پا نچ ارب 90کروڑ کا ٹیکس ہد ف ایکسائز ملا زمین سر پکڑ کر بیٹھ گئے

پا نچ ارب 90کروڑ کا ٹیکس ہد ف ایکسائز ملا زمین سر پکڑ کر بیٹھ گئے

  

لاہور (شہباز اکمل جندران)پراپرٹی ٹیکس کے 2لاکھ 50ہزار سے زیادہ بااثرنادہندگان اکڑ گئے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ لاکھ کوششوں کے باوجود ٹیکس وصولی میں ناکام ہوگیا ، مالی سال 2011-12کے تخمینے میں پراپرٹی ٹیکس کا حدف 5ارب 80کروڑ روپے رکھا گیا،پھرنظرثانی شدہ تخمینے میں یہ حدف کم کرکے 4ارب 30کروڑ روپے کیا گیا لیکن جواب میں محکمہ 4ارب بھی ریکور نہ کرسکا، حکومت نے مالی سال 2012-13کے لیے 5ارب 90کروڑ روپے کا حدف مقرر کیاتو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین ایکبار پرپھر سرپکڑ کر بیٹھ گئے ہیں، معلوم ہوا ہے کہ مالی سال 2011-12کے دوران ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کاحدف5ارب کروڑ روپے مقرر کیا گیا، لیکن بعدا زاں محکمے کے اعتراض اور احتجاج پر نظر ثانی شدہ ٹارگٹ مقر ر کیا گیا اور یہ حدف 4ارب 30کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے،لیکن جواب میں ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں 4ارب سے بھی کم ریکوری کرسکا ، اور صوبے میں مجموعی طورپر 2لاکھ 50ہزار سے زیادہ نادہندگان سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی نہیں کی جاسکی، معلوم ہوا ہے کہ ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ صوبے میں 7مختلف قسم کے ٹیکس وصول کرتا ہے ان میں پراپرٹی ٹیکس ، ہوٹل ٹیکس ، پروفیشنل ٹیکس، موٹررجسٹریشن فیس و ٹوکن ٹیکس،کاٹن فیس ، ایکسائز ڈیوٹی،اور تفریحی ٹیکس شامل ہیں اور پراپرٹی ٹیکس کے حوالے سے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کا ٹیکس نیٹ مجموعی طورپر12لاکھ سے زائد یونٹوں پر مشتمل ہے،ان میں 5مرلے کے مکانات پر مشتمل 90ہزار یونٹ پراپرٹی ٹیکس کے نادہندہ ہیں جن کے ذمے 50کروڑ سے زیادہ پراپرٹی ٹیکس واجب الادا ہے، ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے یکم جولائی 2004میں 5مرلے کے مکانات کو پراپرٹی ٹیکس سے مستثنیٰ قراردیا،لیکن پانچ مرلے کے مکانات کے ذمے واجبات معاف نہ کئے گئے،لیکن گزشتہ 8برسوں کے دوران ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ پراپرٹی ٹیکس کے ان ایک لاکھ سے زیادہ نادہندگان میں سے مجموعی طورپر محض چندہزار یونٹوں سے ہی ریکوری کرسکا ،جس کے باعث 90ہزار افراد آج بھی 50کروڑ روپے کے نادہندہ ہیں ،اسی طرح صوبے میں شراکتی ملکیت کی حامل جائیدادیں ، بارسوخ افراد، نیم سرکاری ادارے ، کارپوریشنیں،اور مقدمہ بازی میں ملوث افراد پراپرٹی ٹیکس ادا نہیںکرتے،جبکہ نادہندگان کی مجموعی تعداد 2لاکھ 50ہزار سے زیادہ ہے،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کا ریکوری سٹاف باوجود کوشش کے ان نادہندگان سے واجبات وصول کرنے میں ناکام رہا ہے،اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے محکمے کے ترجمان کا کہناتھا کہ نیا ویلیوایشن ٹیبل نافذ نہ ہونے کی وجہ سے محکمہ اپنے حدف کے حصول میں ناکام ہورہا ہے،یہ بات درست ہے کہ مالی سال 2011-12میںپراپرٹی ٹیکس کی وصولی کاحدف پہلے 5ارب 80کروڑ روپے اور بعد ازاں نظر ثانی شدہ حدف 4ارب 30کروڑ روپے مقرر کیا گیا ، اوررواں مالی سال کے لیئے یہ حدف 5ارب 90کروڑ روپے دیا گیا جس کا حصول انتہائی مشکل ہوگا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -