نیٹو سپلائی تنازع کا حل دونوں ممالک کی ضروریات تھی ، نیو یارک ٹائمز

نیٹو سپلائی تنازع کا حل دونوں ممالک کی ضروریات تھی ، نیو یارک ٹائمز

  

واشنگٹن (ثناءنیوز ) نیٹو سپلائی کی بحالی احسن قدم ہے جس نے پاکستان اور امریکہ، دونوں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید بگڑنے سے بچا سکیں۔ یہ تجزیہ نیویارک ٹائمز نے ایک اداریے میں کیا ہے کہ دونوں ممالک کو نیٹو سپلائی کی بحالی کے فیصلے تک پہنچنے میں بہت وقت لگا لیکن بالآخر کئی مہینوں بعد ایک اچھی خبر سننے کو ملی۔ اخبار کے مطابق اس تنازع کا حل ہونا دونوں ہی ملکوں کی ضرورت تھی اور اس کے نتیجے میں دونوں نے ہی کچھ نہ کچھ حاصل کیا ہے۔'نیو یارک ٹائمز' کے مطابق پاکستان کی جانب سے رسد کو راہداری دینے سے انکار کے باعث امریکہ کو سات ماہ تک افغانستان میں تعینات اپنی افواج کو درکار ضروری ساز و سامان روس اور وسطی ایشیا سے گزرنے والے طویل راستے کے ذریعے بھیجنا پڑا جس پر ماہانہ 100 ملین ڈالر اضافی خرچ ہورہے تھے۔ پاکستان کی جانب سے نیٹو رسد بحال کرنے کے بعد امریکہ نہ صرف اس اضافی خرچ سے بچ جائے گا بلکہ نیٹو افواج 2014 تک افغانستان سے انخلا سے قبل اپنا لاکھوں ٹن سامان اور آلات وغیرہ بھی باآسانی افغانستان سے منتقل کرسکیں گی ۔'نیو یارک ٹائمز' نے لکھا ہے کہ نیٹو رسد کو راہداری دینے سے انکار کی پاکستان نے بھی بھاری قیمت چکائی ہے ۔ رسد کی معطلی پر امریکہ نے پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی مد میں دی جانے والی ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی رقم روک لی تھی جب کہ اس دوران کانگریس نے بھی پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد میں کٹوتیاں کرنے کے لیے بعض اقدامات کیے۔اخبار کے مطابق بظاہر انہی اقدامات کے ذریعے پاکستانی رہنماﺅں کو یہ احساس دلانے میں مدد ملی کہ اس تنازع نے انہیں صرف امریکہ کے ہی نہیں بلکہ نیٹو میں شامل ان 40 سے زائد ممالک کے بالمقابل لا کھڑا کیا ہے جن کی فوجیں افغانستان میں موجود ہیں۔اخبار نے لکھا ہے کہ سیکریٹری کلنٹن نے پاکستان کے مطالبے کے باوجود سلالہ حملے پر معافی مانگنے کے بجائے واقعے میں پاکستانی فوج کو ہونے والے نقصان پر محض افسوس کا اظہار کرکے معاملہ نمٹادیا۔'نیو یارک ٹائمز' لکھتا ہے کہ قوی امکان ہے کہ دونوں ممالک میں موجود ناقدین اس اتفاقِ رائے پر اپنی اپنی حکومتوں کو خوب سنائیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں استحکام لانے اور طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے ۔اخبار کے مطابق اس نئے اتفاقِ رائے نے ایک غیر ضروری بحران کو تو حل کردیا ہے، لیکن دونوں ملکوں کو بداعتمادی سے بھرپور اپنے تعلقات سدھارنے کے لیے اس کے علاوہ بھی مزید بہت کچھ کرنا ہوگا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -