آئین پارلیمینٹ سے بالاترہے : عدلیہ پر پارلیمینٹ کی بالادستی کا کوئی جواز نہیں ،چیف جسٹس

آئین پارلیمینٹ سے بالاترہے : عدلیہ پر پارلیمینٹ کی بالادستی کا کوئی جواز ...

  

کراچی (خصوصی رپورٹ، آئی این پی+این این آئی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری نےنے واضح کیا ہے کہ آئین کی پیروی ہر صورت لازم ہے چاہے جو مرضی نتائج ہوں‘عدلیہ کی آزادی پرکوئی سمجھوتانہیں ہوگا‘پارلیمنٹ کی عدلیہ پر بالا دستی کا کوئی جواز نہیں‘اعلیٰ عدلیہ واضح فیصلہ دے چکی ہے سپریم صرف آئین ہے جو پارلیمنٹ سے بالاتر ہے، عہدہ جو بھی ہو قانون سب کیلئے برابر ہے‘ توہین عدالت پر ملک کے چیف ایگزیکٹوکواپناعہدہ گنواناپڑا‘ملکی اورغیرملکی شہری پرریاست کے آئین اورقوانین کی پاسداری لازم ہے‘ اعلیٰ عدلیہ کو اختیارات آئین پاکستان نے دئیے ہیں‘عدالتیں ملکی آئین کی تابع ہیں‘عدلیہ کی آزادی اور تحفظ وکلاءاور ججز کی ذمہ داری ہے ‘ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں‘پرویز مشرف کی لگائی گئی ایمرجنسی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔ وہ ہفتہ کو یہاں وکلا کو پریکٹس لائسنس کے اجرا کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ چیف جسٹس کا تقریب میں پہنچنے پر والہانہ استقبال کیا گیا۔ ہال کافی دیر تک چیف جسٹس کے حق میں نعروں اور تالیوں سے گونجتا رہا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاءکے دلائل پر دئیے گئے فیصلے مستقبل میں نظیر بنتے ہیں اور عدلیہ کی آزادی اور تحفظ وکلاءاور ججز کی ذمہ داری ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی میں چیف ایگزیکٹو کو عہدہ چھوڑنا پڑا۔ ہم نے آئین کا تحفظ کرنا ہے اور آئین کا آرٹیکل 2 اے عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ ہے اور ملک میں آزاد عدلیہ ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتیں ملکی آئین کی تابع ہیں اور ہم میں ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ،عدلیہ کی آزادی پرکوئی سمجھوتانہیں ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل5کے تحت ریاست سے وفاداری تمام شہریوں کی بنیادی ذمے داری ہے۔ملکی اورغیرملکی شہری پرریاست کے آئین اورقوانین کی پاسداری لازم ہے، آئین اورقانون کاتحفظ کیاجائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئین سے متصادم اقدامات کواعلیٰ عدلیہ ختم کرتی رہی ہے۔ یہ آئین ہی ہے جس پرعمل کرنا،حفاظت کرنااورپیروی کرناہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین نے ہی اعلیٰ عدلیہ کو اختیارات دے رکھے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -