آٹھ کلومیٹر لمبا فلائی اوور !

آٹھ کلومیٹر لمبا فلائی اوور !

لاہور میٹرو بس سروس کو فیروز پورروڈ سے داتا دربار تک بغیر کسی رکاوٹ کے وی وی آئی پی پروٹوکول دیتے ہوئے لے جانے کےلئے حکمرانوں نے قذافی سٹیڈیم سے ایک فلائی اوور اٹھانا شروع کر دیا ہے جو بھاٹی چوک کو بھی پار کرتے ہوئے پیر مکی کے قریب نیچے اترے گا اس طرح میٹرو بس اس طویل ترین پل سے گزرتے ہوئے مسلم ٹاو¿ن، شاہ جمال، اچھرہ، شمع، ایل او ایس، مزنگ چونگی، لٹن روڈ پر جنازگاہ، جین مندر ، ایم اے او کالج، سیشن کورٹس، سیکرٹریٹ، ضلع کچہری، گامے شاہ اور بھاٹی چوک جیسے مصروف ترین علاقوں میں لوگوں اور گاڑیوں کے سروں پر ایسے گزرے گی کہ نیچے اپنی گاڑیوں میں سفر کرنے والے قدم قدم پر آنے والے ٹریفک سگنلوں پر کھڑے اسے حسرت سے دیکھیں گے۔ گویا وہ غریب لوگ جو اپنی گاڑی نہیں رکھتے، وی آئی پی بن جائیں گے۔ یہی میٹرو بس جب دریائے راوی کے نام پر بہنے والے گندے نالے پر پہنچے گی تو وہاں بھی اس کے لئے ایک نیا پل بنانے کافیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس فلائی اوور پر مسافروں کو چڑھانے ، اتارنے کے لئے برقی زینے بھی لگائے جائیں گے، ابھی تک تو کہا جا رہا ہے کہ میٹرو بس کے لئے یہ خصوصی راستہ بائیس ارب روپوں میں مکمل کیا جائے گا مگر واقفان حال جانتے ہیں کہ برقی زینوں، بس سٹاپوں اور انٹیلی جنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم کے تحت جدید ترین ٹریفک سگنلز کی تنصیب کے بعد یہی منصوبہ اصل میں باسٹھ ارب کی رقم کھا جائے گا۔

کیا میں اس منصوبے کا مخالف ہوں، ہر گز نہیں۔ لاہوریوں کو سڑک پر دو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پہلا یہ کہ پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں، جس شہر میں تین سے چار ہزار بسیں چلنی چاہئےں ، وہاں تین سے چار سو چلیں گی تو کیسے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر کے رہنے والوں کو سفر کی سہولت مہیا کر سکیں گی اور دوسرے یہ کہ جیسے ہی آپ اندرون لاہور کی طرف سفر شروع کرتے ہیں، سڑکیں سکڑنا ، تجاوزات اور ٹریفک پھیلنا شروع ہوجاتی ہے۔ پنجاب حکومت نے اپنے قیام کے چار ، ساڑھے چار سال کے بعد اگرایسے کسی ” انقلابی“ منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے تو اس کی مخالفت کیسے کی جا سکتی ہے مگر میری وزیراعلیٰ پنجاب سے درخواست یہ ہے کہ اگر وہ اربوں روپے خرچ کر کے شہر کی مصروف ترین سڑکوں پر فلائی اوور بنا ہی رہے ہیں تو کچھ دیر کے لئے ٹھہر جائیں اور اس کے بعد ہم سب مل کر سوچیں کہ جب ہم اربوں روپے خرچ کرکے اتنا بڑا منصوبہ بنا رہے ہیں تو ا س سے فیض یاب ہونے والوں کی تعداد کیا ہو گی۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ شروع میں ہر پانچ سے دس منٹ کے درمیان ایک بس وہاں سے گزرے گی اور جیسے جیسے رش بڑھتا جائے گا، اسی طرح بسوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا رہے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دوسرے مرحلے میں ہر تین منٹ اور پھر ہر ایک منٹ کے بعد ایک بس فلائی اوور سے گزرے۔ اس طرح اگر یہ فلائی اوور ایک بس اکیس منٹ میں پار کرے گی تو دونوں اطراف میں پورے فلائی اوور پر شروع میں صرف آٹھ سے دس بسیں ہوں گی جو قذافی سٹیڈیم سے داتادربار یا داتا دربار سے قذافی سٹیڈیم کی طرف رواں دواں ہو گی۔ اس فلائی اوور کی تعمیر شروع کرتے ہوئے ستون بننا شروع ہو گئے ہیں مگر کیا ہم لاہور کے ان مصروف ترین علاقوں میں اربوں روپوں سے بننے والے میگا پراجیکٹ کو صرف دس بارہ بسوں تک کے لئے محدود کر دیں گے ، کیا اسے وسائل کا بہترین تو کیا بہتر استعمال بھی کہا جا سکتا ہے، میرا خیال ہے کہ نہیں۔ اگر آپ اس فلائی اوور کو دونوں اطراف میں تین تین لین کا کر تے ہوئے اسے صرف پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے محدود نہ کریں تو ماڈل ٹاو¿ن سے مینار پاکستان تک تمام علاقوں میں ٹریفک کا رش نصف سے بھی کم رہ جائے گا۔ میری عرضداشت کا مقصد یہ ہے کہ اس فلائی اوور کو صرف بسوں کے لئے تعمیر نہ کیا جائے بلکہ دونوں اطراف ایک سے دو لین پرائیویٹ گاڑیوںکے لئے بھی مختص کر دی جائے، جب یہ فلائی اوور قذافی سٹیڈیم سے شروع ہو تو اسے اچھرہ، مزنگ چونگی ، جین مندر اور مال روڈ صرف چار مقامات پر نیچے اور اوپر آنے جانے کے لئے راستے دے دئیے جائیں جس کے بعد یہ فلائی اوور صرف ایک وقت میں دس پندرہ بسوں کے لئے نہیں، مصروفیت کے اوقات میں سینکڑوں دیگر گاڑیوں کے بھی زیر استعمال آجائے گا ۔ وہ لوگ جنہوں نے ماڈل ٹاو¿ن سے اندرون شہر جانا ہے، وہ فیروز پور روڈ، لٹن ر وڈ اور لوئر مال پر رش کا باعث نہیں بنیں گے، فلائی اوور پر پارکنگ اور تجاوزات کی سہولت نہیں ہو گی تو نیچے عام سڑک جیسے مسائل بھی نہیں ہوں گے، اس میں دونوں اطراف انتہائی بائیں جانب کیٹ آئیز یا چھوٹے چھوٹے بیرئیر لگا کے بس لین کو علیحدہ رکھا جا سکتا ہے جس کے بعد عام ٹریفک کے ساتھ ساتھ بس بھی بغیر کسی رکاوٹ کے رواں دواں رہ سکتی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس سے پراجیکٹ کی مالیت میں بہت اضافہ ہوجائے گا لیکن قیادتیں صرف آج کے بارے نہیں ، آنے والے پچاس سالوں بارے سوچتی ہیں، پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد ایک فلائی اوور بنا کرایک طرف شاہ عالم مارکیٹ میں پارکنگ پلازے تک براہ راست راستہ دیا جا سکتا ہے جبکہ باقی تمام علاقے جہاں گنجائش موجود ہے وہاں میٹرو بس کے راستے بغیر کسی فلائی اوور کے بھی بنائے جا سکتے ہیں۔

