مغربی کنارے میں اسرائیلی نسلی دیوار کیخلاف ¾آئی سی سی ¾کی قرارداد کو آٹھ سال مکمل

مغربی کنارے میں اسرائیلی نسلی دیوار کیخلاف ¾آئی سی سی ¾کی قرارداد کو آٹھ سال ...

  

رام اللہ( اے این این )عالمی عدالت انصاف کی جانب سے فلسطین کے غرب اردن میں اسرائیل کی تعمیر کردہ نسلی دیوار کےخلاف منظور کردہ قرار داد کو آٹھ سال مکمل ہونے پر فلسطین بھرمیں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ فلسطینی شہری عالمی فوجداری عدالت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ مغربی کنارے میں نسلی دیوار کےخلاف منظور کردہ اپنی قرارداد پر عمل درآمد کرائے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جمعہ کے روز فلسطین کے مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، شمالی فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس سمیت اندرون اور بیرون ملک فلسطینیوں نے ہیگ میں منظور کردہ قرارداد کے حق میں مظاہرے کیے اور عالمی عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ قرارداد پرعمل درآمد کو جلد از جلد یقینی بنائے۔

اس سلسلے میں ایک بڑا احتجاجی مظاہر مغربی کنارے کے مرکزی شہر رام اللہ میں ہوا۔ اس کے علاوہ الخلیل، قلقیلیہ، سلفیت، جنین اور دیگر فلسطینی شہروں میں بھی "آئی سی سی" کی جانب سے منظور کردہ قرارداد کے حق میں مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ رام اللہ میں احتجاجی مظاہرے کے دوران شرکا نے ہاتھوں میں بڑے بڑے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پرمغربی کنارے میں تعمیر کی گئی نسلی دیوار کی تعمیر گرانے کے حق میں مطالبات درج تھے۔رام اللہ میں بعلین کے مطابق پر احتجاجی ریلی پرصہیونی فوج نے اشک آور گیس اور ربڑ کی گولیوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک سترہ سالہ نوجوان سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے۔ مظاہرین بعلین میں تعمیر کی گئی نسلی دیوار کی طرف بڑھنے اور اس پر چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔خیال رہے کہ آٹھ سال پیشترچھ جولائی سنہ دو ہزار چار کو ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت"آئی سی سی" نے فلسطینی علاقے مغربی کنارے میں تعمیر کی گئی نسلی دیوار کو غیر قانونی قرار دے کر اس کی مسماری کا حکم دیا تھا۔ عالمی عدالت انصاف کے مطابق فلسطین میں تعمیر کردہ اس دیوار سے فلسطینی باشندوں کو سنگین نوعیت کی مشکلات کا سامناکرنا پڑا ہے۔ لہذا اس دیوار کو اسرائیل فوری طورپر گرادے۔ عالمی عدالت انصاف کی جانب سے قرارداد کی منظوری کے بعد صہیونی ریاست نے دیوار کی تعمیر روک دی تھی تاہم حال ہی میں اس نے اس کی تعمیر دوبارہ شروع کر دی ہے۔

مزید :

عالمی منظر -