سول سیکرٹر یٹ ، آرائشی پودوں کی آڑمیں لاکھوں روپے کی خوردبرد کا انکشاف

سول سیکرٹر یٹ ، آرائشی پودوں کی آڑمیں لاکھوں روپے کی خوردبرد کا انکشاف

  

لاہور (شہباز اکمل جندران) سول سیکرٹریٹ لاہور میں آرائشی پودوں کی آڑ میں لاکھوں روپے خورد بردکئے جانے کا انکشاف ہوا ہے، سیکرٹریٹ کے کسٹوڈین ویلفیئرونگ کے افسروں نے چیف سیکرٹری پنجاب کا نام استعمال کرتے ہوئے پی ایچ اے سے مفت میں پودے لگوائے اورمبینہ طورپر فنڈز خود کھا گئے،معلوم ہوا ہے کہ مالی سال 2011-12کے دوران سول سیکرٹریٹ کے لانز کی خوبصورتی اور آرائش کے لیے 4لاکھ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا،لیکن شعبہ ویلفئیر ونگ نے چیف سیکرٹری کا نام استعمال کرتے ہوئے پارکس اینڈ ھارٹیکلچر اتھارٹی لاہور پر دباﺅ ڈالا کہ چیف سیکرٹری کا حکم ہے کہ سول سیکرٹریٹ کے مختلف بلاکس میں آرائشی پودے لگائے جائیں جس پر ڈی جی پی ایچ اے کے حکم پر ڈائریکٹر ھارٹیکلچر محمد یعقوب نے سیکرٹریٹ کے اندر مختلف جگہوں پر ڈیٹ پام، ٹراسینیا، گولڈن ٹرانٹا، فرکیریا، کنگی پام، آرسینیا،ننسلا، روززاور دیگر پودے مفت میں لگائے ، لیکن سیکرٹریٹ کے کسٹوڈین ویلفئیر ونگ نے ان پودوں کے لیئے مختص کی جانے والی رقم پی ایچ اے کو دینے کی بجائے مبینہ طورپر خود ہڑ پ کرلی،اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے پی ایچ اے کے ڈائریکٹر ھارٹیکلچر محمد یعقوب کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈیٹ پام ، ٹراسینیا، گولڈن ٹرانٹا، فرکیریا، کنگی پام ، آرسینیا،ننسلا، روززاور دیگر پودے پی ایچ اے کی اپنی نرسری سے حاصل کیئے اورمفت میں سیکرٹریٹ کے اندر یہ پودے لگائے ان کا کہنا تھا کہ پودوں کی ادائیگی کیسے ہوسکتی ہے جب پودے مفت میں نرسری سے حاصل کیے گئے تو پی ایچ اے چیف سیکرٹری سے پیسے کیسے لے سکتی ہے ان کا مزید کہناتھا کہ کنگی پام پی ایچ اے کی نرسری میں دستیاب نہیں ہے یہ پودا بازار سے خریدا گیا ہے ، اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے سول سیکرٹریٹ کے شعبہ ویلفیئر ونگ کے ڈپٹی سیکرٹری صغیر احمد کا کہناتھا کہ پودے پی ایچ اے سے خریدے گئے ہیں اور اتھارٹی کا باقاعدہ ادائیگی کی گئی ہے، جبکہ پی ایچ اے کے ڈائریکٹر ایڈمن ندیم خان کا کہناتھا کہ سول سیکرٹریٹ سے انہیں پودوں کی مد میں کسی قسم کی ادائیگی نہیں کی گئی۔

مزید :

صفحہ آخر -