میں نے اس بات پر میٹرو بس ٹرانزٹ سسٹم کے چیئرمین مہر اشتیاق احمد ایم پی اے سے بھی بحث کی ہے اور ان کاکہنا ہے کہ تینتیس فٹ چوڑائی کا حامل یہ فلائی اوور ہی اربوں روپے سے بن رہا ہے اور جب وہ اس میں تھوڑا سا بھی اضافہ کرتے ہیں تو کاسٹ میں اربوں روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر ایسی ہی بات ہے تو بھی اتنی جلد بازی کی ضرورت نہیں، وسائل کا انتظام ہونے تک اس منصوبے پر کام کو روک دیجئے اوراس کے بعد ایک ایسا پراجیکٹ لاہور کے عوام کو دیجئے جو ان کے ٹریفک کے مسائل کو حقیقی طور پر حل کر سکے۔ چند بسوں کے لئے اتنے بڑے فلائی اوور کی تعمیروسائل کا ضیاع بھی ثابت ہو سکتا ہے اور بعد میں آپ کو اس میں توسیع کرنا پڑی تو وہ بھی آسان کام نہیں ہو گا۔مجھے آپ کی اس خواہش کا بھی علم ہے کہ عام انتخابات سے قبل ، دسمبر تک یہ منصوبہ مکمل کرنا چاہتے ہیں مگر یہ بھی دیکھ لیں کہ محاورے کے مطابق جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے، اتنی جلد بازی میں بننے والا منصوبہ فائدہ دینے کی بجائے گلے ہی نہ پڑ جائے کہ لوگ جب اس منصوبے سے سہولت حاصل کرنے والوں کی ”پر پرسن کاسٹ “ نکالیں گے اسے کسی طور بھی دانش مندانہ قرار نہیں دیں گے اور اگر چند بسوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں ، لاکھوں لوگ بھی اس پر سے روزانہ گزریں گے تو پھر ” پر پرسن کاسٹ “ بہت کم رہ جائے گی ۔ دوسرے ضمنی گزارش یہ تھی کہ میٹرو بس کا ٹرمینل شاہدرہ میں جس مقام پر بنایا جا رہا ہے اس سے چار تعلیمی ادارے متاثر ہو رہے ہیں، اہل علاقہ کے مطابق ان میں دو تعلیمی اداروں پر ابھی کروڑوں روپے لگا کر تعمیر و توسیع کا کام کیا گیا ہے اور اب ان کو فیصل آباد اور قصور منتقل کیاجا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں کو ختم کر کے بسوں کااڈہ بنا دینا ایسے ہی ہے جیسے آپ علاقے سے باغ ختم کر کے کچرا گھر بنا دیں۔ ضرورت کچرا گھروں کی بھی ہوتی ہے مگر کیا باغ ختم کرکے اسے بنایا جانا چاہئے، آپ خود ہی اس کا فیصلہ کر یں۔ شاہدرہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ نے وہاں وعدہ کیا تھا کہ خواتین اور بچوں کا پارک بنے گا مگر وہ وعدہ بھی وفا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ شاہدرہ ایسا علاقہ ہے جہاں کہیں نہ کہیں آپ کو بسوں کے ٹرمینل کے لئے مناسب جگہ مل ہی جائے گی،براہ مہربانی تعلیمی اداروں اور کرکٹ گراو¿نڈ کو ختم ہونے سے بچا لیں، وہاں کے لوگ آپ کی جماعت پر اعتماد کا اظہار کرتے آئے ہیں،ا پنے اوپر اس اعتماد کو برقرار رہنے دیں۔

مزید : کالم