پنجاب بار کونسل کے دفتر میں ہنگامہ اور توڑ پھوڑ تشدد کے الزام پر سات وکلاءکے لائسنس معطل

پنجاب بار کونسل کے دفتر میں ہنگامہ اور توڑ پھوڑ تشدد کے الزام پر سات وکلاءکے ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی) پنجاب بار کونسل کے دفتر میں ہنگامہ آرائی ‘ توڑ پھوڑ اور تشدد کے الزامات کے تحت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا نائب صدر عمرانہ پروین بلوچ سمیت سات وکلاءکے لائسنس معطل کر دیئے گئے ہیں۔ پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین رانا آصف سعید کے مطابق جن وکلاءکے لائسنس معطل کیے گئے ہیں عمرانہ بلوچ کے علاوہ حمیرہ بشیر‘ عبدالمجید ڈوگر‘ حافظ طارق‘ شکیلہ رانا‘ حیات کلاسن اور ملک ارشاد بیگ شامل ہیں۔ پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین کے مطابق ان میں سے حمیرا بشیرکیخلاف ایک شکایت بارکونسل میں زیر سماعت ہے جس میں ان وکلاءنے اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بار کونسل کے ارکان نوازش گجر اورم حمد اکرم خان کے علاوہ رانا آصف سعید کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ بارک ونسل کے ملازمین سے مارپیٹ کی۔ فرنیچر اکھاڑ دیا اور شیشے توڑ دیئے۔ رانا آصف نے بتایا کہ اس پر تشدد ہنگامہ آرائی کے فوراً بعد انہوں نے بار کونسل کا اجلاس طلب کیا جس میں ان وکلاءکے لائسنس معطل کرکے معاملات انضباطی ٹربیونل اور پاکستان بار کونسل کو بھیج دیئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں عمرانہ پروین بلوچ سمیت دو تین وکلاءسپریم کورٹ کے وکیل ہیں۔ ان کے ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں کے لائسنس معطل کئے گئے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے لائسنس کی معطل کیلئے معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھیجا گیا ہے۔ رانا آصف سعید نے مزید کہا کہ ہنگامہ آرائی میں آفاق احمد بھی شامل تھا جس کا لائسنس ہائیکورٹ کے ایک ڈپٹی رجسٹرار پر تشدد کے الزام میں پہلے سے ہی معطل ہوچکا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -