بولوں کہ نہ بولوں

بولوں کہ نہ بولوں
بولوں کہ نہ بولوں

  

کہتے ہیں کہ ایک صحافی بکتا ہے تو قلم کی عزت بھی ساتھ بک جاتی ہے.... جب جنرل اپنی ذمہ داریوں پر عیش و عشرت کو ترجیح دیں تو ملک کا دفاع Compromise ہو جاتا ہے اور قوم کو1971ئ، سیاچن، کارگل، مہران بیس، جی ایچ کیو، ایبٹ آباد اور سلالہ چیک پوسٹ جیسے سانحات اور صدمات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ جب جج Law of Necessity متعارف کراتا ہے، تو قوم اسے کئی دہائیاں بھگتتی ہے اور بھگتتی رہی ہے۔ ایک سول سرونٹ اپنے ذاتی اکاﺅنٹ پر توجہ دے تو انتظامی ڈھانچہ ڈانوں ڈول ہو جاتا ہے۔ جب ایک منتخب نمائندہ کسی کام کے عوض رشوت لے تو عوام کے اعتماد کی دھجیاں بکھر جاتی ہیں۔ جمہوریت، جمہوری نظام، پارلیمنٹ کی بالادستی محض ”بکواس“ محسوس ہوتی ہے۔ یہ باتیں بہت تلخ ہیں، بہت سی جنبیوں پر شکنیں پڑیں گی، لیکن بدقسمتی سے یہ حقائق ہیں، جن پر ہمیشہ مصلحتوں کا پردہ تان دینے کی کوشش کی گئی۔

لیکن ایک شخص نے معاشرے کو ایسا آئینہ دکھایا ہے، جس میں یہ سب قابل فروخت نظر آتے ہیں اور ہیں۔ ہر ادارے کی اعلیٰ ترین سطح سے نیچے تک.... اور اس شخص کا نام ہے ملک ریاض حسین، کوئی اسے ٹھیکیدار کہے، کوئی بلیک میلر کہے، کوئی فراڈ کہے، جو جی میں آئے کہہ لے، لیکن اس نے ہماری کمزوریاں، ہمارے نظام کی خامیاں کھول کر ہمارے سامنے رکھ دی ہیں۔ اب یہ ہم پر ہے کہ اس کی وارننگ پر کان دھریں یا کان لپیٹ کر اپنی خامیوں اور کمزوریوںکو ماضی کی طرح چھپانے کی کوشش کریں اور انہیں مزید پھلنے پھولنے کا موقع دیں یا انہیں دُور کرنے کی کوشش کریں۔ اسے ہی مسئلہ سمجھ لیں یا اس کی نشاندہی پر مسائل کے حل کے لئے کوشش کریں۔ کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے، مَیں اس میں خیر کا پہلو دیکھتا ہوں۔ ملک ریاض نے یہ سب اپنے فائدے کے لئے یا کسی کے کہنے پر کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا، لیکن اس نے ہمیں سنبھلنے کا موقع فراہم کیاہے.... وہ کھاتے پیتے گھر میں پیدا ہوا، لیکن حالات نے ای ایم ای میں کلرک کی نوکری پر مجبور کر دیا اور اس نے کبھی یہ بات چھپائی نہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اسے اپنے گھر کا سامان فروخت کرنا پڑا تاکہ اپنی بیٹی کا علاج کرا سکے۔ اس معاشرے میں ایسے وفاداری فروش بھی ہیں، جو کہتے ہیں کہ جب پاکستان وجود میں آیا تو میرے ابا حضور کے پاس”ٹیوٹا کراﺅن“ تھی۔

کوئی شک نہیں، اس کے خلاف درجنوں مقدمات عدالتوں میں تصفیہ طلب ہیں، اس لئے ان پر اظہار خیال مناسب نہیں۔ یہ فیصلے پر منحصر ہے کہ کہاں تک اور کتنا گنہگار ہے۔ اس نے بحریہ فاﺅنڈیشن کے نام پر رئیل سٹیٹ کا کام شروع کیا اور بڑی موٹی موٹی گردنوں پر، جو اس کے سامنے جھکی رہتی تھیں ، پاﺅں رکھتا کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا گیا اور ایک وقت آیا کہ وہ سیڑھیاں بننے والے سیاست دان،جنرل، ایڈمرل اس کی نظر کرم کو ترستے رہتے ہیں، جس کی جھلک ہم نے دیکھی۔ خاتون اینکر کا انداز سپردگی، مرد اینکر کا خوشامدی انداز اور چمچہ گیری ،انٹرویو کے دوران موصول ہونے والی کال اور میسیج کہ کون کون اس بات پر فخر محسوس کرتا ہے کہ ہمارا نام بھی ”اچھے“ طریقے سے لے لیں، اُس کی نظر کرم کا محتاج رہتا ہے، طاقت ور اداروں کے سربراہ اس کے اشارے پر تعینات ہوتے ہیں، ایکسٹینشن اس کی مہربانی سے ملتی ہے، اس نے ہمیں دکھایا ہے کہ یہ ہم ہیں،یہ ہمارا سیاسی ڈھانچہ ہے، یہ ہمارا نتظامی ڈھانچہ ہے، انصاف کیسے کیا جاتا ہے۔ وہ اپنا تجربہ اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتا، وہ نئے آنے والوں سے کہتاہے کہ تجربے کا کوئی شارٹ کٹ نہیںہوتا۔ محنت،محنت اور محنت ، تم اپنے تجربات اور ناکامیوں سے سیکھو گے۔ وہ خود کو سلطانہ ڈاکو بھی کہتا ہے کہ امیروں سے لے کر ضرورت مندوں کو دیتا ہوں۔ پاکستان بھر میں بحریہ دستر خوان جہاں لاکھوں پاکستانیوں کو اچھا کھانا، عزت کے ساتھ اُن کی انا مجروح کئے بغیر ملتا ہے۔

 وہ کہتا ہے کہ جب مَیں امریکہ کی طرف دیکھتا تھا، برطانیہ کی طرف دیکھتا تھا تو سوچتا تھا کہ پاکستان ایسا کیوں بنا ہے اور آج اس کی بسائی ہوئی بستیاں القاعدہ اور طالبان کی پہنچ سے دور ہیں۔ تجربہ کار آرمی افسران اور ریٹائرڈ سپاہی حفاظتی انتظامات کی نگرانی کرتے ہیں۔ بچے، عورتیں بلا خوف و خطر آزادی سے روزمرہ کے کاموں میں مصروف رہتی ہیں۔ باہر جاتی ہیں، واک کرتی ہیں، بچے رات گئے تک کھیلتے رہتے ہیں، غرضیکہ چوبیس گھنٹے سیکیورٹی کا اعلیٰ انتظام ہے، سکول ہیں، ہسپتال ہیں، لوڈشیڈنگ نہیں ہے،فائر بریگیڈ ہیں، ریستوران ہیں، ہزاروں کنال پر پھیلی ہوئی یونیورسٹیاں زیر تعمیر ہیں، ہر وہ سہولت موجود ہے، جو کسی بھی حکومت کو شہری حقوق کے نام پر اپنے شہریوں کو دینی چاہئے۔ کیا وہ شخص اس سے بھی زیادہ کے لئے Deserve نہیں کرتا، کیا اسے یہ موقع نہیں دینا چاہئے کہ وہ سارے پاکستان کو ایسی پُرسکون، پُرامن بستی بنا دے۔25ہزار کے ورک فورس کو ہینڈل کرنا اور کبھی کسی کو شکایت کا موقع نہ دینا اُس کی انتظامی صلاحیت کا ثبوت ہے۔

جب کبھی مادر وطن نے آواز دی، سیلاب ہو، زلزلہ ہو،کبھی پیچھے نہیں رہا، نکتہ چینی کرنے والے بھی ماننے پر مجبور ہیں کہ رفاہی کاموں میں ملک ریاض حسین سے زیادہ کام پاکستان میں کسی نے نہیں کیا۔ وہ بڑی صاف گوئی سے اعتراف کرتا ہے کہ جہاں کام رکتا ہے،مَیں فائل کو پیسے لگا دیتا ہوں۔ یہ وہ کام ہے،جو ہم ہر روز کرتے ہیں، کرنا پڑتا ہے۔ کسی بھی بڑے سیاسی یا انتظامی عہدےدار سے ملنا ہو تو پیسہ کام کرتا ہے۔ نادرا کے دفتر میں جائیں پیسہ کام کرتا ہے، کچہری میں جائیں پیسہ کام کرتاہے، تھانے جائیں، پیسہ ہے، پارلیمنٹ کی بالادستی کی دھمال ڈالنے والے سرکس کے پھٹے پر اُچھل کود کرنے والے مسخروں سے کام ہو تو پیسہ کام کرتا ہے، بجلی کا میٹر لگوانا ہو، پیسہ کام کرتاہے۔ سوئی گیس کا میٹر لگوانا ہو تو پیسہ کام کرتا ہے۔ پٹواری کے پاس جائیں، پیسہ کام کرتا ہے، لیکن ہم خفت کے مارے کمپلیکس کا شکار اظہارکرنے سے گریز کرتے ہیں، پورے ملک کا مجموعی ماحول ”مینوں نوٹ وِکھا میرا موڈ بنے“ کا عکاس ہے۔

اس نے کوئی سرکاری ، انتظامی منتخب حیثیت مس یوز نہیں کی، عوام کا خون چوس کر باہر بینکوں میں دولت نہیںلے گیا، اس کا جو کچھ ہے یہیں ہے....Give the Devil his Due....اس نے بحریہ ٹاﺅن کو مثالی بستی بنا دیا ہے، اُس نے جس نظام میں ترقی کی، یہ اُس کا بنایا ہوا نہیں ہے، جن کا بنایا ہوا ہے، انہیں کوئی کچھ نہیںکہتا۔ ناانصافی یہ ہے، بے ایمانی یہ ہے۔ مجھے اس پر بھی حیرت نہیں ہے کہ ڈاکٹر ارسلان افتخار سول سروس کا امتحان پاس کئے بغیر پولیس کے اچھے عہدے پر فائز ہو گئے۔ بی ایم ڈبلیو چلاتے ہیں،ہر سال چھٹیاں منانے یورپ جاتے ہیں، فیملی بھی ساتھ ہوتی ہے۔ جیسا مَیں نے پہلے کہا کہ یہ نظام ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں۔ لیکن مجھے حیرت ہے تو اس بات پر کہ چودھری صاحب نے کبھی بیگم صاحبہ سے نہیں پوچھا کہ ارسلان کی لاٹری نکل آئی ہے، الٰہ دین کا چراغ ہاتھ لگ گیا ہے،جو راتوں رات اتنی بڑی تبدیلی۔

ہاں تبدیلی آئے گی ....جب ہم اپنی سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ گھریلو ذمہ داریوں پر بھی توجہ دیں گے۔ ہمارے بچے ہمارے سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ ہمیں انہیں ہر قیمت پر خرابی سے بچانا ہے، وہ ہمارا مستقبل ہیں۔ہمارا ہی نہیں، پاکستان کا مستقبل ہیں۔ اللہ ہمیں، ہمارے اور پاکستان کے مستقبل کو محفوظ ہاتھوں میں رکھے۔

مزید : کالم