یونان میں پاکستانیوں پرمنظم تشددکے خلاف احتجاجی مظاہرہ

یونان میں پاکستانیوں پرمنظم تشددکے خلاف احتجاجی مظاہرہ

 ایتھنز (جی این آئی )ایتھنز کے علاقہ نیکیا میں خریسی اووگی کی غنڈہ گردی پاکستانیوں پرتشدد اور پاکستانی دکان داروں کو دکانیں بندکرنے کی دھمکیوں کے خلاف نیکیا کے آغیونیکو لاو س پارک میں پاکستانی برادری کی بہت بڑی تعداد کے علاوہ یونانی انسانی حقوق کی تنظیموں، یونانی متعصب مخالف جماعتوں، بائیں بازو کی اتحادی جماعت سیرزا، بائیں بازو کی طلبا تنظیموں کے علاوہ تشدد مخالف اور دیگر جماعتوں کے کارکنان نے احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے نیکیا کے پولیس تھانے کے سامنے تک احتجاج کیا اسی دوران خریسی اووگی کی جانب سے ایک غنڈے نے گالی گلوچ کیا جس کو مظاہرین نے گھیر لیا تاہم کوئی بڑا واقعہ رونما نہ ہوا ایتھنز سمیت یونان کے دیگر علاقوں میں پاکستانیوں کے خلاف منظم تشدد کی وارداتوں اوران کی املاک سمیت مختلف انتہا پسند کارروائیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ایتھنز کے ملحقہ علاقے نیکیا میں نیو نازی نظریات کی حامل جماعت خریسی اووگی کے غنڈوں نے علاقے کے پاکستانی دکان داروں کو ایک ہفتے کے اندر اندر دکانیں بند کرکے اپنے اپنے ممالک چلے جانے کا الٹی میٹم دیا ہے جس کو یونانی میڈیا میں بھی نمایاں کوریج فراہم کی گئی اور خریسی اووگی کے اس غیر اخلاقی اور متشدد رویے کے خلاف رپورٹس شائع اورنشر کی گئی ۔پاکستانیوں کے خلاف ہونے والے متشدد واقعات کے بعد پاکستانی برادری کی مختلف تنظیموں اور یونان کی نسل پرستی کی مخالف جماعتوں کے سیکڑوں کارکنان نے احتجاج کیا اور خریسی اووگی کی غنڈہ گردی کی مذمت کی احتجاج کے شرکا سے پاکستان کمیونٹی اتحاد یونان کے سابق صدر مہر جاوید اسلم آرائیں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خریسی اووگی کی غنڈہ گردی انتہا سے زیادہ ہوگئی ہے اور افسوس ناک امر یہ ہے کہ پولیس ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے جس کی بنا پر ان کو بہت زیادہ شہہ ملتی ہے انہوں نے کہا کہ ایتھنز کی پولیس کا رویہ یہ ہے کہ پاکستانی شہری پر تشدد کے خلاف جب مقامی تھانے میں رپورٹ درج کرانے کے لئے گئے تو وہاں پر پاکستانیوں کی ترجمانی کرنے والے نادر نامی پاکستانی کو بھی گرفتار کرلیا گیا تاکہ وہ خریسی اووگی کے خلاف بیان نہ دے سکے ۔

مزید : عالمی منظر