15 پر کال کیوں چلائی ، پولیس نے شہری کو حوالات میں بند کر دیا

15 پر کال کیوں چلائی ، پولیس نے شہری کو حوالات میں بند کر دیا

لاہور (خبرنگار) ہربنس پورہ پولیس نے گھر پر چوری کی پولیس ایمرجنسی 15 پر اطلاع کرنے پر شہری محمد عمران کو حراست میں لیکر پہلے تھپڑوں کی بارش اور بعد میں حوالات میں بند کرکے بوگس کال کے مقدمہ میں ملوث کر دیا عدالت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے شہریو کو آزاد کر دیا، بتایا گیا ہے کہ گلشن پارک کے رہائشی محمد عمران نے جمعتہ المبارک کی شام کو پولیس ایمرجنسی 15 پر کال کی ہمارے گھر میں نامعلوم افراد نے گھر گھس کر چوری کی جس پرآدھا گھنٹہ بعد پولیس موقع پرآگئی اور موقع پر آتے ہی تھانیدار نے پولیس ایمرجنسی 15 پر کال کرنے پر غصے میں آگیا اور شہری محمد عمران کی درخواست پر گھر میں ہونے والی چوری کے بارے کوئی کارروائی کرنے کی بجائے انہیں حراست میں لے لیا اور اہلکاروں کے ہاتھوں تھپڑوں کی بارش کروانے کے بعد حوالات میں بند کر دیا اور پولیس نے ساتھ ہی شہری محمد عمران پر بوگس ایمرجنسی 15 پر کال کرنے کی سزا دیتے ہوئے بوگس کال کرنے کے الزام میں ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت مقدمہ کر دیا شہری محمد عمران کے مطابق پولیس نے اسے رات بھر تھانے کی حوالات میں رکھا اور پینے کیلئے پانی مانگنے پر اہلکاروں نے غلیظ گالیاں دیں جس پر وہ رات بھر تھانے کی حوالات میں بھوکا پیاسا رہا اور رات بھر منتیں کرنے کے باوجود اہکاروں نے اسے پانی تک نہ دیا اور آخر کار اسے آج صبح حوالات سے نکال کر ہتھکڑی لگا کر حوالات میں پیش کر دیا ہے شہری عمران کے عدالت میں پیش ہونے پر عدالت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے تفتیشی افسر کو عدالت میں طلب کر لیا ہے اور پولیس حراست میں پیش ہونے والے شہری محمد عمران کے وکیل صفائی میاں سہیل آصف کی بحث سے اتفاق کرتے ہوئے شہری عمران کو 30 ہزار کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کر دیا ہے۔ عدالت سے رہائی کے بعد شہری عمران نے بتایا کہ اسے کسی پولیس افسر کے سامنے پیش نہیں کیا گیا ہے تھانے میں اہلکاروں نے اسے تھپڑ مارے اور اہلکار دھکے دیتے رہے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1