ہڑتال کے دوران بھرتی کیے گئے 1 ہزار عارضی ڈاکٹر وں کی ملازمت خطرے میں پڑ گئی

ہڑتال کے دوران بھرتی کیے گئے 1 ہزار عارضی ڈاکٹر وں کی ملازمت خطرے میں پڑ گئی

لاہور(جاوید اقبال) ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال کے دوان ایڈہاک اور عارضی بنیادوں پر رکھے گئے ایک ہزار سے زائد ڈاکٹروں کی ملازمت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اکثر ٹیچنگ ہسپتالوں کی انتظامیہ نے نئے ڈاکٹروں کو ڈیوٹی دینے سے روک دیا ہے جس سے ہسپتالوں کے اندر ایک نیا پھڈا شروع ہوگیا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایسا ڈیوٹی پرانہیں آنے والی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور ینگ ڈاکٹروں کے دباﺅ میں آکر کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ینگ ڈاکٹرز نے جمعہ کے روز ہسپتالوں کی انتظامیہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر نئے بھرتی کیے گئے ڈاکٹرز ڈیوٹی پر آئے تو وہ انہیں ان ڈورز میں فرائض سرانجام دینے نہیں دیں گے جس پر ہسپتال کی انتظامیہ نے وارڈ کے باہر پولیس تعینات کر دی ۔ ہفتہ کے روز ہڑتال ختم ہونے میں جب ینگ ڈاکٹرز ڈیوٹی پر واپس آئے تو انہوں نے نئے بھرتی ہوکر آنے والے ڈاکٹروں کوآنکھیں دکھائیں اور انتظامیہ کے دفاتر میں پہنچ گئے جس پر ٹیچنگ ہسپتالوں کی انتظامیہ کے نئے بھرتی کیے گئے ڈاکٹروں کی اکثریت کو ڈیوٹی سے واپس بلا لیا جس کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال کے مطابق ہڑتال کے دوان ایڈہاک ورک چارج اور کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے ایک ہزار سے زائد ڈاکٹروں کی ملازمتیں خطرے میں پڑ گئی ہیں جس کے بعد نئے بھرتی ہونیوالے ڈاکٹروں نے بھی ایڈہاک ڈاکٹرزایسوسی ایشن بنانے پر غور شروع کر دیا۔

مزید : صفحہ اول