خواتین کی تعلیم، ملازمت اور سماجی مسائل

خواتین کی تعلیم، ملازمت اور سماجی مسائل
خواتین کی تعلیم، ملازمت اور سماجی مسائل

  

یونیورسٹی اور کالجوں میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض تعلیمی اداروں میں لڑکوں اور لڑکیوں کا تناسب 50 فیصد ہے اور کچھ ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں، جن میں لڑکیوں کی تعداد 70 فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے اور لڑکے صرف 30 فیصد ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملازمت میں بھی لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت پنجاب نے تمام سرکاری ملازمتوں میں خواتین کاکوٹہ 15 فیصد مقرر کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی محکمے میں 100 آسامیاں ہیں تو 100 میں سے 15 تو لڑکیاں سلیکٹ ہو جائیں گی۔ باقی ماندہ 85 آسامیوں پر اوپن میرٹ کا اطلاق ہو گا۔ بالعموم دیکھا گیا ہے کہ اوپن میرٹ پر بھی لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ تعداد میں کامیاب ہوجاتی ہیں، کیونکہ ان کے مارکس بہتر ہوتے ہیں اور اکیڈمک ریکارڈ میں فرسٹ ڈویژنوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ انٹرویو میں جس امیدوار کی فرسٹ ڈویژنز زیادہ ہوں گی، اس کی کامیابی کا چانس بڑھ جاتا ہے ،کیونکہ انٹرویو میں فرسٹ ڈویژن کے مارکس سیکنڈ ڈویژن سے زیادہ ملتے ہیں۔ اس طرح 100 آسامیوں میں سے محتاط اندازے کے مطابق 60 لڑکیوں کو ملیں گی اور 40 پر لڑکے کامیاب ہوں گے۔

خواتین کا تعلیمی میدان میں لڑکوں کے شانہ بشانہ کامیابیاں حاصل کرنا اور ملازمت میں آگے آنا ایک خوش آئند پیش رفت ہے ،کیونکہ ماضی میں ہمارے ہاں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں کافی پیچھے رہی ہیں۔ ملک کی تقریباً 52 فیصد آبادی کو غیر فعال رکھنا اور معاشی سرگرمیوں میں شریک نہ کرنا کسی لحاظ سے بھی فائدہ مند نہیں ہے، لیکن پاکستان کے مخصوص سماجی حالات اور ذہنی سوچ کی وجہ سے خواتین کے تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے اور لڑکوں کو پیچھے چھوڑنے سے بہت سے سماجی مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے خواتین چند ایسے شعبہ جات میں بھی آگے آرہی ہیں ،جن میں پہلے مردوں ہی کی اجارہ داری تھی۔ قانون اور زراعت کے شعبہ جات میں چند برس پہلے لڑکیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ لڑکیاں ان شعبوں میں بہت کم تعلیم حاصل کرتی تھیں، لیکن گزشتہ چند برسوں میں قانون اور زراعت کے مختلف ڈسپلنز میں خواتین کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافے ہوا ہے۔ ملک کے زرعی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مساوی ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ آرٹس اور سائنس کے دیگر ڈسپلنز میں مختلف کالجوں اور یونیورسیوں میں لڑکیوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ لڑکیاں ایسے شعبوں میں بھی ملازمت کر رہی ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک مردوں تک کے لئے مخصوص تھے۔ مثال کے طور پر زراعت کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے اور ملازمت کرنے والی لڑکیوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ زراعت کے بہت سے شعبے ایسے ہیں جن میں دیہات میں کام کرنا پڑتا ہے، جب آپ آو¿ٹ ڈور کام کرتے ہیں تو آپ کو موافق موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پردے وغیرہ کے چانس کم ہوتے ہیں اور لڑکوں کے ساتھ دیہات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ جون جولائی کی گرمی میں لڑکیوں کو کھیتوں میں جانا پڑے اور تجرباتی فارموں سے ڈیٹا حاصل کرنے کی ڈیوٹی سرانجام دینا پڑے تو اس طرح کی ڈیوٹی کرنا بہت مشکل ہو گا۔ دھوپ میں جانے اور کام کرنے سے لڑکے بھی گھبراتے ہیں تو پھر لڑکیوں کو اس طرح کا کام کرنے کے لئے بہت حوصلے سے کام لینا پڑتا ہے اور اس طرح کی ڈیوٹی کرنے میں انہیں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔

 ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کوئی مشکل کام کرنے کے لئے ذہنی طور پر تو تیار نہیں ہوتے اور جب ہمیں مشکل کام کرنا پڑتا ہے تو ہم اپنی ڈیوٹی درست طریقے سے انجام نہیں دے پاتے۔ علاوہ ازیں ہمارے ہاں ملازمت صرف تنخواہ حاصل کرنے کے لئے کی جاتی ہے، نہ ہمیں شوق ہوتا ہے اور نہ ہی ہم ملک و قوم کی خدمت کے لئے کسی پیشے کا چناو¿ کرتے ہیں۔ ہم دعوے تو ملک و قوم کی خدمت کے کرتے ہیں، لیکن ہماری ملازمت ذاتی لالچ اور مفاد پرستی تک ہی محدود ہو جاتی ہے۔ جب کام کا جذبہ بھی نہ ہو، شوق بھی نہ ہو، حب الوطنی کے نعرے بھی کھوکھلے ہوں تو پھر آسان کام بھی نہیں ہو سکتا۔ مشکل کام کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں لڑکیوں کی تربیت اس ماحول میں کی جاتی ہے کہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ لڑکیاں آسان کام ہی کر سکتی ہیں ، مشکل کام صرف مرد ہی کر سکتے ہیں۔ ہم مقابلہ تو امریکہ اور یورپ کا کرتے ہیں، لیکن ہمارے سماجی حالات ان ممالک سے قطعی مختلف ہیں۔ ان ممالک میں خواتین کو ذہنی طور پر مردوں کے مساوی تسلیم کر لیا گیا ہے، جبکہ ہم زبانی طور پر ہی خواتین کو مردوں کے مساوی سمجھتے ہیں اور ہمارا عمل اس سے مختلف ہے۔

 ہمارے ہاں خواتین جب فیلڈ میں کام کرتی ہیں، بالخصوص نوجوان لڑکیاں تو ہم یورپ کی طرح اسے عام واقعہ نہیں سمجھتے، بلکہ لڑکیوں کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ یورپ میں جو خواتین ملازمت کرتی ہیں، ان کے خاوند یا خاندان کے دیگر افراد بھی ان سے تعاون کرتے ہیں۔ خاوند کے لئے ناشتہ تیار کرنا، برتن دھونا اور گھر کے دیگر کام کرنا صرف خواتین کے ذمہ نہیں ہوتا، بلکہ مرد بھی یہ کام کرتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں جو خواتین مشکل ملازمتیں ا ختیار کرتی ہیں، ان کے لئے گھریلو مسائل بھی ہیں اور انہیں ملازمت کے دوران بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ جب ان خواتین کی شادی ہو جاتی ہے، جنہیں آو¿ٹ ڈور مردوں کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے تو ایسی خواتین کے خاوند اور خاندان کے افراد یہ بات پسند نہیں کرتے اور ان خواتین کو ملازمت چھوڑنا پڑتی ہے۔ اس طرح لڑکوں کا نقصان ہوتا ہے ،کیونکہ اس خاتون کی جگہ پر اگر کوئی لڑکا تعلیم اور ملازمت حاصل کر لیتا تو یہ ملک و قوم کے لئے زیادہ بہتر ہوتا۔

ا گر یہ خواتین شادی کے بعد بھی ملازمت جاری رکھیں تو جب ان کے بچے پیدا ہو جاتے ہیں تو مسائل میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ بہت سی خواتین ایسی ہیں جو بچوں کے ساتھ آفس یا فیلڈ میں آتی ہیں۔ اس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور بچوں کی تعلیم و ترتیب بھی درست طریقے سے نہیں ہو سکتی۔ ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ لڑکیاں تعلیم حاصل کرتے وقت صرف ان پیشوں کا انتخاب کریں جو ان کے میلان، رجحان، گھریلو حالات اور رویوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ایسے پیشوں میں نہ جائیں جن کے انتخاب کے بعد ملازمت میں ان کے لئے مشکلات پیدا ہوں اور انہیں ملازمت چھوڑنا پڑے۔ اس طرح ان کا نقصان بھی نہیں ہو گا اور لڑکوں کی بھی حق تلفی نہیں ہو گی۔ لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں داخلہ لیتے وقت حاصل کی گئی تعلیم کے مطابق ملازمت کے مواقع کے بارے میں تفصیلی علم ہونا چاہیے۔ اگر ان معلومات کے بعد بھی وہ کسی مشکل پیشے کا چناو¿ کرنا چاہیں تو پھر انہیں جرا¿ت، ہمت اور بہادری سے ڈیوٹی سرانجام دینی چاہئے اور لڑکوں کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیے اور فیلڈ میں جانے سے گھبرانا نہیں چاہیے.... والدین کو بھی چاہیے کہ وہ لڑکیوں کو تعلیم دلواتے وقت یہ ضرور دیکھ لیں کہ لڑکیوں کو اس تعلیم کا فائدہ کیا ہو گا اور اگر وہ تعلیم حاصل کرکے ملازمت حاصل کرنا چاہیں تو اس میں کامیاب بھی ہوں گی یا نہیں؟

تعلیم برائے تعلیم حاصل کرنے کا نہ لڑکیوں کو فائدہ ہے، نہ ملک و قوم کے لئے یہ بات سود مند ہے۔ اس طرح لڑکوں میں بھی بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور ان کے لئے ملازمت کے مواقع میں کمی آ رہی ہے۔ ہمارے سماجی رویوں میں بھی تبدیلی آنی چاہیے۔ ہمارے ہاں رشتے طے کرتے وقت لڑکے والے ایم اے یا ایم ایس سی لڑکی ڈھونڈتے ہیں تو اگرانہوں نے ملازمت نہیں کروانی تو پھر ماسٹر ڈگری ہولڈر لڑکی کا رشتہ ڈھونڈنے کا کیا فائدہ؟ جن لڑکوں یا لڑکیوں نے ملازمت نہیں کرنی یا ان میں اتنی ذہنی استعداد نہیں یا ان کی تعلیمی پرفارمنس اوسط درجے کی ہے تو انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس مقابلے کے دور میں ڈگریاں اکٹھی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس طرح والدین کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور تعلیم کے خاطر خواہ فوائد بھی حاصل نہیں ہوتے۔ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کا اگر انہوں نے ملازمت نہیں کرنی تو ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ان کے ہم پلہ تعلیم یافتہ لڑکے نہیں ملتے اور ان کی شادیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم امریکہ اور یورپ کی نقل کرکے لڑکیوں کو مساوی حقوق دلانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہو گی۔ ٭

مزید :

کالم -