ملی یکجہتی کونسل کو سرگرم کیا جائے

ملی یکجہتی کونسل کو سرگرم کیا جائے
ملی یکجہتی کونسل کو سرگرم کیا جائے

  

یہ بات کسی طور پر بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں مذہبی گرفت بہت مضبوط ہے۔ عام لوگوں سے لے کر خواص کے حلقوں تک دینی رجحان غالب ہے۔ عملی کوتاہی کے باوجود نظریاتی اور فکری طور پر ملک کی غالب اکثریت دینی رجحان رکھتی ہے۔ ایک مخصوص محدود طبقہ لاکھ انکار کرے، تشکیل پاکستان کا سبب بھی دینی حوالہ ہی رکھتا تھا....”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“ ....جیسے مختصر جملے کی طاقت ہی تھی، جس نے مشرقی و مغربی پاکستان میں یکجہتی پیدا کر دی۔ زبان، تمدن و ثقافت کے تمام اختلافات معدوم ہوئے، ذرا تصور کیجئے اگر اس وقت یہ نعرہ بلند کیا جاتا کہ ”پاکستان برائے جمہوریت“ یا ”پاکستان برائے معاشی مساوات“ تو کیا پاکستان معرض وجود میں آتا؟ ہر گز نہیں، جو لوگ پاکستان میں ان خیالات کو فروغ دینے میں کوشاں رہے، ان کی تمام مساعی اقتداری قوت رکھنے کے باوجود نقش بر آب ہی ثابت ہوئی، لیکن مقام افسوس ہے کہ مذہبی جذبات رکھنے والی غالب اکثریت کبھی پاکستان میں غلبہ حاصل نہ کر سکی۔ اس کی بنیادی وجہ مذہب کے عنوان سے گروہ بندیوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ غالب اکثریت شیعہ، سنی، حنفی، دیو بندی، سواد اعظم، اہل حدیث کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹی رہی۔ اس انتشاری فکر سے ہمیشہ لادین یا آزاد خیال اقلیت نے فائدہ اُٹھایا۔ اقتدار میں آ کر غالب اکثریت کو مذہبی جنون کا نام دیا اور نسل نو کو مذہب سے بیگانہ کرنے کی سعی لا حاصل کی۔

اس صورت حال سے صحیح فکر رکھنے والے حضرات ہمیشہ فکر مند رہے اور ماضی میں گروہی خلیج کو پاٹنے کی بار ہا مرتبہ کوشش بھی بہت ہوئی، لیکن جمہوریت کا سیاسی سراب تمام مساعی نگلنے میںکامیاب رہا۔ تقریباً دو عشرے قبل ملک میں ملی یکجہتی کونسل کا قیام عمل میں آیا، جو خالصتاً غیر سیاسی اتحاد تھا، لیکن جمہوریت کے سراب نے اس یکجہتی کونسل کو متحدہ مجلس عمل میں بدل دیا اور مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہو سکے۔ حساس قلب کے امین اکابر نے پھر انگڑائی لی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اِس حوالے سے اسلام آباد میں تمام دینی مکاتب کے اکابرین نے جمع ہوکر اتحاد امت اور اسلامی یکجہتی کانفرنس منعقد کی۔ تقریباً سب نے اتحاد پر زور دیا اور .... واعتصموا بحبل اللہ جمعیا ولا تفرقوا....کی آیت پڑھ کر خطابت کے جوہر دکھائے۔اللہ اس اتحاد میں برکت دے اور موجودہ جمہوریت کے خمیر سے دُور رہنے کی توفیق عطا کرے، کیونکہ جمہوریت کے سراب ہی نے ہمیشہ اس اتحاد کو پارہ پارہ کیا ۔

یہاں اس بات کا اظہار بھی ضروری ہے کہ تمام مکاتب فکر کو اس بات پر بھی پوری طرح سوچ بچار کرنی چاہئے کہ موجودہ جمہوریت کی اسلام میں گنجائش ہے بھی یا نہیں۔ اگر ہے تو مثبت نتائج کیوں برآمد نہیں ہوئے؟ اگر اس جمہوریت کی اسلام میں گنجائش نہیں، تو پھر اس سے چپکے رہنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ کراچی جانے کے لئے راولپنڈی کی گاڑی میں بیٹھنا اور کراچی پہنچنے کی آرزو میں خوش ہوتے رہنا حماقت سے کم نہیں۔ ہم نے فرداً فرداً اکثر علماءسے یہی سوال پوچھا اور ہر ایک نے جمہوری نظام کو غیر اسلامی ہی قرار دیا۔ ہماری علماءسے درخواست ہے کہ حوصلہ کریں کہ اگر یہ جمہوری نظام غیر اسلامی ہے تو کھل کر اس کو باطل قرار دیں۔یہ دور حاضر کا اجتہادی مسئلہ ہے۔ اسلام کا سیاسی نظام متعین کریں، سربراہ ریاست خلیفہ یا امام کے چناﺅ کا طریقہ کار وضع کریں۔ یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ آخر ہم شاعر مشرق علامہ اقبال کے فرمان کو قصداً یا سہواً طاق نسیاںپر کیوں رکھے ہوئے ہیں:

گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو

کہ از مغز دو صد خر فکر انسانے نمی آید

اگر پاکستان میں رائج جمہوریت خرمغز لوگوں کو ہی اقتدار عطا کرتی ہے تو اس کو آب حیات تصور کر کے اس کو لنڈھاتے رہنا ، اپنی منزل کو کھوٹا کرنے کے مترادف ہو گا۔ ٭

مزید : کالم