہ اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام اسلامی ملکوں سے ڈکٹیٹر شپ، آمریت، کرپشن اور غیر عوامی حکومتوں کو ختم کیا جائے اور مسلمان اپنے اپنے ملکوں کے نظام اور ترقی میں خود اپنا کردار ادا کریں۔

مزید : عالمی منظر